تازہ ترین
پیر پنچال کے آر پار بھاری برفباری کا تیسرا دن
جنوبی کشمیر زیادہ متاثر،سرینگر میں ریکارڈ برفباری
مسافر طیارے گراؤنڈ،شاہراہیں بند،نظامِ زندگی مفلوج،کئی ایڈ وائزریاں جاری،لوگوں سے تعاؤن طلب
خبراردو
سرینگر:پیر پنچال کے آر پار منگل کے روز مسلسل تیسرے روز بھی برف باری کا سلسلہ دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا جسکے نتیجے میں وادی کشمیر میں نظام ِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوا جبکہ زونی مر سرینگر میں ایک رہائشی مکان کو نقصان پہنچا۔سرینگر کے بین الا قوامی ائر پورٹ پر مسلسل تیسرے روز بھی سبھی پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ سرینگر۔جموں شاہراہ سمیت بین الضلعی سڑک رابطے بھی بند ہیں۔
اس دوران سڑکوں اور شاہراہوں سے برف ہٹانے کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے،تاہم مسلسل برفباری کے سبب اس میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ادھر صوبائی انتظامیہ نے کئی ایڈ وائزریاں جاری کیں،جن کے تحت صارفین کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کے کوٹے میں کمی لانے کا اعلان کیا گیا جبکہ نجی گاڑیوں کی غیر ضروری نقل وحرکت پر روک اور لوگوں سے تعاؤن طلب کیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر کا مسلسل تیسرے روز بھی منگل کو بھاری برفباری کے سبب بیرونی دنیا سے زمینی اور فضائی رابطے منقطع رہے۔سرینگر کے بین الاقوامی ائر پورٹ پرمسافر طیارے گراؤنڈ کردئے گئے۔ائرپورٹ حکام نے بتایا کہ مسلسل برفباری،خراب موسم اور حد نگاہ کم ہونے کے سبب منگلوار کو سرینگر سے پروازیں بھرنے والے مسافر طیاروں کے شیڈول کو پہلے معطل اور بعد ازاں منسوخ کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہوائی سروس کو بحال کرنے کے لئے ”رن وے“ سے برف ہٹانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،تاہم موسم میں بہتری آنے کیساتھ ہی یہ سروس بحال کردی جائیگی۔ادھر پروازوں کی آوا جاہی منسوخ ہونے سے مسافروں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے۔اس دوران سرینگر۔
جموں شاہراہ بھی منگل کو مسلسل تیسرے روز بند رہی۔حکام نے بتایا کہ جواہر ٹنل کے آر پار 3فٹ برفباری ہوئی جسکی وجہ سے یہ شاہراہ ٹریفک کی آمد ورفت کے قابل نہیں رہی۔شاہراہ بند ہونے سے 4500مسافر ومال بردار گاڑیاں شاہراہ کے مختلف مقامات پر درماندہ ہیں۔
270کلو میٹر لمبی سرینگر۔جموں شاہراہ واحد زمینی رابطہ ہے، جو کشمیر کو بیرونی دنیا سے جوڑتی ہے۔شاہراہ مسلسل بند رہنے سے کشمیر میں غذائی اجناس اور دیگر اشیاء ضروریہ کی سپلائی متاثر ہوئی کیوں کہ درماندہ گاڑیوں میں بیشتر ٹرکیں بھی شامل ہیں،جو کشمیر اشیاء ضروریہ لے کر آرہی تھیں۔حکام نے بتایا کہ شاہراہ سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے،تاہم مسلسل برفباری کی وجہ سے اس میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات پر پسیاں گر آنے کیساتھ ساتھ لینڈ سلائڈنگ ہوئی اور کئی مقامات پر پہاڑی سلسلہ بھی کھسک آیا ہے۔وادی کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان کو پونچھ اور راجوری سے جوڑ نے والا تاریخٰ مغل روڑ بھی بھاری برفباری کے سبب بند ہے۔ادھر سرینگر۔لہیہ شاہراہ کو 31دسمبر کے روز آئندہ چار مہینوں کے لئے بند کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق گرمائی دارلحکومت سرینگر میں ریکارڈ برفباری ہوئی۔
شام چار بجے تک سرینگر میں ایک سے ڈیڑھ فٹ برف جمع ہوئی تھی۔سرینگر میں منگلوار کو دن بھر وقفے وقفے سے برفباری ہوتی رہی۔دوپہر ایک بجے سے دو بجے تک برفباری ایک گھنٹے کے لئے تھم گئی،تاہم منگلوار کو سرینگر میں دن بھر برفباری ہوئی جسکی وجہ سے شہری گھروں میں محصور ہوئے۔شہر میں بھاری برفباری کے سبب ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی متاثر ہوئی۔سرینگر میں یہ ریکارڈ توڑ برفباری ہوئی۔گزشتہ سرینگر میں ڈیڑھ فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی۔رواں برس یہ برفباری گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
شہر میں بیشتر بازار بشمول تجارتی مرکز لالچوک بند رہا۔منگلوار کے روز سرینگر میں مجموعی طور پر تجارتی وکاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔گاڑیوں کی آمد ورفت میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔سڑکوں پر پھسلن پیدا ہونے سے گاڑیاں ہچکولے کھانے پر مجبور ہورہی تھیں۔
