تازہ ترین
اگست2019کو کئے گئے تمام اعلانات جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے:عمر عبداللہ
5اگست 2019کو جموں و کشمیر میں دفعہ 370کے خاتمے کی صورت میں سب کچھ ٹھیک ہوجانے کے اعلانات اور دعوے کئے گئے اور اس سلسلے میں ہمارے آئین کو ہٹایا گیا کی بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ہمار ریاست کے دو حصے کئے گئے، دونوں حصوں کو مرکزی زیر انتظام علاقے قرار دیئے گئے، ہمارے قانون ساز کونسل اور اسمبلی ختم کی گئی، جے کے کا پولیس کارڈر اور افسر کارڈر ختم کردیا گیا، لیکن اڑھائی سال گزر جانے کے بعد بھی ان اقدامات کو بخشے گئے جواز ثابت نہیں ہوئے، کٹھوعہ سے لیکر کپوارہ تک کہیں بھی لوگوں کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں آئی،اُلٹا زمینی سطح پر ان اقدامات کے منفی اثرات ہی مرتب ہوئے، جس کی وجہ سے لوگ مایوسی اور نااُمیدی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔
سی این آئی کے مطابق ٹی آر سی گراؤنڈ کپوارہ میں ضلع کے ورکروں کے ایک فقید المثال کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے ک ”خصوصی پوزیشن کے جبری خاتمے کے بعد ہم نے اپنے حقوق کی بحالی کیلئے آواز بلند کی، ہم یہ بھی جانتے تھے کہ اس لڑائی میں سب کا شامل ہونا لازمی ہے اور ہمیں اوروں کو بھی اس لڑائی میں شامل کرنا ہوگا اور اس کیلئے ہم نے پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے گزارش کی کہ وہ ایک ایسی سٹیج قائم کریں جہاں تمام پارٹیاں متحد ہوکر جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے لڑیں۔
ہم اس میں اُن پارٹیوں کوبھی لایا جن کے ساتھ کام کرنے کا ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا اور ہم نے پی ڈی پی، پی سی، عوامی نیشنل کانفرنس، سی پی آئی ایم، سی پی ایم اور پیپلز مومنٹ جیسی جماعتوں کیساتھ اتحاد کیا۔ ہم نے سوچا کہ منزل تک پہنچنے کیلئے ہمیں آپس کی چھوٹی موٹی لڑائیوں کو بالائے طاق رکھنا ہوگا اور ایک ساتھ مل کر لڑنے ہوگا تب جاکر شائد ہم اپنی منزل تک پہنچ پائیں گے۔ یہ سب آسان نہیں تھا لیکن ہم جانتے تھے کہ منزل صحیح ہے اور مقصد تک پہنچنے کیلئے یہ ضروری قدم ہے۔“
انہوں نے کہا کہ گپکار الائنس کیلئے نیشنل کانفرنس نے بہت زیادہ قربانیاں پیش کیں،ڈی ڈی سی انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے نشستوں کی تقسیم میں سب سے زیادہ قربانیاں دی تاکہ یہ اتحاد قائم و دائم رہ سکے، اگرچہ میرے چند ساتھیوں نے مجھے اس بات سے ہوشیار کیا تھا کہ کچھ جماعتیں ہماری ان قربانیوں کا فائدہ اُٹھا کر بھاگ جائینگی لیکن میں اُس وقت ماننے کیلئے تیار نہیں تھا اور میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ ایک عوامی لڑائی ہے اور اس سے کوئی ہیں بھاگ سکتا لیکن انتخابی نتائج کے ایک ماہ کے اندر ہی میں غلط ثابت ہوا اور ایک پارٹی نے اس اتحاد سے علیحدگی اختیار کی۔
یہ اس لئے ہوا کیونکہ نئی دلی جموں وکشمیر کی جماعتوں کے اتحاد سے خوش نہیں تھی، اُن کو پی اے جی ڈی پسند نہیں تھا، وہ چاہتے تھے کہ کسی نے کسی طرح یہ اتحاد بکھر جائے اور بالآخر وہ اس پارٹی کو الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ میں یہ بات یقین کیساتھ کہہ سکتا ہوں اگر نیشنل کانفرنس نے تنہا ڈی ڈی سی الیکشن لڑا ہوتا تو شائد کشمیر کے تمام 10اضلاع میں نیشنل کانفرنس کے چیئرمین ہوتے۔جب جون میں وزیر اعظم کیساتھ ہماری ملاقات ہوئی اُس وقت وہاں ایک بڑے ذمہ دار نے مجھے کہا کہ ”ڈی ڈی سی انتخابات میں آپ کی کارکردگی اچھی رہی اور آپ نے وہاں وہاں سے ووٹلئے جہاں توقع نہیں تھی اور اگر آپ تنہا الیکشن لڑتے تو کارکردگی اس سے بہت زیادہ اچھی ہوتی“۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ہمیں اس کا کوئی پچھتاؤ نہیں، ہم نے عوامی مفادات کیلئے قربانی دی تھی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا خمیازہ ہم کو بھگتنا پڑ ے گا،جہاں جہاں سے ہم کو سیٹیں مانگی گئیں ہم نے وہ سیٹیں دے دیں۔
