تازہ ترین
سردیوں میں ”لامحدود“الیکٹرانک گیجٹس کے استعمال سے بجلی کی مناسب فراہمی متاثر
صارفین اگر بجلی چوری سے اجتناب کریں گے تو سسٹم میں بہت حد تک بہتری آسکتی ہے۔ چیف انجینئر اعجاز ڈار
خبراردو
سرینگر:کشمیر پاور ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) کے چیف انجینئر اعجاز احمد ڈار نے بجلی محکمے کی جانب سے موسم سرما کے دوران بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صارفین کو مناسب اور شیڈول کے مطابق بجلی فراہم کررہا ہے لیکن برقی آلات کے بے تحاشا استعمال کے باعث بجلی کا سپلائی نظام تشویشناک حد تک متاثر ہورہا ہے۔
کے این ایس کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن صبح اور شام کے اوقات میں مرحلہ وار شفٹوں میں 1500میگا واٹ بجلی سپلائی کررہا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمیں بجلی کی سپلائی کی ضرورت بہت زیادہ ہے لیکن مگر یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ پورے کشمیر میں صارفین سردیوں کے دوران غیر مناسب طریقوں سے بجلی پر چلنے والیآلات اور گیجٹس استعمال کر رہے ہیں اور اس عمل سے خود بخود بجلی کا سپلائی نظام بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
چیف انجینئر مسٹر ڈار نے بجلی کٹوتی سے پیدا ہورہی پریشان کن صورتحال کیلئے صارفین کو ہی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ صارفین غیر قانونی طور بجلی کا استعمال کررہے ہیں جس کی وجہ بجلی کا پورا سسٹم متاثر ہوتا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا ہمارا محکمہ مختلف مراحل پر ذرائع ابلاغ کے ذریعے صارفین کو بجلی کا مناسب استعمال کرنے کے بارے میں آگاہی فراہم کررہا ہے اور میں صارفین سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دانشمندی کے ساتھ بجلی کا استعمال کریں جبکہ صارفین کو چاہیے کہ وہ بجلی چوری سے اجتناب کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر وادی کشمیر میں صارفین بجلی کا مناسب طریقے سے استعمال کریں گے تو میں وثوق سے کہتا ہوں کہ وادی کے تمام حصوں کو بجلی سپلائی سے فائدہ پہنچے گا۔مسٹر ڈار نے کہا کہ سردیوں کے دوران صارفین کی اصل مانگ کو پورا کرنے کے لئے محکمہ کو 2200 میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے لیکن محکمہ صرف 1500میگا واٹ ہی بجلی فراہم کرنے کا اہل ہے اور اس طرح صارفین کی مانگ پورا کرنے کیلئے ہمارے محکمے کو 700میگا واٹ بجلی کی کمی ہے لہذا سماج کے ہر ایک فرد کو عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے قلیدی رول ادا کرنا ہوگا۔
مختلف علاقہ جات میں بجلی کی تقسیم کاری نظام کے بارے میں انہوں نے کہا صرف 40 فیصد علاقوں میں میٹر نصب کئے گئے ہیں اور مزکورہ علاقوں میں صارفین بجلی کا مناسب طریقے سے استعمال کررہے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ غیر میٹر والے علاقوں میں غیر قانونی طور پر بجلی کا استعمال ہورہا ہے اور یہی وجہ ہے بجلی کا نظام درہم برہم ہوکے رہ جاتا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں منسلک اداروں کے ملازمین شہر و دیہات کے ہر حصے کو میٹڈ زون کے تحت شامل کرنے کی مہم چلائیں گے اور اس مہم کو مرکزی معاونت والی اسکیم کے تحت اٹھایا جائے گا اور اس عمل سے نہ صرف بجلی کی ضرورت 2200میگاواٹ سے کم ہوکر 1700 میگاواٹ تک رہ جائے گی بلکہ اسے محکمہ کو سالانہ اچھی خاصی آمدنی بھی حاصل ہوگی۔
بجلی کٹوتی شیڈول کے بارے میں چیف انجینئر نے کہا کہ شہر سرینگر میں ہمارے پاس تین سلاٹ ہیں جہاں ہمارے پاس کچھ علاقوں کو چھوڑ کر 1.5گھنٹے کی کٹوتی ہوتی ہے اور بعض اوقات اضافی لوڑنگ کی وجہ سے بجلی سپلائی میں مزید کٹوتی کی جاتی ہے۔ متعدد علاقوں میں گھنٹوں کے اندر ہی خراب پڑے ٹرانسفارمروں کی واپسی کے حکومت کے وعدوں کے بارے میں جب پوچھا گیا تو ڈار نے کہا کہ کچھ ایسے معاملات ہوسکتے ہیں جہاں خراب ٹرانسفارمروں کی بحالی میں کچھ دن لگ جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہری علاقوں میں ایسے ٹرانسفارمرں کو 24گھنٹوں کے اندر ہی ٹھیک کیا جاتاہے جبکہ دیہی علاقوں کو 48گھنٹوں کے اندر اندر مزکورہ ٹرانسفار واپس مل جاتے ہیں۔کشمیر نیوز سروس کو انہوں نے کہا کہ پی ڈی ڈی کے پاس اس وقت اسٹاک میں 500 نئے ٹرانسفارمر ہیں جبکہ 200کے قریب ٹرانسفارمرں کو پہلے ہی ضرورت مند علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
