جموں و کشمیر
عدالت نے بادامی باغ کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے بے دخل کرنے والے الاٹی کو10 لاکھ روپیہ معاوضہ دیا
سری نگر:جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے اْس شخص کو 10 لاکھ روپیے معاوضہ دیا ہے جس کو سال 1998 میں وزارت دفاع کے بادامی باغ کنٹونمنٹ بورڈ نے دکان اور رہائش گاہ سے بے دخل کیا تھا۔
یہ معاوضہ جسٹس سنجے دھر نے ایک عرضی کو نمٹانے ہوئے دیا جس کے مطابق عرضی گذار یہ ڈیکلریشن طلب کر رہا تھا کہ صدر بازار بادامی باغ چھاؤنی میں واقع دکان و مکان سے اس کی بے دخلی غیر قانونی اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ آر اے جان، ایڈوکیٹ طٰہٰ خلیل کے ساتھ عرضی گذار کی نمائندگی کرتے تھے۔
یہ عرضی سال1998 میں دائر کی گئی تھی اور عرضی گذار کا عرضی کے زیر التوا ہونے کے دوران ہی انتقال ہوا تھا اور اب اس کے قانونی ورثا سال2007 سے یہ مقدمہ لڑ رہے تھے۔کورٹ کو بتایا گیا کہ کنٹونمنٹ بورڈ نے عرضی گذار کو دکان و رہائشی جگہ الاٹ کی تھی جس کو وہ کرایہ وغیرہ کی ادائیگی سمیت باہمی طور طے شدہ شرائط و ضوابط پر قریب پانچ دہائیوں سے استعمال کرتا تھا۔
عرضی گذار کے مطابق کنٹونمنٹ بورڈ کے ایگزیکیٹو افسر نے چارج سنبھالنے کے بعد یکطرفہ فیصلہ لیتے ہوئے کرایوں میں 150 فیصد سے600 فیصد تک اضافہ کیا جس پر صدر بازار بادامی باغ چھاؤنی کے تاجروں اور تاجر ایسو سی ایشن نے اپنے صدر وجے شرما جو عرضی گذار کا فرزند ہے، کی طرف سے احتجاج کیا۔
ملی ٹنسی کے آغاز کے بعد جب سیکورٹی وجوہات کی بنا پر سیکورٹی پاسز لازمی بن گئے تو حکام نے مبینہ طور پر سیکورٹی پاسز کے تجدید کو روک لیا تاکہ عدات کی طرف سے جمود کے حکم کے باوجود ایسو سی ایشن کے ممبران کو اضافی ریٹ پر کرایہ جمع کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔انٹری پاسز کی تجدید روکے جانے کے باعث عرضی گذار اور اس کے اہلخانہ کا ان کے احاطے میں داخل ہونا اور باہر نکلنا مشکل ہوگیا۔
عرضی میں کہا گیا کہ بعد ازاں 26 دسمبر 1998 کی علی الصبح کنٹونمنٹ بورڈ کے انجینئر اور 13 گڑھوال رائفلز کے کمانڈنگ افسر نے برگیڈیر اور کنٹونمنٹ کے ایگزیکٹیو افسر کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے مبینہ طور پر بے جا مداخلت کی اور عرضی گذار اور اس کے اہلخانہ کو احاطے سے باہر نکالا گیا۔کورٹ کو بتایا گیا: ’حکام نے مبینہ طور پر قانون کی پاسداری کئے بغیر عرضی گذار کا تمام مال و اسباب اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا‘۔
عرضی کا مقابلہ کرتے ہوئے کنٹونمنٹ بورڈ کے وکیل ایڈوکیٹ شہباز سکندر میر نے اس بات سے انکار کیا کہ عرضی گذار پانچ دہائیوں سے احاطے پر قابض تھا اور کہا کہ عرضی گذارکے حق میں الاٹ شدہ دکان چلانے کے لئے صرف ایک سال کے لئے لائسنس دیا گیا تھا اور مجاز اتھارٹی نے اس لائسنس کی مختصر مدت کے لئے کئی بار تجدید بھی کی تھی۔یہ استدلال کیا گیا کہ عرضی گذار نے 31 مارچ 1998 کے بعد اپنی لائسنس کی تجدید کے لئے درخواست نہیں دی تھی جس پر بورڈ نے اس کی تجدید پر غور نہیں کیا۔
موصوف وکیل نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ درخواست گذار کے احاطے پر زبردستی قبضہ کیا گیا اور دعویٰ کیا کہ جواب دہندہ نے طاقت کا استعمال کئے بغیر تحت قانون نوٹس جاری کرنے کے بعد احاطے پر قبضہ کیا۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ مارچ 1998 تک عرضہ گذار کا زیر بحث جگہ پر قبضہ قانونی نوعیت کا تھا اور جب لائسنس کی تجدید نہیں ہوئی تو اس کی حیثیت ایک غیر مجاز قابض کی ہوگئی تاہم عوامی احاطے سے ایک غیر مجاز قابض کی بے دخلی کے لئے (غیر مجاز قابضین کی بے دخلی) ایکٹ 1971 میں موجود دفعات کے تحت ایک تفصیلی طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ مذکورہ ایکٹ سکیشن 4 کے تحت واضح طور پر غیر مجاز قابضین کو بے دخلی سے قبل نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاہم عدالت نے نوٹس کیا کہ جواب دہندگان کے پاس اپنے دعوے کی حمایت کے لئے کوئی ریکارڈ نہیں تھا کہ انہوں نے عرضی گذار کو نوٹس جاری کیا تھا۔عدالت نے کہا کہ درخواست گذار کو عوامی احاطے سے مقررہ قوانین کی پیروی کئے بغیر بے دخل کیا گیا ہے چونکہ جواب دہندگان نے عرضی گذار کو بے دخل کرنے کے لئے قانونی طریقہ کار کا سہارا نہیں لیا ہے لہذا عرض گذار کو بے دخل کرنے کی ان کی کارروائی کو غیر ا?ئینی اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔
اس معاملے میں عدالت کی طرف سے مقرر شدہ کمشنروں کی رپورٹس سے مدد لیتے ہوئے عدالت نے نوٹ کیا کہ فریقین کے مشترکہ معائینہ رپورٹ میں عرضی گذار کا بڑی مقدار میں سامان بھی واضح طور پر غائب ہے۔عدالت نے کہا کہ عرضی گذار کو تقریباً 8 لاکھ روپیوں کا نقصان ہوا ہوگا۔
عدالت نے جواب دہندگان کو ہدایت دی کہ وہ عرضی گذار کو 10 معاوضہ ادا کریں جس میں اس کے سامان کی قیمت بھی شامل ہے۔کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے عرضی گذار کے قانونی ورثا کو یہ معاوضہ یہ حکمنامہ جاری ہونے کے بعد دو مہینوں کے اندر اندر ادا کیا جانا چاہئے۔
یو این آئی
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
