تازہ ترین
گپکار ایلائنس کے کامیاب امیدواروں کو سیاسی پارٹی میں پکڑ کر شامل کیا جا رہا ہے:عمر
[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=af5dg2AJD_o[/embedyt]
کشمیر میں جمہوریت کا قتل ہو رہا ہے،انتظامیہ اور پولیس سے کہا وہ دخل دینا بند کریں
سرینگر: گپکار ایلائنس کے فاتح امیدواروں کو اپنی پارٹی میں طاقت اوردھونس دباکے بل بوتے اور پرشامل کرنے کی روش جمہوریت کا سرعام قتل کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلی جموں و کشمیرعمر عبد االلہ نے آج کہا ہے کہ سیاسی معاملات میں پولیس اور سیول انتظامیہ دخل اندازی سے گریز کریں۔
انہوں نے جمہورہت کی فتح میں جشن منانے والوں سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی لیڈوں کی پکڑ دکھڑ کا سلسلہ بند کرکے ڈی ڈی سی کامیاب امیدواروں کے افراد خانہ کی تنگ طلبی سے باز رہیں۔کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ پولیس کا استعمال کرکے پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ کے کامیاب امیداروں کو زبردستی اپنی پارٹی میں شمولیت کرا رہی ہے۔
عمر عبد اللہ نے مرکزی حکومت اور جموں و کشمیر حکومت پر جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر نے ان چیزوں کی پہلے بھی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ڈی ڈی سی انتخابات کے نتائج کو جمہوریت کی جیت سے تعبیر کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف جمہوری طریقوں کے منفی اقدام کئے جا رہے ہیں۔عمر سنیچر سرینگر میں ایک ہنگامی اورپرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہو کر کیا بڑی مدت کے بعد آپ سے سے ملاقات موقع ہوا ہے،شائد چھلے سال کے بعد تمام پریس کو ایک ساتھ بات کرنے کا موقعہ آج ملا ہے۔جموں و کشمیر کے سابق ویزر اعلیٰ نے کہا حال ہی میں حکومت نے یہاں ضلع ترقیاتی انتخاب کونسل (ڈی ڈی سی) منعقد کرائے جن کے نتائج سب کے سامنے ہیں کس نے کتنے سیٹ لئے سب کو معلوم۔نتیجے کیا آیا وہ بھی سب کے سامنے ہیں۔عمر نے کہا کس ضلع میں کس کو کتنی اکثر یت ملی ہے وہ بھی کوئی ڈھکی چبی بات نہیں ہے۔
انہوں نے کہابی جی پی کے ترجمان اور باقی لیڈران ان انتخابات کو منعقد کرنے جمہوریت کی جیت کہا ہے۔اور آج بھی وزیر عظم نرندری مودی نے ان انتخابات کے حوالے سے کافی باتیں کافی باتیں کی ہے۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کیا اگر واقعی جمہوریت کی جیت ہوئی ہے تو جمہوری طریقہ کار کو پنایا جانا چاہے اور اگلام قدم بھی جمہوری طریقے سے لیا جائے جوبد قسمتی سے نہیں ہو رہا ہے جس بات کا ہمیں افسوس ہے۔
عمر عبد اللہ نے کہاکہ ”حکومت کے کچھ افسران نے نے کس کی کمانڈ پر یہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ نتائج سامنے آنے کے بعد دخل دینا شروع کیا ہے، گرفتاریاں،پکڑ دھڑ،دھمکیوں کا کام شروع کیا ہے جس کا مقصدصرف یہی ہے کہ جن اضلاع میں ایلائنس کی جیت درج ہوئی ہے اب وہ پکڑ دکڑ کے ذریعے سے نتائج کو تبدیل کر سکتے ہیں تاکہ ڈی ڈی سی چیرمین کو ایلائنس کو چھوڈ کر دوسری پارٹی کو بنا سکتے ہیں،اور اس پر زور و شور سے کام چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا اس