تازہ ترین
بیجنگ سرحد کے قریب میزائل اور راکٹ رجمنٹ تیار کر رہا ہے،بھارت کا الزام
بھارت کے مقامی میڈیا کے مطابق انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے قریب لداخ سیکٹر میں چین اپنے فوجی انفراسٹرکچر کو بڑھانے میں مصروف ہے، جس پر انڈیا نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس سے قبل بھی حکومت کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی گئی تھی کہ چین مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کی فنگر چار سے فنگر سات کے درمیان بڑے پیمانے پر اضافی میزائل، ٹینک اور راکٹ وغیرہ نصب کر رہا ہے۔اگرچہ جین نے اس کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ اپنے علاقے میں کر رہا ہے۔ لیکن سیٹلائٹ کی تصاویر سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس علاقے میں چین کی تعمیرات میں اضافہ ہوا ہے۔سٹیلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ چین نے اس علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی نوعیت کی نئی تعمیرات کی ہیں۔
ان تصاویر سے اسعلاقے میں نئے ہتھیاروں اور بھاری مشینوں کی موجودگی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ چینی فوج نے جھیل میں نگرانی کے لیے گشت کرنے والی کشتیوں کی تعداد بھی بڑھا دی ہے۔انڈین اخبار ‘لائیو منٹ’ کی خبر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ بات چیت کے دوران انڈیا نے مشرقی لداخ کے علاقے میں چینی فوج کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کی ہے لیکن کسی آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کر سکا ہے اور نہ ہی بات کی تفصیل کسی جانب سے جاری کی گئی ہے۔
انڈین میڈیا میں یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ چین ایل اے سی پر نئی تعمیرات کر رہا ہے جس میں رہائشی عمارتیں، سڑکیں، نئی شاہراہیں وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس نے میزائل رجمنٹ سمیت بھاری ہتھیار بھی اپنی جانب تعینات کر رکھے ہیں، جس وجہ سے انڈیا کافی پریشان ہے۔نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملٹری انفراسٹرکچر میں اضافہ خاص طور پر اہم ہے، جس میں شاہراہوں کو وسیع کیا جانا اور نئی فضائی پٹی بنانا شامل ہے۔ یہ فضائی پٹی مرکزی ایئربیس کاشغر، گار گنسا اور ہوتن کے علاوہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک شاہراہ بھی بنائی جا رہی ہے جس سے ایل اے سی پر چینی فوج کے رابطے میں مزید بہتری آئے گی۔ جبکہ چین اپنی فضائیہ اور بری فوج کے لیے ایسے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر بھی توجہ دے رہا ہے جو اسے انتہائی دشوار گزار علاقوں میں امریکی اور دیگر سیٹلائٹس سے محفوظ رکھ سکے گا۔اس کوشش کے ایک حصے کے طور پر، تبت اور اس خطے کو سمجھنے والے لوگوں کو بھرتی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جنھیں ہان سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعینات کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق دراصل، ناقابل رسائی علاقے کی وجہ سے مین لینڈ چائنا کے لوگوں کے لیے یہاں رہنا بہت مشکل ہے، اس لیے چین مقامی لوگوں کو یہاں رکھنا چاہتا ہے۔
بنارس ہندو یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر اور انڈیا اور چین کے رشتے پر کئی کتابوں کے مصنف کیشو مشرا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیں تعمیرات کرتا رہا ہے اور یہ معاملہ کافی پرانا ہے لیکن سنہ 2017 کے بعد جب سے چینی صدر کے اختیارات میں وسیع اضافے کے بعد انڈیا اور چین کی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔پروفیسر کیشو مشرا نے کہا کہ انڈیا کہ لیے یہ تشویش کی بات ہے، اگرچہ چین اپنا اعتدال پسندانہ چہرا دکھانا چاہتا ہے لیکن سرحد کے پاس اس کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔
انھوں نے کہا: ’چونکہ انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی واضح حد بندی نہیں ہے، اس لیے چین اپنے حساب سے نئے گاؤں بسا دیتا ہے جن میں عام شہریوں کے بجائے جنگجوؤں کو آباد کرتا ہے اور یہ انڈیا کے لیے تشویش کا باعث ہے۔‘جبکہ دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گذشتے موسم سرما سے موازنہ کیا جائے تو اس بار چین کا سڑک کا رابطہ بہت بہتر ہے اور وہ یہاں کی آب و ہوا کا زیادہ عادی ہے۔
