تازہ ترین
پیر پنچال کے آر پار بھاری برفباری کا تیسرا دن
جنوبی کشمیر زیادہ متاثر،سرینگر میں ریکارڈ برفباری
مسافر طیارے گراؤنڈ،شاہراہیں بند،نظامِ زندگی مفلوج،کئی ایڈ وائزریاں جاری،لوگوں سے تعاؤن طلب
خبراردو
سرینگر:پیر پنچال کے آر پار منگل کے روز مسلسل تیسرے روز بھی برف باری کا سلسلہ دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہا جسکے نتیجے میں وادی کشمیر میں نظام ِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوا جبکہ زونی مر سرینگر میں ایک رہائشی مکان کو نقصان پہنچا۔سرینگر کے بین الا قوامی ائر پورٹ پر مسلسل تیسرے روز بھی سبھی پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ سرینگر۔جموں شاہراہ سمیت بین الضلعی سڑک رابطے بھی بند ہیں۔
اس دوران سڑکوں اور شاہراہوں سے برف ہٹانے کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے،تاہم مسلسل برفباری کے سبب اس میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ادھر صوبائی انتظامیہ نے کئی ایڈ وائزریاں جاری کیں،جن کے تحت صارفین کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کے کوٹے میں کمی لانے کا اعلان کیا گیا جبکہ نجی گاڑیوں کی غیر ضروری نقل وحرکت پر روک اور لوگوں سے تعاؤن طلب کیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر کا مسلسل تیسرے روز بھی منگل کو بھاری برفباری کے سبب بیرونی دنیا سے زمینی اور فضائی رابطے منقطع رہے۔سرینگر کے بین الاقوامی ائر پورٹ پرمسافر طیارے گراؤنڈ کردئے گئے۔ائرپورٹ حکام نے بتایا کہ مسلسل برفباری،خراب موسم اور حد نگاہ کم ہونے کے سبب منگلوار کو سرینگر سے پروازیں بھرنے والے مسافر طیاروں کے شیڈول کو پہلے معطل اور بعد ازاں منسوخ کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہوائی سروس کو بحال کرنے کے لئے ”رن وے“ سے برف ہٹانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،تاہم موسم میں بہتری آنے کیساتھ ہی یہ سروس بحال کردی جائیگی۔ادھر پروازوں کی آوا جاہی منسوخ ہونے سے مسافروں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے۔اس دوران سرینگر۔
جموں شاہراہ بھی منگل کو مسلسل تیسرے روز بند رہی۔حکام نے بتایا کہ جواہر ٹنل کے آر پار 3فٹ برفباری ہوئی جسکی وجہ سے یہ شاہراہ ٹریفک کی آمد ورفت کے قابل نہیں رہی۔شاہراہ بند ہونے سے 4500مسافر ومال بردار گاڑیاں شاہراہ کے مختلف مقامات پر درماندہ ہیں۔
270کلو میٹر لمبی سرینگر۔جموں شاہراہ واحد زمینی رابطہ ہے، جو کشمیر کو بیرونی دنیا سے جوڑتی ہے۔شاہراہ مسلسل بند رہنے سے کشمیر میں غذائی اجناس اور دیگر اشیاء ضروریہ کی سپلائی متاثر ہوئی کیوں کہ درماندہ گاڑیوں میں بیشتر ٹرکیں بھی شامل ہیں،جو کشمیر اشیاء ضروریہ لے کر آرہی تھیں۔حکام نے بتایا کہ شاہراہ سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے،تاہم مسلسل برفباری کی وجہ سے اس میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ شاہراہ کے مختلف مقامات پر پسیاں گر آنے کیساتھ ساتھ لینڈ سلائڈنگ ہوئی اور کئی مقامات پر پہاڑی سلسلہ بھی کھسک آیا ہے۔وادی کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان کو پونچھ اور راجوری سے جوڑ نے والا تاریخٰ مغل روڑ بھی بھاری برفباری کے سبب بند ہے۔ادھر سرینگر۔لہیہ شاہراہ کو 31دسمبر کے روز آئندہ چار مہینوں کے لئے بند کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق گرمائی دارلحکومت سرینگر میں ریکارڈ برفباری ہوئی۔
شام چار بجے تک سرینگر میں ایک سے ڈیڑھ فٹ برف جمع ہوئی تھی۔سرینگر میں منگلوار کو دن بھر وقفے وقفے سے برفباری ہوتی رہی۔دوپہر ایک بجے سے دو بجے تک برفباری ایک گھنٹے کے لئے تھم گئی،تاہم منگلوار کو سرینگر میں دن بھر برفباری ہوئی جسکی وجہ سے شہری گھروں میں محصور ہوئے۔شہر میں بھاری برفباری کے سبب ٹرانسپورٹ کی آوا جاہی متاثر ہوئی۔سرینگر میں یہ ریکارڈ توڑ برفباری ہوئی۔گزشتہ سرینگر میں ڈیڑھ فٹ برفباری ریکارڈ کی گئی۔رواں برس یہ برفباری گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
