جموں و کشمیر
حکمران لوگوں کے دل جیتنے کے بجائے مجروح کرنے میں مصروف: عمر عبداللہ
سری نگر: جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہاکہ یوگا ڈے منانے میں کوئی حرج نہیں لیکن کیا یہ ضروری تھا کہ چرار شریف جیسی پاک اور مقدس درگاہ کے صحن کو استعمال کیا جائے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ روز ہی پلوامہ میں مسجد کے امام اور لوگو ں کازد کوپ کیا گیا اور ایسے نعرے لگوائے گئے جس سے ہم سب کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے ڈکسم کوکر ناگ میں ایک اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔
عمر عبداللہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں عوامی جذبات اور احساسات حکومت کیلئے کوئی معنی نہیں رکھتے ہیں۔ ایک طرف لوگوں کے دل جیتنے کے جھوٹے بیانات دیئے جارہے ہیں اور دوسری جانب ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس سے لوگوں کو دلوں کو مجروح کیا جارہاہے۔
انہوں نےکہا کہ ”گذشتہ دنوں یوگا ڈے منایا گیا، شوق سے منایئے کس کو اعتراض ہے پوری دنیا میں منایا جاتا ہے، اس حکومت سے پہلے بھی منایا جاتا تھا اور اس حکومت کے بعد بھی منایا جائے گا، لیکن کیا یہ ضروری تھا کہ چرار شریف جیسی ہماری پاک اور مقدس درگاہوں کے صحنوں کا استعمال کیا جائے۔
وہ کافی نہیں تھا کہ پھر گذشتہ روز پلوامہ میں مسجدوں میں امام اور لوگوں کا زدوکوب کیا گیا اور ایسے ایسے نعرے لگوائے گئے جس سے ہم سب کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں کے دل جیت رہے ہیں ،لیکن لوگو ںکے دل ایسے نہیں جیتے جاتے، اس طرح سے تو آپ لوگوں پیچھے دھکیل رہے ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ ”آج لوگ اتنے سہمے ہوئے ہیں کہ اُن کو بات کرنے کی ہمت نہیں۔ میڈیا کو اتنا زیادہ دبایا گیا ہے کہ کوئی یہ خبر شائع کرنے کیلئے تیار نہیں۔
انہوں نے کہاکہ میڈیا ہماری نکتہ چینی اور ہمارے کارٹون تو روز بناتی ہیں لیکن کبھی حکومت کی نکتہ چینی کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا۔“
عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام اس وقت زبردست مشکلات سے دوچار ہیں، لیکن لوگوں کی پریشانوں کا کہیں مداوا نہیں ہوتا، بجلی کی حالت دیکھئے ، سمارٹ میٹر لگائے جارہے ہیں لیکن موسم گرما میں بجلی کی سپلائی پوزیشن سرما سے بھی بدتر ہے۔
راشن کی صورتحال دیکھئے، کاٹتے کاٹتے 5کلو تک پہنچایا گیا اور اب وہ 5کلو بھی دستیاب نہیں۔ پینے کے صاف پانی کی قلت سے لوگ پریشانِ حال ہیں، بنیادی ضروریات کا کہیں نام و نشا نہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں وزیر داخلہ صاحب یہاں آئے اور بڑی بڑی تقریریں جھاڑ کر چلئے گئے لیکن حقیقی زمینی صورتحال دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گولڈ کارڈ سے 5لاکھ روپے کا مفت علاج میسر ہے لیکن انہیں یہ بات معلوم نہیں کی اُن کا یہ گولڈ کارڈ اب کوئی ہسپتال والا لینے کیلئے تیار نہیں کیونکہ اُن کی حکومت نے ان کی بلیں ادا نہیں کی ہیں۔
عمر عبداللہ نے پارٹی لیڈران اور عہدیداران پر زور دیا کہ وہ لوگوں کیساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور اُن کے مسائل و مشکلات اُجاگر کرنے کے علاوہ ان کا سدباب کرانے میں اپنا رول نبھائیں اور ساتھ ہی نیشنل کانفرنس کے نیا کشمیر منشور سے لوگوں کو آگاہ کریں اور پارٹی کی مضبوطی کیلئے تن دہی سے کام کریں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
