ہندوستان
حکومت اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کسی بھی بحران سے نمٹنے میں اہم : اسمرتی
نئی دہلی:خواتین اور بچوں کی ترقی کی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے بدھ کو کہا کہ کسی بھی بحران سے نمٹنے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری اہم ہے۔
5ویں راشٹریہ پوشن ماہ (یکم ستمبر سے 30ستمبر 2022)کے دوران ملک بھر میں مختلف موضوعات کے تحت 15کروڑ سے زیادہ سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جو سوپوشت بھارت کے لئے وزیر اعظم کے وژن میں تعاون کرتی ہے۔ 5ویں پوشن ماہ سے قبل ، ابھیان کے آغاز کے بعد سے 40کروڑ سے زیادہ کی اجتماعی سرگرمی کے ساتھ 4پوشن ماہ اور 4پوشن پکھواڑا منعقد کئے جاچکے ہیں۔
اس سال پوشن ماہ کے دوران گرام پنچایتوں کو تمام سرگرمیوں کا نقطہ بنایا گیا۔اس سے زمینی سطح پر مختلف کمیٹیوں کو منظم کرنے میں مدد ملی۔ جس میں دیہی صحت، صفائی اور تغذیہ کمیٹی (وی ایچ ایس این سی)، اسکول انتظامیہ کمیٹی(ایس ایم سی)؍تعلیمی کمیٹی، آبی اور ماحولیاتی رکھ رکھاؤ کمیٹی، منصوبہ اور ترقیاتی کمیٹی ، سماجی انصاف اسٹینڈنگ کمیٹی وغیرہ شامل ہیں۔پوشن پنچایتوں کو تمام سرگرمیوں کے مرکز کی شکل میں دیکھتے ہوئے وسیع تر پوشن ماہ 2022 کے لئے مہیلا اور سواستھیہ ، بچہ اور شکشا، صنفی حساسیت آبی نظم اور خواتین و بچوں کے لئے روایتی غذا جیسے موضوعات شامل تھے۔
’مہیلا اور سواستھیہ‘موضوع کے تحت ملک بھر میں اہم سرگرمیاں منعقد کی گئیں، جن میں انیمیا جانچ اور بیداری مہم (تقریباً 32لاکھ)، زچگی سے قبل جانچ کیمپ(تقریباً 11لاکھ)، ماہواری صفائی پر بیداری مہم (تقریباً 7لاکھ)، ہاتھ دھونےاور صاف صفائی (تقریباً 41لاکھ)وغیرہ پر سرگرمیاں شامل ہیں۔
دیگر اہم موضوع بچہ اورشکشا-پوشن بھی، پڑھائی بھی، جس میں 6 سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے معیاری پری اسکول تعلیم پر ماہ 2022 کے دوران توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا گیا۔اس موضوع کے تحت ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم پر مرکوز 81لاکھ کے قریب سرگرمیاں منعقد کی گئیں۔ علاوہ ازیں ابتدائی سیکھ کے لئے عام حساسیت پیدا کرنے کی غرض سے آنگن واڑی مراکز میں سودیشی اور مقامی طور سے دستیاب کھلونوں کے استعمال اور فروغ کو قومی سطح پر بڑھاوا دیا گیا۔
خواتین و اطفال ترقی کی مرکزی وزیر کی صدارت میں دہلی میں ابتدائی بچپن میں نشو و نما کے لئے سودیشی کھلونوں پر ایک قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔آنگن واڑی کارکنان؍معاونین تک تمام آئی سی ڈی ایس عہدیداران کے فائدے کے لئے ورکشاپ؍ سیمینار کا براہ راست نشریہ یوٹیوب پر کیاگیا۔ماہرین کے ذریعے عمر کے حساب سے کھلونوں اور کھلونوں کی اہمیت پر پینل مباحثے کے علاوہ ورکشاپ میں ملک کے مختلف علاقوں سے آنگن واڑی کارکنان کے ذریعے مقامی کھلونوں کی تعمیر کے ماسٹر آرٹسٹوں-افراد کے ذریعے سودیشی کھلونوں کی تعمیر کا لائیو مظاہرہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ موضوع کو ذہن میں رکھتے ہوئے متعدد ریاستوں نے اپنی سرگرمیاں انجام دیں۔ جیسے منی پورمیں اسٹیٹ ٹوائے تھن ؍کھلونا میلہ، گجرات کے اے ڈبلیو سی میں چھوٹے بچوں کے کھلونوں ؍کھیلو اور پڑھو میلہ منعقد کیا گیا۔ جھارکھنڈ میں اے ڈبلیو سی میں مقامی کھلونوں کی تعمیر سے متعلق ورکشاپ کا انعقاد ہوا اور اُڈیشہ کے اے ڈبلیو سی میں بچوں اور ماؤں کے ذریعے کھلونوں کی تعمیر کا پروگرام منعقد ہوا۔
اس کے علاوہ پوشن پکھواڑا 2022 میں آنگن واڑی مراکز میں آبی رکھ رکھاؤ اور نظم پر صنفی حساسیت بیداری اور قبائلی علاقوں میں روایتی غذائی اشیاء پر مرکوز موضوعات کے تحت کامیاب سرگرمیوں کے بعد ان اہم موضوعات کے تحت سرگرمیاں پوشن ماہ 2022 میں بھی جاری رہی ہیں۔بارش کے پانی کے رکھ رکھاؤ کے لئے بنیادی ڈھانچے کے قیام کی غرض سے آنگن واڑی مراکز کی شناخت کے لئے ورکشاپ، سمپوزیم اور ڈرائیو کے توسط سے صنفی حساسیت آبی نظم اور رکھ رکھاؤ کے موضوع پر تقریباً 43لاکھ سرگرمیوں کا انجام دیا گیا۔