شہر میں بیشتر بازار بشمول تجارتی مرکز لالچوک بند رہا۔منگلوار کے روز سرینگر میں مجموعی طور پر تجارتی وکاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں۔گاڑیوں کی آمد ورفت میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔سڑکوں پر پھسلن پیدا ہونے سے گاڑیاں ہچکولے کھانے پر مجبور ہورہی تھیں۔
اگرچہ دوپہر تک سرینگر میں پبلک ٹرانسپورٹ دوڑتا نظر آیا،تاہم دوپہر کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوا۔شہر سرینگر کی گلی کوں میں برف جمع ہونے سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ نشیبی علاقے آب آنے سے لوگوں کو عبور ومرور میں مسائل کا سامنا ہے۔سرینگر کے میئر جنید متو کا کہنا ہے کہ صبح7بجے سے ہی ایس ایم سی عملہ شہر میں برف ہٹانے کے حوالے سے مصروف عمل ہوجاتا ہے جبکہ پانی کی نکاسی کے لئے85ڈیواٹر پمپ نصب کئے گئے جن میں 35موبائل پمپ ہیں۔محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ گیٹ وے آف کشمیر قاضی گنڈ میں منگلوار کی صبح تک29.8سینٹی میٹربرف جمع ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ48گھنٹوں کے دوران وادی کشمیر میں کل ملاکر80سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق جنوبی کشمیر میں واقع مشہور معروف سیاحتی مقام پہلگام،جوکہ امرناتھ یاتریوں کا بیس کیمپ بھی ہے،میں اس عرصے کے دوران 18سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ کوکرناگ میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران26سینٹی میٹر برفباری ہوئی۔
ادھر محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق وادی کشمیر کے مشہور ومعروف سیاحتی مقام گلمرگ میں گزشتہ24گھنٹوں کے دوران20سینٹی میٹر برفباری ہوئی جبکہ یہاں منگلوار کو مزید برفباری ہوئی۔سرحدی ضلع کپواری میں سب سے کم برفباری ہوئی،یہاں صرف 2سینٹی میٹر برفباری ہونے کی اطلاع ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندر بل میں سرینگر کی طرح ہی برفباری ہوئی۔ان دونوں اضلاع میں 24سے30سینٹی میٹر تازہ برفباری ہوئی جبکہ شام دیر گئے تک یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری تھا۔پلوامہ،شوپیان،کولگام اور اننت ناگ میں بھی درمیانہ درجے سے لیکر بھاری برفباری ہونے کی اطلاع ہے۔اس دوران موصولہ اطلاعات کے مطابق شوپیان میں بھاری برفباری نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح سے متاثر کر دیا ہے۔
شوپیان قصبہ میں دوفٹ کے قریب برف گری ہے جبکہ کنڈی اور بالائی علاقوں جیسے کلر،کاٹھوالن، ہیرپورہ، رام نگری، ریشی نگر،شمشی پورہ، سدھو، شاداب،دیو پورہ اور چھانچھ مرگ نصر پورہ،دوناڑو پہلی پورہ اور سعد پورہ وغیرہ علاقوں میں 3 فٹ سے بھی زیادہ برف پڑی ہیے، جس سے کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور لگ بھگ سبھی بالائی علاقے ضلعی ہیڈ کوارٹر سے کٹ کر رہ گے ہیں۔جس کی وجہ سے اور تو اور شدید طرح کے مریضوں اور زچگی کے عمل سے دوچار خواتین تک کو ہسپتال تک پہچانا مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے۔
ضلع کے بہت سے علاقوں میں لوگوں کو روڈ کنیکٹوٹی اور بجلی کی عدم دستیابی کے ساتھ ساتھ پانی کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔اس کے علاوہ بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی برفباری ہونے کی اطلاعات ہیں۔وادی بھر میں برفباری سے بین الاضلعی رابطہ سڑکیں بند ہیں جبکہ شمال وجنوب میں درجنوں دیہات ضلع ہیڈ کواٹروں سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔حکام نے سڑکوں سے برف ہٹانے کے لئے مشینری اور افرادی قوت کو کام پر لگایا ہے۔
