جموں و کشمیر
غیر مقامی افراد کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی سبھی سیاسی پارٹیوں نے یک زبان ہو کر سخت مخالفت کی
سری نگر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رائے دہندگان کی رجسٹریشن کے متعلق جاری تازہ حکمنامے سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ جموں میں حکومت ہند کے نوآباد یاتی نظام کے پروجیکٹ پر کام شروع ہوچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا پہلا دھچکا ڈوگرہ ثقافت، شناخت، روزگار اور تجارت کو پہنچے گا۔
موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ٹویٹس میں کیا۔
انہوں نے یہ ٹویٹس ضلع انتظامیہ جموں کے اس حکمنامے کے رد عمل میں کئے جس کے مطابق ریونیو کو اہلکاروں کو ان غیر مقامی لوگوں کو بھی ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو جموں میں ایک سال کے زائد عرصے سے مقیم ہیں۔محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ’الیکشن کمیشن آف انڈیا کے نئے ووٹروں کی رجسٹریشن کے بارے میں جاری تازہ حکمنامے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حکومت ہند کا جموں میں نوآبادیاتی نظام کے پروجیکٹ کا کام شروع ہوا ہے‘۔
انہوں نے اس ٹویٹ میں کہا کہ اس سے سب سے پہلا دھچکا ڈوگرہ ثقافت، شناخت، روز گار اور تجارت کو پہنچے گا۔موصوفہ نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا: ’بی جے پی کی جموں اور کشمیر کے درمیان مذہبی و علاقائی بنیادوں پر ڈالی جانی والی پھوٹ کی کوششوں کو ناکام بنایا جانا چاہئے کیونکہ چاہئے وہ کشمیری ہو یا ڈوگرہ،ہمارے حقوق اور شناخت کا تحفظ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ہم ایک ہو کر جد وجہد کریں گے‘۔
دریں اثنا جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے بھی اس حکمنامے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ میں ضلع انتظامیہ جموں کے اس حکمنامے کو مشکوک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حکمنامہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ہے۔
انہوں نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر ٹویٹ کرکے کہا ہے: ’ضلع مجسٹریٹ جموں کا حالیہ حکمنامہ، جس میں ریونیو اہلکاروں کو جموں میں ایک سال کے عرصہ سے زیادہ مدت سے مقیم غیر مقامی باشندوں کو رہائشی سند اجرا کرنے کا اختیار دیا گیا ہے،مشکوک ہے اوراس کا مقصد انہیں ووٹ ڈالنے کے اہل بنانا ہے‘۔
ٹویٹ میں کہا گیا: ’یہ حکمنامہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف ہے اور ہمارے شبہات کو غلط ثابت کرنے کی ذمہ داری ایک بار پھر الیکشن کمیشن اور جموں و کشمیرانتظامیہ پر عائد ہوجاتی ہے، وہ یہ واضح کریں کہ کیا اس قسم کی ہدایت جائز ہے‘۔
ادھر کانگریس کے جموں وکشمیر یونٹ کے صدر وقار رسول وانی نے عجلت میں بلائی گئی پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کا فیصلہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی الیکشن میں جیت حاصل کرنے کی خاطر مختلف ممالک کے ووٹروں کا یہاں پر اندراج کرا سکتی ہے کیونکہ بھاجپا کو کسی بھی صورت میں اقتدار چاہئے اس کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چیف الیکٹورل آفیسر نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ 25لاکھ ووٹروں کا اندراج کرنے کا ایک ہدف مقرر کیا گیااور جوں ہی اس کا بیان سامنے آیا تو سبھی سیاسی پارٹیوں نے اس پر شدید رد عمل کا اظہا رکیا جس کے بعد چیف الیکٹورل آفیسر نے سبھی سیاسی پارٹیوں کی میٹنگ طلب کی جس دوران غیر مقامی ووٹروں کے اندراج کے حوالے سے قیاس آرائیوں کو ختم کیا لیکن ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کی جانب سے جو آرڈر جاری کیا گیا اُس سے بھاجپا کی نیت سب کے سامنے آشکار ہوئی ہے۔
اُن کے مطابق بی جے پی ہر حلقے میں لگ بھگ 90ہزار غیر مقامی ووٹروں کے اندراج کا منصوبہ بنا چکی ہے اور اس پر اب کام بھی شروع کیا گیا ہے۔ پردیش کانگریس کے صدر نے بتایا کہ فیصلہ کو کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف سبھی کو متحد ہو کر آگے آنے کی ضرورت ہے تاکہ بی جے پی کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔
علاوہ ازیں جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے انتظامیہ کی طرف سے غیر مقامی شہریوں کو باضابطہ طور پر ووٹر فہرستوں میں شامل کرنے کے لئے جاری کئے گئے احکامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ عوامی ناراضگی اور بھاجپا کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجودبھی حکومت 25 لاکھ غیر مقامی افراد کو ووٹرفہرست میں شامل کرنے کے اپنے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
ان باتوں کا اظہار پارٹی کے ریاستی ترجمان عمران نبی ڈار نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ ترجمان نے کہا کہ جب پہلی بار سی ای او نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہاں غیر مقامی لوگوں کو ووٹر فہرستوں میں شامل کرنے کی بات کہی تو اس کے بعد عوامی ردعمل دیکھ کر حکومت کی طرف سے اس بات کا دعویٰ کیا گیا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ زیر غور نہیں اور غیر مقامی لوگوں کو ووٹر فہرستوں میں شامل نہیں کیا جارہاہے۔
لیکن کل جس طرح سے ضلع ترقیاتی کمشنر جموں کی طرف سے غیر مقامی شہریوں کو ووٹرفہرستوں میں شامل کرنے کا حکمنامہ جاری کیا گیا اْس سے عوامی خدشات سچ ثابت ہوگئے اور یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حکومت غیر مقامی شہریوں کو یہاں کی ووٹر فہرستوں میں شامل کرنے کے منصوبے کیساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ بھاجپا کے بغیر تمام سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی اور عوامی سطح پر بھی اس منصوبے کیخلاف سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ بھاجپا انتخابی میدان میں اترنے سے خوفزہ ہے، اسمبلی نشستوں کی من پسند حدبندی اور سیٹوں کی ہیراپھیری کے باوجود بھی بھاجپا والوں کو انتخابات میں جیت ملتی دکھائی نہیں دے رہی ہے اور اب اسی لئے ایسے حربے اپنائے جارہے ہیں۔ عمران نبی ڈار نے کہا کہ بھاجپا جموں وکشمیر کے عوام کو بے اختیار کرنے پر تلی ہوئی ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ لوگ ان منصوبوں کو وقت رہتے سمجھے اور اس سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنا رول نبھائیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اولین فرصت میں ووٹر فہرستوں میں نام درج کرائیں اور الیکشن کے وقت جوق در جوق نکل کر اپنی حق رائے دہی کا استعمال کریں اور جموں و کشمیر کیخلاف ہورہی سازشوں کو ناکام بنائیں۔
عمران نبی ڈار نے کہا کہ یہ سارے اقدامات جموں وکشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019کے تحت کئے جارہے ہیں، جسے نیشنل نے چیلنج کیا ہے اور جس کی جوازیت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات براہ راست سپریم کورٹ کی توہین کے مترادف ہے اور ہمیں اْمید ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت جلد سے جلد اس کیس پر سماعت کرکے جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کو بحالی کریں۔
یو این آئی
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