غیر قانونی اور چوری سے بجلی کے استعمال کرنے والے صارفین کے بارے میں چیف انجینئر اعجاز احمد ڈار نے کہا کہ محکمہ کے پاس ایک خصوصی دستہ ہے جو بجلی کے غلط استعمال،بجلی چوری اور غیر رجسٹرڈ شدہ صارفین کی نگرانی کررہا ہے تاہم انہوں نے کے این ایس کو مزید بتایا ہمارے پاس18 ڈویڑن ہیں جن کے لئے ہم نے 25خصوصی دستے تشکیل دئیے ہیں جو باقاعدگی سے بجلی کے غلط استعمال کا معائنہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ بھی اس طرح کی مہم جاری رکھی جائے گی۔
چیف انجینئر پاور کارپوریشن نیمزید بتایا کہ محکمہ نے صرف ان کاروباری لوگوں کی سپلائی کاٹ دی ہے جو ڈیفالٹرز ثابت ہوئے تھے تاہم انہوں نے صارفین کو مشورہ دیا کہ جو لوگ ایک ہی وقت میں واجب ادا بجلی فیس ادا نہیں کرسکتے ہیں وہ قسطوں میں بھی ادا کرسکتے ہیں محکمہ میں کام کررہے ڈیلی ویجروں کی التواء میں رکھی گئی اجرتوں اور ڈیوٹی کے دوران زخمی ہونے یا لقمہ اجل بنے کے بعد محکمہ کی جانب سے امداد فراہم کرنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کے مزدوروں کی زیر التوا اجرتوں کو بحال کرنے اور انکی نوکریوں کی حفاظت کے لئے جلد ہی محکمہ انشورنس پالیسی لے کر آئے گا اور مزکورہ پالیسی کی تجویز حکومت کو پہلے ہی ارسال کی گئی ہے اور اس بارے میں محکمہ پہلے ہی معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس پی اوز) تیار کر چکا ہے تاکہ محکمہ میں کام کررہے مزدوروں کے ساتھ کل کوئی اگر ناخوشگوار واقعہ پیش آئے گا انہیں اس انشورنس اسکیم کے زمرے میں لایا جاسکے گا تاہم انہوں نے محکمہ میں سہولیات کو بڑھانے میں وسیع تعاون پر لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا جبکہ صارفین کو معقول بجلی کی فراہمی کے لئے محکمہ کے ملازمین کی دن رات کی ڈیوٹی پر ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے آخر میں صارفین سے بجلی کا منصفانہ طریقے سے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طریقوں سے ہوکنگ اور بجلی چوری سے دور رہنے کی اپیل کی۔(کے این ایس)
دنیا
کیف کے قریب گودام پر روسی حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک
کیف، یوکرین کے دارالحکومت کیف کے باہر بوچا ضلع میں ایک گودام پر رات گئے روسی حملے کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ حملے کے بعد گودام میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے۔
کیف کے علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے ہفتے کے روز بتایا کہ ’’بدقسمتی سے، موجودہ صورتحال کے مطابق 27 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ تعداد حتمی نہیں بھی ہوسکتی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دمتریوسکا گاؤں کے میئر تاراس دیدیچ بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کیف کے مغربی مضافات کے قریب واقع ایک گودام کو روسی ڈرون نے نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے۔
تکاچینکو نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 50 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ گھروں اور ایک ریستوران تک پھیل گئی۔
یوکرینی پراسیکیوٹرز کے مطابق گودام میں ’’دھماکہ خیز مواد‘‘ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مجرمانہ غفلت کے امکان کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کاروباری ادارے کے احاطے میں دھماکہ خیز مواد اور دیگر اشیا ذخیرہ کرنے کی قانونی اجازت تھی یا نہیں، اور متعلقہ کمپنی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کے پاس ضروری اجازت نامے اور منظوری موجود تھی یا نہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ میلا گاؤں میں ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا جس کے ’’بعد دھماکہ ہوا‘‘۔ انہوں نے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم تصدیق کی کہ اس واقعے پر فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا، ’’اس حوالے سے ضوابط موجود ہیں، گولہ بارود گھروں یا دیگر رہائشی علاقوں کے قریب ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