کام کی شروعات شوپیان ضلعی سے کی ہے جہاں سے میرے 2ساتھی وچی کے سابق ایم ایل سی شوکت احمد گنائی اور شوپیان سگمنٹ انچارج شبیر احمد کلی جو بار کے صدر کے علاوہ پارٹی کے سینئر لیڈر بھی ہیں کو وہاں سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔شبیر احمد کلے پانچ اگست 2019ء میں بند نہیں کیا گیا ہے اگر انہیں اس دن گرفتار یا حراست میں لیتے تو ہم مان لیتے ہیں اور آج نتائج آنے کے بعد انہیں بند کیوں کیا گیا ہے؟ انہوں نے کہاآج کہا جاتا ہے کہ انہیں احتیاطی حراست میں رکھنے کاکا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا وہاں کے جیت درج کرنے والے لوگوں کو سرینگر لا کراپنی پارٹی میں شامل کیا جاتا ہے۔ان میں آزاد،کانگریس،پی ڈی پی اورنیشنل کانفرنس کے امیدوار بھی شامل ہیں۔سابق ویزاعلیٰ نے بتایا کل انہوں نے دیکھا ہے کہ این سی کے نشانے پر ایک خاتون امیدوار جیت کے آئی ہے جس کا نام یاسمینہ ہے کو بھی زبردستی اپنی پارٹی میں شامل کیاگیا ہے۔انہوں نے کہامیں اس لئے زبردستی کہہ رہا ہوں کیوں کہ کل میرے ایک ساتھی نے یہاں فون کال کو ریکارڑ کیا ہے۔اس دوران عمر عبد اللہ نے اس ریکاڈنگ کو بھی پریس کانفرنس موجود نامہ نگاروں کو سنایا ہے۔
انہوں نے کہا اس ریکاڈنگ کے بعد یہ پتہ چلا ہے کہ”حکومت پولیس اور انتظامیہ کے کچھ لوگوں کوگرفتار کروا کر پھر چھوڑنے کی قمیت اپنی پارٹی میں جائن کرنے کے طور چکانی پڑ رہی ہے“۔ان کا کہنا تھاجس شخص کو گرفتار کیا گیا ہے اسکے بیوی کے بھائی کو پکڑا گیا ہے۔خاتونکے شوہر کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی بیوی کو جائن کرو اور تین دن کے اندر اندر اسے رہا کیا جا ہے گا“۔
عمر عبد اللہ نے کہا ایک بارپھر جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا اگر پارلیمنٹ یا اسمبلی میں اینٹی ڈیفکشن ہے تو پنچائتوں میں بھی ہے۔یہاں بھی وہ قانون لگنا چاہے۔پھر نئے سرے سے انتخابات کرائے ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کون کہاں پر کھڑا ہے،۔انہوں نے کہا ہے یہ جمہوریت نہیں ہے۔
عوام نے اپنا فیصلہ سنایا آپ قبول کریں اور یہی جموریت کا دستور ہے کہ لوگوں کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے۔انہوں نے کہااگر ہم ہار جاتے ہم نے قبول کیا ہوتا۔انہوں نے کہا کشمیرمیں زیادہ تر نشست ایلائنس کو ملی ہے بی جے پی،اپنی پارٹی دونوں سرکاریں یہ کیوں تسلیم نہیں کر رتے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا ہم اس پریس کانفرنس میں میں دنوں جموں و کشمیرکی حکومت اور دلی کو کہنا چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ساتھ کھلاڑ نہ کریں جموں و کشمیر نے اس کے لئے قیمیت چکائی ہے۔
انہوں نے کہا وزیر عظم خود کہتے ہیں جمہوریت کی جیت ہے دوبارہ زندہ کیا ہے مہر بانی کر کے یہاں کے سیول انتظامیہ اور پولیس کو کہئے کہ وہ ان چیزوں میں دخل نہ دیں۔ انہوں مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار دونوں پارٹی لیڈران و فوری طور رہا کیا جائے جیت درج کرنے والے امیداروں کے کنبوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔(کے این ایس)
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