انہوں نے کہا کہ ”بھاجپا کے کہنے پر جو لوگ اس عوامی اتحاد سے الگ ہوئے وہ آج یہ طعنے دے رہے کہ ’عمر عبداللہ نے سب سے پہلے بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا تھا‘، میں نے کب اس بات سے انکار کیا کہ میں این ڈی اے کا حصہ نہیں تھا، جس میں بھاجپا بھی تھی، میں نے کب کہا میں منسٹر نہیں تھا، میں تو فخر کیساتھ کہتا ہوں کہ میں نے اُس وزیر اعظم کیساتھ کام کیا جس کو آج بھی جموں وکشمیر کے لوگ عزت سے یاد کرتے ہیں، میں نے اُس وزیر اعظم سے کام کیا جنہوں نے جموں و کشمیر کے مسئلہ کے حوالے سے انسانیت، جمہوری اور کشمیریت کا نعرہ دیا، میں نے اُس وزیر اعظم کیساتھ کام کیا جس نے سرینگر مظفر آباد کا روڑ کھولا، میں نے اُس وزیر اعظم کیساتھ کام کیا جس نے سرینگر کی سرزمین سے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ دوست بدلے جاسکتے ہیں لیکن پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے۔
کیا آپ یہ کہہ سکتے ہو؟جس بی جے پی کیساتھ آپ درپردہ رشتے بنا رہے ہیں، کیا اُس بی جے پی کے بارے میں ایسا کہا جاسکتا ہے؟آپ کی بی جے پی نے جموں وکشمیر میں انسانیت کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے، جمہوریت کی دھجیاں اُڑا دیں اور کشمیریت کا تہیہ تیغ کرکے رکھ دیا، کہاں ہے آپ کی بی جے پی کی جمہوریت کے دعوے آج ایک ہزار ایک سو 20دن ہوگئے جب سے جموں وکشمیر کی دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کیا گیا، آپ سچ کو کب تک چھپائیں گے، آخر کار حقائق عوام کے سامنے آجائیں گے، اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں“۔
کنونشن میں دیگر لوگوں کے علاوہ سینئر پارٹی لیڈران تنویر صادق، سلمان علی ساگر، احسان پردیسی،شفقت وٹالی، انجینئر سمیر بٹ، زاہد مغل،بلاک صدور صاحبان اور ڈی ڈی سی ممبران کے علاوہ خواتین ونگ اور یوتھ کے عہدیداران بھی موجود تھے۔
دنیا
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
تل ابیب، نیتن یاہو اکتوبر کے 27 کے انتخابات میں ایسی ایک منفرد حالت کے ساتھ داخل ہوں گے جو پہلے کسی موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ووٹنگ تک نہیں لے کر گئی: وہ بیک وقت ملک چلا رہے ہیں اور ایک فوجداری مقدمے کا دفاع بھی کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو پر 2019 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی اور ان کا مقدمہ 2020 میں شروع ہوا۔ انہیں تین الگ الگ مقدمات میں فراڈ اورعدم اعتماد کے الزامات کا سامنا ہے اور ان میں سب سے سنجیدہ مقدمے میں رشوت کا بھی الزام شامل ہے۔
ان کی بیوی سارہ نیتن یاہو کا اپنا قانونی ریکارڈ بھی ہے۔ 2019 میں انہوں نے ریاستی فنڈز سے کیٹرنگ کے کھانوں کے غلط استعمال کے ایک معاملے میں جرم قبول کیا اور ایک سمجھوتے کے تحت سزا پائی۔ اب ان کے خلاف ایک اور کرمنل تفتیش بھی جاری ہے جس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے میاں کے کرپشن کے مقدمے کے ایک اہم گواہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔
دونوں نے موجودہ کارروائیوں میں لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔
نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کی سرکشی تین مقدمات، مقدمہ 1000، مقدمہ 2000 اور مقدمہ 4000، کے گرد مرکوز ہے۔
مقدمہ 1000 میں، پراسیکیوٹرز کا دعویٰ ہے کہ نیتن یاہو اور ان کے اہل خانہ نے امیر کاروباری افراد سے مہنگے تحائف مثلاً سگار اور شیمپین وصول کیے، جبکہ وزیر اعظم نے ایسے معاملات میں مداخلت کی جو اِن کاروباری افراد کے مفاد میں ہو سکتے تھے۔
مقدمہ 2000 ریکارڈ کی گئی بات چیت سے متعلق ہے جو نیتن یاہو اور یدیوت احرونوت کے پبلشر آرنون موزیس کے درمیان ہوئی تھیں۔ پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ دونوں نے نیتن یاہو کے لیے زیادہ موافق صحافتی کوریج کے بارے میں اور حریف اشاعت اسرائیل ہیوم کو کمزور کرنے کے ممکنہ اقدامات پر بات کی۔
سب سے سنجیدہ فردِ جرم مقدمہ 4000 ہے۔ پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ نیتن یاہو نے ٹیلی کام کمپنی بیزق کے حق میں ریگولیٹری فیصلے آگے بڑھائے اور اسی کے بدلے میں بیزق کے کنٹرولنگ شئیر ہولڈر شاؤل ایلویتچ کے زیرِ ملکیت والا نیوز ویب سائٹ والّا سے موافق سلوک کی توقع رکھی۔