دونوں ممالک نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ اور شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کیف کے علاقائی گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملے میں 42 افراد زخمی ہوئے جبکہ بوچا ضلع سے 380 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم سرہی کوریٹسکی نے کہا کہ جولائی میں کیف کے قریب ویشنِیوے میں گولہ بارود کے ایک ڈپو پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔
اس حملے کی تحقیقات میں سرکاری ملکیت والی ایک کمپنی کی جانب سے گولہ بارود کو رہائشی عمارتوں سے مناسب فاصلے پر ذخیرہ کرنے کے حفاظتی معیار پر عمل نہ کرنے کی سنگین خامیاں سامنے آئی تھیں۔
کوریٹسکی نے ٹیلی گرام پر کہا، ’’مکمل پیمانے پر حملے کے پانچویں سال میں بار بار وہی غلطیاں دہرانا مجرمانہ غفلت ہے۔ ذمہ دار ہر شخص کو، کسی استثنا کے بغیر، سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ کبھی پیش نہ آئیں۔‘‘
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے جمعہ کی رات سے ہفتے کی صبح تک یوکرین پر کم از کم دو میزائل اور 267 ڈرون داغے۔
گودام پر حملے کے علاوہ ہفتے کی صبح روسی حملوں میں جنوبی اودیسا خطے میں ایک شخص اور کیف کے مضافاتی علاقے بوریسپِل میں ایک 14 سالہ لڑکی بھی ہلاک ہوگئی۔
دوسری جانب روس کے بیلگورود خطے میں یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
روس کے زیرانتظام جزیرہ نما کریمیا کے شہر سیواستوپول میں بھی یوکرینی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ شہر کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل راز ووزایف نے یہ اطلاع دی۔
روس اور یوکرین گزشتہ کئی ماہ سے ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک حملوں میں شدت لا رہے ہیں اور ان حملوں میں لاجسٹکس گوداموں، تیل تنصیبات اور بندرگاہوں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
تہران، صدرِایران مسعود پزیشکیان نے اپنے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات کا سرکاری ٹیلی ویژن پر جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں کی گئی بات چیت میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ‘معاہدہ شدہ نقشے کی بنیاد پر’ دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا، ‘موجودہ مذاکراتی عمل میں ہرمز کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس روڈ میپ کو ایران کے رہنما آیت اللہ مُجتَبٰی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قوتیں اور مذاکراتی ٹیم میں شامل ہمارے بھائیوں نے بھی اسے منظور کیا۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘اگر یہ راہداری اسی دائرہ کار کے تحت کھولا جائے تو امریکہ کو بھی اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو بحری محاصرے اور پابندیوں کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا اور اسرائیل پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان میں اپنے اقدامات روک دے۔
پزیشکیان نے کہا، ‘آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل اسلام آباد مفاہمت نامہ میں بیان کردہ اور مخالف فریقین کے قبول کردہ دائرہ کار کے مطابق ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔’
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا، ‘ہمیں اپنے محبوب اور شہید سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات کی بنیاد پر سفارتکاری کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہیے، اگرچہ ان تعلقات میں ہم آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘ایران کے زیادہ تر ہمسائے اسلامی ممالک ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ایک مشترکہ زبان تلاش کرنی چاہیے، اور خطے کی سلامتی کو مل کر یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بات چیت اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔ ہم پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے زمین تیار ہے، ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
