تازہ ترین
سری لنکا، مسلمانوں کی لاشیں جلانے پر کشیدگی
سری لنکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے پندرہ مسلمانوں کو دفنانے کی بجائے، اہل خانہ کی مرضی اور اسلامی روایات کے برخلاف ،جلانے پر مسلم برادری شدید برہم ہے۔
سری لنکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر جانے والے افرادکی میتیں اہل خانہ کو لوٹانے کی بجائے محکمہ صحت کے حکام بضد ہیں کہ ایسے تمام افراد کی لاشیں جلا دی جائیں۔ دوسری جانب مسلمان مُردوں کو جلانے کی بجائے اسلامی روایات کے مطابق دفنانے پر زور دے رہے ہیں۔
سب مردے جلائے جائیں
بااثر بدھ بکھشوؤں کی جانب سے اس مہم کے بعد کہ کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر جانے والے افراد کو اگر دفن کیا گیا، تو اس سے زیر زمین پانی آلودہ ہو جائے گا اور وائرس پھیل جائے گا، رواں برس اپریل میں مُردوں کو جلانے کے ضوابط لاگو کیے گئے تھے۔
سری لنکا کے اٹارنی جنرل نے گزشتہ ہفتے 19 مسلمانوں کی لاشیں بھٹی میں ڈال کر خاکستر کرنے کا احکامات جاری کیے تھے۔ ان میں شیخ نامی اس بچے کی لاش بھی شامل ہے، جو اپنی پیدائش کے فقط بیس روز بعد فوت ہو گیا تھا۔ اس بچے کی لاش کو اس کے والدین کی مرضی کے خلاف جلا دیا گیا۔
اہل خانہ کے مطابق پہلے اس بچے کی تدفین کی بجائے اسے جلانے کے لیے ان پر زبردست دباؤ ڈالا گیا، تاہم جب انہوں نے ماننے سے انکار کیا، تو کسی بھی رشتہ دار کی موجودگی کے بغیر ہی بچے کی لاش جلا دی گئی
مسلمانوں کا احتجاج
مسلمان میتیں جلائے جانے پر احتجاج فقط سری لنکا ہی میں نہیں بلکہ دیگر مسلم ممالک میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سری لنکا کے ہم سایہ ملک مالدیپ نے سری لنکا میں کورونا وائرس کی وجہ سے انتقال کر جانے والے مسلمانوں کو اپنے ہاں دفنانے کی پیش کش کی ہے۔
مالدیپ کے صدر ابراہیم محمد صالح اپنی حکومت کے عہدیداروں سے بات چیت میں مصروف ہیں تاکہ سری لنکا میں فوت ہونے والے مسلمانوں کی اسلامی طرز پر آخری رسومات کی ادائیگی میں معاونت فراہم کی جا سکے۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں مالدیپ کے وزیرخارجہ عبداللہ شہید نے کہا ہے کہ مالدیپ اس سلسلے میں سری لنکا کی مدد کے لیے تیار ہے۔
57 رکنی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی مسلمانوں کی لاشیں جلانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سری لنکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوت ہو جانے والے افراد کی میتیں ان کے اہل خانہ کے سپرد کرے تاکہ کہ وہ اپنے اعتقاد کے مطابق ان کی آخری رسومات ادا کر سکیں۔
او آئی سی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، “اسلام میں حرام قرار دیے گئے، اس عمل کے خلاف او آئی سی مطالبہ کرتی ہے کہ تدفین کی اسلامی اقدار کا احترام کیا جائے۔”
برطانوی پارلیمان کے رکن اور لیبر پارٹی کے رہنما افضل خان کی جانب سے ملکی وزیرخارجہ کو ایک مراسلہ تحریر کیا گیا ہے، جس میں سری لنکا میں مسلم اور مسیحی برداری کے تدفین کے حق کی پامالی کی مذمت کی گئی ہے اور یہ مدعا اٹھانے پر زور دیا گیا ہے۔
فضل خان ایک ٹوئٹر پیغام میں لکھتے ہیں”سری لنکا میں مسلم اور مسیحی برادری کو تدفین کا حق نہیں دیا جا رہا ۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے تدفین کی واضح اجازت موجود ہے جب کہ اس خلاف ورزی کے خلاف سری لنکا کی حکومت کوئی قدم اٹھانے میں ناکام ہے۔ میں نے آج وزیر خارجہ ڈومینک راب کو خط تحریر کیا ہے کہ وہ سری لنکا میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک ہوں۔”
حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی مسلمانوں کو تدفین کا حق نہ دینے پرسری لنکا پر تنقید کی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں ایمسنٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا بیراج پٹنیک نے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں حکام مختلف برداریوں میں مزید خلیج پیدا کرنے کی بجائے ان کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔ ایمنسٹی نے کولمبو حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کو اپنی مذہبی اقدار کے مطابق آخری رسومات کی اجازت دے۔
تکلیف دہ تصویر
سوئے ہوئے نومولود شیخ کی تصویر سری لنکا میں مسلم برادری کے تشخص اور حالت کی علامت بن گئی ہے۔ کئی حلقے اس تصویر کے تناظر میں کورونا وائرس سے متاثرہ مسلم افراد کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو غیرانسانی تک قرار دے رہے ہیں۔
سری لنکا میں سابق مسلم قانون ساز علی ظاہر مولانا نے نومولود بچے کی لاش کو جلائے جانے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں #StopForcedCremations کے ساتھ یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں، “میں تکلیف اور صدمے سے نڈھال ہو۔ ہمیں اور کتنا ظلم اور بربریت برداشت کرنا ہو گی؟ ”
علی ظاہر مولانا ایک اور ٹوئٹ میں میں لکھتے ہیں، “کل شب میں بوریلا شمشان گھاٹ کے پاس سے لوگوں کی غیرمعمولی حمایت دیکھنے کے لیے گزرا۔ جب میں جا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ پولیس اہلکاروں کا ایک گروپ پی ٹی کٹس کے ساتھ اس شمشان گھاٹ کے دروازے کے قریب موجود ہے۔ وہاں جبری خاک گری کے خلاف سینکڑوں سفید ربن موجود تھے۔”
مقامی رہنماؤں کے مطابق اختتام ہفتہ پر اس شمشان گھاٹ کے مرکزی دروازے اور بیرونی آہنی جنگلے کی دیوار پر ہزاروں افراد نے سفید پٹیاں باندھ دیں تھیں، جنہیں پیر کے روز حکام نے اتار دیا۔
سری لنکا کے سابق وزیرخزانہ منگالا سماراویرا نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا، “شمشان گھاٹ کے حکام نے پچھلی شب مرکزی گیٹ سے سفید ربن اتارے، جو اس نومولود بچے کی یاد میں وہاں باندھے گئے تھے، جس کی لاش کو اس کے والدین کی مرضی کے خلاف جلا دیا گیا۔”
کورونا کے پھیلاؤ میں اضافہ
جزیرہ ریاست سری لنکا میں اکتوبر سے اب تک کووِڈ انیس کے کیسز میں زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس وقت تک یہاں گو کہ مصدقہ ہلاکتیں تو 152 ہوئی ہیں، تاہم کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تینتیس ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔
سری لنکا کی مسلم کونسل کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں مسلمانوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے، گو کہ وہ 21 ملین آبادی کے ملک سری لنکا میں فقط دس فیصد ہیں۔ کونسل کے ایک ترجمان نے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اب اس خوف سے طبی مدد لینے سے احتراز برت رہے ہیں کہ مبادا انہیں انتقال پر کہیں جلا نہ دیا جائے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تدفین میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔(قومی آواز)
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