سوستھ بالک اسپردھا کو چار ریاستوں، اترپردیش ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور آسام میں پوشن ماہ کے دوران کامیابی کے ساتھ چلایاگیا۔ اس مقابلے کا اہم مقصد ’صحت مند بچہ‘کی شناخت کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا تھا اور اس طرح بچوں اور خاندانوں میں اچھی صحت اور تغذیہ کی صورتحال کے لئے مقابلے کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔ پروگرام کے دوران پانچ سال کے کم عمر کے بچوں کے لئے نشو و نما ناپ سے متعلق اہم سرگرمیوں کا انجام دیا گیا۔فاتحین کا اعزاز کرنے کے لئے فاتح بچے اور والدین کو سرٹیفکیٹ مہیا کرنے کے پس منظر میں تغذیہ کِٹ ؍صاف صفائی کِٹ، مقامی طور سے دستیاب سودیشی کھلونے، پانی کی بوتل وغیرہ جیسے انعامات ؍تحائف تمام چار ریاستوں میں تقسیم کئے گئے۔
5ویں راشٹریہ پوشن ماہ کا اختتام 30ستمبر سے 2؍اکتوبر 2022 تک کرتویہ پتھ نئی دہلی میں پوشن اُتسو کے ساتھ ہوا۔ پوشن اُتسو نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو درست تغذیہ کی اہمیت پر اہم پیغامات کی تشہیر کے لئے ایک پلیٹ فارم کی شکل میں کام کیا، خاص طور سے بچوں کے لئے۔ ملک میں عدم تغذیہ کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے چھوٹے بچوں اور خواتین کو عمر کے حساب سے بہترین صحت روایتوں کے بارے میں بیدار کرنا اس اُتسو کا بنیادی مقصد تھا۔ پوشن اُتسو میں پوشن سے متعلق پوشن پریڈ ، صحت مند –غذا اسٹالوں، صحت جانچ اسٹالوں وغیرہ پر ثقافتی پروگراموں کے ساتھ اور عزت مآب وزیر اعظم کے ساتھ اے آر فوٹو سیشن شامل تھے، جس نے بچوں اور دوسرے لوگوں کو بڑے پیمانے پر متوجہ کیا۔
اُتسوکے حصے کی شکل میں آیوش وزارت نے نمائش ؍فروخت کے لئے آیوش تغذیاتی روایتوں اور آیوروید مصنوعات ؍یوگا سے متعلق لیٹریچر کے ساتھ اسٹال نصب کئے۔مفت صحت جانچ کے لئے بوتھ بھی لگائے گئے، جس میں مہمانوں کی بی ایم آئی جانچ کے لئے مشینیں بھی شامل تھیں۔چونکہ آنگن واڑی مراکز میں بچوں کی ابتدائی سیکھ اور نشو و نما کے لئے سودیشی کھلونے ایک اہم سامان ہے، اس لئے ملک کے مختلف حصوں سے تقریباً 9مقامی روایتی کھلونوں کے گروپ جیسے ایٹی کوپکّا(آندھر پردیش)، کونڈا پلّی(آندھر پردیش)، چترکوٹ(اترپردیش)، وارانسی (اتر پردیش)، کٹھ پتلی دستکاری(راجستھان)، میسور (کرناٹک)، منگلور(کرناٹک)، چنّا پٹنا(کرناٹک)، اندور(مدھیہ پردیش)وغیرہ کے گروپ شامل تھے۔
بڑے پیمانوں پر بچوں اور عوام کو متوجہ کرنے کے لئے وزیر اعظم کے ساتھ فوٹو کے لئے ایک اے آر فوٹو بوتھ قائم کیا گیا تھا۔تمام آنے والوں کے لئے ایک بڑی کشش کا مرکز تھا۔ اندازہ ہے کہ 3دنوں میں تقریباً 1.5 سے 2لاکھ افراد نے اس پوشن اُتسو میں حصہ لیا۔
8مارچ 2018 کو وزیر اعظم کے ذریعے شروع کیا گیا پوشن ابھیان بچوں ، نو عمر بچیوں ، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں کے لئے تغذیہ سے متعلق نتائج میں بہتری لانے کے لئے حکومت ہند کا اہم پروگرام ہے۔عوامی تحریک کے توسط سے ابھیان کا مقصد پورے ہندوستان میں تغذیہ سے جڑے رویے میں تبدیلی لانا ہے، جس سے وزیر اعظم کے سوپوشت بھارت وژن میں تعاون ملتا ہے۔
15ویں مالیاتی کمیشن کی مدت کے لئے آنگن واڑی خدمات (اے ڈبلیو ایس)اور نو عمر بچیوں کےلئے اسکیم(ایس اے جی)کے ساتھ پوشن ابھیان سے مربوط آنگن واڑی اور پوشن 2.0نامی ایک مربوط پوشن امدادی پروگرام کا حصہ ہے۔پوشن ابھیان کے تحت تغذیہ پر مرکوز جن آندولن پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑہ کی شکل میں سال میں دو بار منعقد ہوتا ہے، جو لوگوں کے درمیان خواہش کے مطابق رویے میں تبدیلی لانے کے لئے اہم اکائیوں میں سے ایک بنا ہو اہے۔
یو این آئی۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