واضح رہے کہ اتوار کو ہی چین کے صدر شی جن پنگ نے مسلح افواج کو مضبوط بنانے کے لیے ’ملٹری ٹیلنٹ کلٹیویشن‘ یعنی فوجی صلاحیت کی آبیاری کی بات کہی تھی۔پیپلز ڈیلی کے مطابق انھوں نے کہا کہ چینی مسلح افواج کے اعلیٰ معیار کی ترقی، فوجی مقابلے میں فتح حاصل کرنے اور مستقبل کی جنگوں میں بالادستی حاصل کرنے کے لیے ٹیلنٹ کلیدی حیثیت کا حامل ہے۔
سمتبر کے مہینے میں فوج کی تجدید کاری اور اسے مضبوط بنانے کے لیے ایک کانفرنس ہوئی تھی اور اس میں ٹینلٹ کی تلاش اور آبیاری کی بات کی گئی تھی تاکہ سنہ 2027 میں پیپلز لبریشن آرمی کے صد سالہ جشن کے موقعے پر اسے مزید تقویت سے ہمکنار کیا جائے۔کیشو مشرا کا کہنا ہے کہ ’جب سے شی جن پنگ کو چین میں لا محدود اختیارات حاصل ہوئے ہیں اس کے بعد سے انڈیا کے خلاف چین کے برتاؤ میں تبدیلی آئی ہے۔‘
خیال رہے کہ شی جن پنگ چین کے صدر ہونے کے ساتھ وہاں کی کمیونسٹ پارٹی سی پی سی کی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور سینٹرل ملٹری کمیشن(سی ایم سی) کے چیئرمین بھی ہیں۔دوسری جانب چند روز قبل انڈیا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت نے چین کو انڈیا کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی خطرہ قرار دیا تھا جسے چینی وزارت دفاع کے ترجمان وو کیان نے ’اشتعال انگیز‘ قرار دیا تھا۔
چینی حکومت کے ترجمان اخبار پیپلز ڈیلی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’چین کو خطرہ‘ قرار دینا دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ’سٹریٹیجک گائیڈینس‘ کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کہتے ہیں کہ یہ ایک دوسرے کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔وو کیان نے کہا کہ ’جغرافیائی اور سیاسی تصادم کو ہوا دینا غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے۔‘ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ چینی فوج اپنی قومی سالمیت اور تحفظ کے لیے پر عزم ہے۔
اس کے ساتھ ہی وہ سرحد پر امن اور استحکام کو برقرار رکھنے کی بھی پابند ہے۔چین کے اس مؤقف کے باوجود گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران چین اور انڈیا کے درمیان مختلف مقامات پر کشیدگی نظر آئی ہے۔خیال رہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل گلوان گھاٹی میں انڈین اور چینی فوج کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں انڈیا کے تقریباً 20 فوجی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ چین نے اپنی جانب کے نقصان کی کوئی واضح تفصیل نہیں بتائی تھی۔کیشو مشرا کا کہنا ہے کہ ’چین نے بھوٹان اور انڈیا کے علاوہ تمام پڑوسیوں سے اپنی سرحدی تنازع کو ختم کر دیا ہے۔
گذشتہ ماہ اس نے بھوٹان کے ساتھ بھی ایک معاہدہ کیا ہے۔ ایسی صورت میں صرف انڈیا کے ساتھ ہی اس کا سرحدی تنازع بچ جاتا ہے۔‘ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ خطے میں اگر کوئی طاقت چین کو مقابلہ دے سکتی ہے تو وہ انڈیا ہے۔اس سے قبل رواں سال فروری میں بھی ایسی ہی بات سامنے آئی تھی جب انڈیا کے جنرل وی کے سنگھ نے انڈیا کی جانب سے چین کی حدود میں داخل ہونے کی بات کہی تھی، جس پر چین نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔
اس وقت بھی انڈین میڈیا نے حکومت کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ چین مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کی فنگر چار سے فنگر سات کے درمیان بڑے پیمانے پر اضافی میزائل، ٹینک اور راکٹ وغیرہ نصب کر رہا ہے۔یہ خطہ پہلے انڈیا کے کنٹرول میں تھا مگر گذشتہ سال جون میں ایک خونریز ٹکراؤ کے بعد چین نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اْس وقت سے یہاں ہزاروں چینی فوجی تعینات ہیں۔ انڈیا نے بھی اپنے موجودہ کنٹرول والے علاقے میں ہزاروں فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