اگرچہ دوپہر تک سرینگر میں پبلک ٹرانسپورٹ دوڑتا نظر آیا،تاہم دوپہر کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوا۔شہر سرینگر کی گلی کوں میں برف جمع ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ نشیبی علاقے آب آنے سے لوگوں کو عبور ومرور میں مسائل کا سامنا ہے۔سرینگر کے میئر جنید متو کا کہنا ہے کہ صبح7بجے سے ہی ایس ایم سی عملہ شہر میں برف ہٹانے کے حوالے سے مصروف عمل ہوجاتا ہے جبکہ پانی کی نکاسی کے لئے85ڈیواٹر پمپ نصب کئے گئے جن میں 35موبائل پمپ ہیں۔محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ میں منگلوار کی صبح تک29.8سینٹی میٹربرف جمع ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ48گھنٹوں کے دوران وادی کشمیر میں کل ملاکر80سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق جنوبی کشمیر میں واقع مشہور معروف سیاحتی مقام پہلگام،جوکہ امرناتھ یاتریوں کا بیس کیمپ بھی ہے،میں اس عرصے کے دوران 18سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ کوکرناگ میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران26سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔
ادھر محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق وادی کشمیر کے مشہور ومعروف سیاحتی مقام گلمرگ میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران20سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ یہاں منگلوار کو مزید برفباری ہوئی۔سرحدی ضلع کپواری میں سب سے کم برفباری ہوئی،یہاں صرف 2سینٹی میٹر برفباری ہونے کی اطلاع ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندر بل میں سرینگر کی طرح ہی برفباری ہوئی۔ان دونوں اضلاع میں 24سے30سینٹی میٹر تازہ برفباری ہوئی جبکہ شام دیر گئے تک یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری تھا۔پلوامہ،شوپیان،کولگام اور اننت ناگ میں بھی درمیانہ درجے سے لیکر بھاری برفباری ہونے کی اطلاع ہے۔اس دوران موصولہ اطلاعات کے مطابق شوپیان میں بھاری برفباری نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح سے متاثر کر دیا ہے۔
شوپیان قصبہ میں دوفٹ کے قریب برف گری ہے جبکہ کنڈی اور بالائی علاقوں جیسے کلر،کاٹھوالن، ہیرپورہ، رام نگری، ریشی نگر،شمشی پورہ، سدھو، شاداب،دیو پورہ اور چھانچھ مرگ نصر پورہ،دوناڑو پہلی پورہ اور سعد پورہ وغیرہ علاقوں میں 3 فٹ سے بھی زیادہ برف پڑی ہیے، جس سے کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور لگ بھگ سبھی بالائی علاقے ضلعی ہیڈ کوارٹر سے کٹ کر رہ گے ہیں۔جس کی وجہ سے اور تو اور شدید طرح کے مریضوں اور زچگی کے عمل سے دوچار خواتین تک کو ہسپتال تک پہچانا مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے۔
ضلع کے بہت سے علاقوں میں لوگوں کو روڈ کنیکٹوٹی اور بجلی کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔اس کے علاوہ بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی برفباری ہونے کی اطلاعات ہیں۔وادی بھر میں برفباری سے بین الاضلعی رابطہ سڑکیں بند ہیں جبکہ شمال وجنوب میں درجنوں دیہات ضلع ہیڈ کواٹروں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔حکام نے سڑکوں سے برف ہٹانے کے لئے مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگایا ہے۔
اس دوران صوبائی انتظامیہ نے کئی طرح کی ایڈوائزریاں بھی جاری کیں۔جن کے تحت عوام سے تعاؤن طلب کیا گیا۔ایک ایڈوائزی کے تحت پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صارفین کو 3لیٹر تک ہی پیٹرولیم مصنوعات دیں۔حکمنامے کے مطابق ٹو ویلر کے لئے 3لیٹر،تھری ویلر کے لئے5لیٹر،فور ویلر (پرائیویٹ) کے لئے 10لیٹر اور کمرشل گاڑیوں کے لئے20لیٹر تیل دینے کی ہدایت دی گئی۔ دریں اثناء سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.8ڈگری سیلشیس درج کیا گیا جبکہ پہلگام میں یہ درجہ حرارت منفی1.1ڈگری سیلشیس،گلمرگ میں منفی4.0ڈگری سیلشیس،قاضی گنڈ میں منفی0.2ڈگری سیلشیس،کپوارہ میں منفی 0.7ڈگری سیلشیس اور کوکرناگ میں رات کا درجہ حرارت منفی0.7ڈگری سیلشیس درج کیا گیا۔
وادی کشمیر میں اس وقت سخت ترین سردیوں کے ایام چل رہے ہیں،جنہیں عرف عام میں ”چلہ کلان“ کہا جاتا ہے۔چلہ کلان کی مدت40روز پر محیط ہوتی ہے اور یہ مدت31جنوری کو اختتام پذیر ہوجائیگی۔چلہ کلان کی مدت گزشتہ برس21دسمبر کو شروع ہوئی۔اس عرصے کے دوران وادی کشمیر میں برفباری ہونا فطری عمل ہے۔البتہ اس کے چلہ خرد کے20دن اور چلہ بچہ کے10دن بھی شدید سردیوں کے ایام ہوتے ہیں۔
اس عرصے کے دوران بھی وادی کشمیر میں برفباری ہوتی رہتی ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بدھ سے موسمی صورت ِ حال میں تبدیلی آسکتی ہے اور برفباری کا جاری سلسلہ بھی تھمنے کا قوی امکان ہے۔(کے این ایس)
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