نیتن یاہو کو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات اور مقدمہ 4000 میں رشوت کا الزام درپیش ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پراسیکیوشن سیاسی طور پر متاثر ہے۔
تاہم رشوت کے الزام کے سلسلے میں مشکلات اُبھریں۔ جون میں ججوں نے پھر مشورہ دیا کہ پراسیکیوٹرز اسے واپس لے لیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اسے ثابت کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر پراسیکیوٹرز بالآخر یہ شمار واپس بھی لے لیں، نیتن یاہو تینوں مقدمات میں فراڈ اور اعتماد مجروح کرنے کے مقدمات میں عدالتی سماعت کا سامنا برقرار رہے گا۔
نیتن یاہو نے دسمبر 2024 میں گواہی دینا شروع کی۔ان کے بیانات، کراس ایگزامینیشن اور بعد ازاں سوال و جواب کی کارروائی بالآخر 18 ماہ میں 98 سماعتوں تک پھیلی، جو بار بار بیرونِ ملک سفر، صحت کے مسائل اور ڈپلومیٹک و سیکیورٹی امور کے باعث معطل یا ملتوی ہوتی رہیں۔انہوں نے 24 جون کو اپنی گواہی مکمل کی، مگر مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ مزید گواہوں کی سماعت باقی ہے۔
نیتن یاہو نے کارروائی سے نکلنے کے لیے ایک اور راہ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی۔
نومبر 2025 میں انہوں نے مقدمے کے ابھی جاری ہونے کے باوجود بغیر جرم قبول کیے صدر اسحاق ہرزوگ سے معافی کی درخواست کی۔ ہرزوگ نے اپریل میں کہا کہ وہ درخواست پر غور کرنے سے پہلے قانونی مفاہمت کے امکانات کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اسرائیل میں ایسے معاف نامے دینے کی کوئی مثال نہیں ہے جو فوجداری مقدمے کے ختم ہونے سے پہلے دیے گئے ہوں۔
انتخابات جیت لینے سے پراسیکیوشن خود بخود ختم نہیں ہو جائے گی۔ تاہم اسرائیلی قانون نے نیتن یاہو کو مقدمے کے دوران بھی وزیر اعظم رہنے کی اجازت دی ہے، جس کے باعث سیاسی اختیار اور فوجداری کارروائیاں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔
سارہ نیتن یاہو کا 2019 کا کیس مختلف انداز میں ختم ہوا۔
پراسیکیوٹرز نے الزام لگایا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی رہائش کے لیے ریاستی فنڈز سے فراہم کردہ کیٹرنگ کے کھانوں میں غیر قانونی طور پر $100,000 سے زائد حاصل کیے۔ انہوں نے ایک پلِی بارگین کے تحت غلطی تسلیم کی۔ ایک زیادہ سنگین فراڈ کا چارج کم کر دیا گیا۔ انہوں نے ریاست کو 45,000 شیکل واپس کرنے اور 10,000 شیکل جرمانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ان کا موجودہ قانونی مسئلہ اس سے الگ ہے۔
فروری 2025 میں اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ مقدمہ 1000 کے ایک اہم پراسیکیوٹوری گواہ ہداس کلین کو دھمکانے اور اپنے شوہر کے مقدمے میں مداخلت کے ارادے کے الزامات پر کرمنل تفتیش شروع کی گئی ہے۔
یہ تفتیش ایک اسرائیلی ٹیلی ویژن رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں مبینہ پیغامات کی بنیاد پر دکھایا گیا کہ کلین اور پراسیکیوٹر سے جڑے دیگر افراد کے خلاف مظاہرے اور مہمات منظم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ اس تفتیش میں ابھی تک کسی فرد کے خلاف فردِ جرم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
نیتن یاہو کی قانونی ذمہ داری اسرائیل سے باہر بھی پھیلی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 21 نومبر 2024 کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔
آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ججوں نے معقول وجوہات پائی ہیں کہ نیتن یاہو کو مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے کے قابل سمجھا جائے، جن میں محاصرے کے ذریعے بھوک اپنا کرانہ حربہ بنانا، قتل، ظلم اور غزہ سے متعلق دیگر غیر انسانی اعمال شامل ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
دنیا5 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