اس دوران صوبائی انتظامیہ نے کئی طرح کی ایڈوائزریاں بھی جاری کیں۔جن کے تحت عوام سے تعاؤن طلب کیا گیا۔ایک ایڈوائزی کے تحت پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صارفین کو 3لیٹر تک ہی پیٹرولیم مصنوعات دیں۔حکمنامے کے مطابق ٹو ویلر کے لئے 3لیٹر،تھری ویلر کے لئے5لیٹر،فور ویلر (پرائیویٹ) کے لئے 10لیٹر اور کمرشل گاڑیوں کے لئے20لیٹر تیل دینے کی ہدایت دی گئی۔ دریں اثناء سرینگر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.8ڈگری سیلشیس درج کیا گیا جبکہ پہلگام میں یہ درجہ حرارت منفی1.1ڈگری سیلشیس،گلمرگ میں منفی4.0ڈگری سیلشیس،قاضی گنڈ میں منفی0.2ڈگری سیلشیس،کپوارہ میں منفی 0.7ڈگری سیلشیس اور کوکرناگ میں رات کا درجہ حرارت منفی0.7ڈگری سیلشیس درج کیا گیا۔
وادی کشمیر میں اس وقت سخت ترین سردیوں کے ایام چل رہے ہیں،جنہیں عرف عام میں ”چلہ کلان“ کہا جاتا ہے۔چلہ کلان کی مدت40روز پر محیط ہوتی ہے اور یہ مدت31جنوری کو اختتام پذیر ہوجائیگی۔چلہ کلان کی مدت گزشتہ برس21دسمبر کو شروع ہوئی۔اس عرصے کے دوران وادی کشمیر میں برفباری ہونا فطری عمل ہے۔البتہ اس کے چلہ خرد کے20دن اور چلہ بچہ کے10دن بھی شدید سردیوں کے ایام ہوتے ہیں۔
اس عرصے کے دوران بھی وادی کشمیر میں برفباری ہوتی رہتی ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ بدھ سے موسمی صورت ِ حال میں تبدیلی آسکتی ہے اور برفباری کا جاری سلسلہ بھی تھمنے کا قوی امکان ہے۔(کے این ایس)
دنیا
کیف کے قریب گودام پر روسی حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک
کیف، یوکرین کے دارالحکومت کیف کے باہر بوچا ضلع میں ایک گودام پر رات گئے روسی حملے کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ حملے کے بعد گودام میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے۔
کیف کے علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے ہفتے کے روز بتایا کہ ’’بدقسمتی سے، موجودہ صورتحال کے مطابق 27 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ تعداد حتمی نہیں بھی ہوسکتی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دمتریوسکا گاؤں کے میئر تاراس دیدیچ بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کیف کے مغربی مضافات کے قریب واقع ایک گودام کو روسی ڈرون نے نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے۔
تکاچینکو نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 50 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ گھروں اور ایک ریستوران تک پھیل گئی۔
یوکرینی پراسیکیوٹرز کے مطابق گودام میں ’’دھماکہ خیز مواد‘‘ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مجرمانہ غفلت کے امکان کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کاروباری ادارے کے احاطے میں دھماکہ خیز مواد اور دیگر اشیا ذخیرہ کرنے کی قانونی اجازت تھی یا نہیں، اور متعلقہ کمپنی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کے پاس ضروری اجازت نامے اور منظوری موجود تھی یا نہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ میلا گاؤں میں ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا جس کے ’’بعد دھماکہ ہوا‘‘۔ انہوں نے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم تصدیق کی کہ اس واقعے پر فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا، ’’اس حوالے سے ضوابط موجود ہیں، گولہ بارود گھروں یا دیگر رہائشی علاقوں کے قریب ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
دونوں ممالک نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ اور شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کیف کے علاقائی گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملے میں 42 افراد زخمی ہوئے جبکہ بوچا ضلع سے 380 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم سرہی کوریٹسکی نے کہا کہ جولائی میں کیف کے قریب ویشنِیوے میں گولہ بارود کے ایک ڈپو پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔
