جموں و کشمیر
جموں وکشمیر میں پی ایم اے وائی کے تحت کسی بھی غیر مقامی شہری کو زمین نہیں دی جا رہی ہے: منوج سنہا
سری نگر، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی) اسکیم کے تحت کسی بھی غیر مقامی شہری کو زمین فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘جن لوگوں نے غیر قانونی طور پر سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہے ان چاہئے کہ وہ لوگوں کو گمراہ نہ کریں’۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک بے گھر کنبوں کے لئے ایک لاکھ 99 ہزار 5 سو گھر منظور کئے گئے ہیں۔
موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے ڈاک بنگلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘کئی لوگ میرے پاس آئے اور کہا کہ ہم پی ایم اے وائی اسکیم کے مستحق ہیں کیونکہ ہمارے پاس زمین نہیں ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘لہذا انتظامیہ نے اس کا جائزہ لے کر یہ فیصلہ لیا کہ ایسے کنبوں کو پی ایم اے وائی اسکیم کے تحت فی کنبہ 5 مرلہ اراضی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے گھر بنا سکیں”۔
مسٹر سنہا نے کہا کہ اب تک بے گھر کنبوں کے لئے ایک لاکھ 99 ہزار 5 سو گھر منظور کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘ان منظور شدہ گھروں میں 46 ہزار شیڈول ٹارئب اور شیڈول کاسٹ زمرے کے کنبے اور 2711 ایسے کنبے شامل ہیں جن کے پاس زمین نہیں ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کر رہے ہیں کہ یہاں زمین غیر مقامی لوگوں کو فراہم کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر میں کسی بھی غیر مقامی شہری کو زمین فراہم نہیں کی جا رہی ہے’۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کسی سیاسی لیڈر کا نام لئے بغیر کہا: ‘جن لوگوں نے سرکاری زمین پر قبضہ کرکے بڑے محل تعمیر کئے ہیں، ان کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنا بند کریں’۔
انہوں نے کہا: ‘ان کو چاہئے کہ وہ لوگوں میں انتشار پھیلانا بند کریں میں اس میں نہیں جانا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں نے جو سرکاری زمین پر بڑے محل تعمیر کئے ہیں ان کے لئے پیسہ کہاں سے لایا’۔
جموں وکشمیر میں قیام امن کے لئے لوگوں کا تعاون طلب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘قیام امن کے لئے سیکورٹی فورسز اور پولیس اپنا کام بخوبی انجا دے رہے ہیں لیکن بحثیت مجموعی یہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن قائم کرنے کے لئے اپنا رول ادا کریں’۔
مسٹر سنہا نے کہا کہ جموں وکشمیر کو خوشحال بنانے کے لئے تجاویز حاصل کرنے لئے میں تیار ہوں لیکن وہ تجاویز سیاسی نوعیت کی نہیں ہونی چاہئے۔
مقبول شیر وانی ہال میں سو سیٹوں والے سنیما ہال کا افتتاح کرنے کے بعد ان کا کہنا تھا: ’30 برسوں کے بعد بارہمولہ کو ایک سنیما ہال ملا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ یہ سنیما ہال صرف تفریح کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ نوجوانوں کے لئے سیکھنے کا بھی ایک موثر وسیلہ ہوگا جو تعلیم، ٹیکنالوجی اور فن کے میدانوں میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
منوج سنہا نے کہا کہ ہمارا خواب ہے کہ ہر ضلع میں اس طرح کی سہولیت میسر ہو۔
انہوں نے کہا: ‘جو نوجوان انٹرپرونیور بننا چاہتے ہیں میں ان کو بھروسہ دینا چاہتا ہوں کہ ان کی تربیت سے لے کر مالی مدد تک کی ذمہ داری انتطامیہ کی ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں نوجوانوں کے لئے کھیل میدان اور سپورٹس انفراسٹرکچر میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