اس حملے کی تحقیقات میں سرکاری ملکیت والی ایک کمپنی کی جانب سے گولہ بارود کو رہائشی عمارتوں سے مناسب فاصلے پر ذخیرہ کرنے کے حفاظتی معیار پر عمل نہ کرنے کی سنگین خامیاں سامنے آئی تھیں۔
کوریٹسکی نے ٹیلی گرام پر کہا، ’’مکمل پیمانے پر حملے کے پانچویں سال میں بار بار وہی غلطیاں دہرانا مجرمانہ غفلت ہے۔ ذمہ دار ہر شخص کو، کسی استثنا کے بغیر، سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ کبھی پیش نہ آئیں۔‘‘
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے جمعہ کی رات سے ہفتے کی صبح تک یوکرین پر کم از کم دو میزائل اور 267 ڈرون داغے۔
گودام پر حملے کے علاوہ ہفتے کی صبح روسی حملوں میں جنوبی اودیسا خطے میں ایک شخص اور کیف کے مضافاتی علاقے بوریسپِل میں ایک 14 سالہ لڑکی بھی ہلاک ہوگئی۔
دوسری جانب روس کے بیلگورود خطے میں یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
روس کے زیرانتظام جزیرہ نما کریمیا کے شہر سیواستوپول میں بھی یوکرینی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ شہر کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل راز ووزایف نے یہ اطلاع دی۔
روس اور یوکرین گزشتہ کئی ماہ سے ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک حملوں میں شدت لا رہے ہیں اور ان حملوں میں لاجسٹکس گوداموں، تیل تنصیبات اور بندرگاہوں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
تہران، صدرِایران مسعود پزیشکیان نے اپنے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات کا سرکاری ٹیلی ویژن پر جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں کی گئی بات چیت میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ‘معاہدہ شدہ نقشے کی بنیاد پر’ دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا، ‘موجودہ مذاکراتی عمل میں ہرمز کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس روڈ میپ کو ایران کے رہنما آیت اللہ مُجتَبٰی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قوتیں اور مذاکراتی ٹیم میں شامل ہمارے بھائیوں نے بھی اسے منظور کیا۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘اگر یہ راہداری اسی دائرہ کار کے تحت کھولا جائے تو امریکہ کو بھی اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو بحری محاصرے اور پابندیوں کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا اور اسرائیل پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان میں اپنے اقدامات روک دے۔
پزیشکیان نے کہا، ‘آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل اسلام آباد مفاہمت نامہ میں بیان کردہ اور مخالف فریقین کے قبول کردہ دائرہ کار کے مطابق ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔’
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا، ‘ہمیں اپنے محبوب اور شہید سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات کی بنیاد پر سفارتکاری کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہیے، اگرچہ ان تعلقات میں ہم آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘ایران کے زیادہ تر ہمسائے اسلامی ممالک ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ایک مشترکہ زبان تلاش کرنی چاہیے، اور خطے کی سلامتی کو مل کر یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بات چیت اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔ ہم پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے زمین تیار ہے، ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
