جموں و کشمیر
بادام واری، قلعہ ہاری پربت میں تیندوے کی موجودگی سے لوگوں میں خوف وہراس، پولیس نے ایڈوائزری جاری کی
سری نگر، پائین شہر کے بادام واری ، قلعہ ہاری پربت کے نزدیک تیندوے کی موجودگی کے بعد لوگ گھروں میں محصور ہو کررہ گئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ وائلڈ لائف محکمہ نے جنگلی جانور کو پکڑنے کی خاطر جگہ جگہ پھندے نصب کئے ۔
پولیس نے لوگوں سے تلقین کی ہے کہ وہ گھروں کے اند رہی رہیں اور غیر ضروری طورپر باہر آنے سے گریز کریں۔
یو این آئی اردو کے نامہ نگار نے بتایا کہ شہر خاص کے بادام واری اور قلعہ ہاری پربت کے نزدیک ایک تیندوے کو دیکھا گیا جس کے بعد پورے علاقے میں خوف ودہشت کی لہر دوڑ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیر کی شام کو بادام واری علاقے میں ایک نوجوان نے تیندوے کو دیکھا اور اس بارے میں فوری طورپر پولیس کو آگاہ کیا چنانچہ پولیس ٹیم فوری طورپر جائے موقع پر پہنچی اور قلعہ ہاری پربت کے اردگرد رہائش پذیر لوگوں سے تلقین کی کہ وہ گھروں سے غیر ضروری طورپر نکلنے سے اجتناب کریں۔
پولیس نےلاوڈ سپیکروں پر اعلانات کئے کہ لوگ کھڑکیوں کو بھی بند رکھیں کیونکہ بادام واری میں تیندوے کو دیکھا گیا۔
سٹی رپورٹر نے بتایا کہ چونکہ قلعہ ہاری پربت جنگلی علاقہ ہے اور یہاں پر جنگلی جانور کو ڈھونڈنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ قلعہ ہاری پربت اور اس کے اردگرد علاقوں میں جگہ جگہ پھندے نصب کئے گئے ہیں تاکہ جلدازجلد تیندوے کو پکڑ کر وائلڈ لائف سنچری منتقل کیا جاسکے۔
رینج آفیسر نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیا واقعی میں یہ تیندوا ہی ہے یا کوئی اور دوسرا جنگلی جانور ۔
انہوں ن کہاکہ عین شاہد نے بتایا کہ اس نے تیندوے جیسے جانور کو چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا ۔
رینج آفیسر نے مزید بتایا کہ قلعہ ہاری پربت اور اس کے ملحقہ علاقوں میں وائلڈ لائف اور محکمہ جنگلات کے اہلکار اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیا واقعی میں یہ تیندوا تھا یا کوئی اور دوسرا جانور ۔
انہوں نے بتایا کہ تیندوے کے پیروں کے نشانات کو بھی تلاش کیا جارہا ہے اور ابھی ہم اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتے کہ واقعی میں یہ تیندوا ہی ہے یا کوئی اور دوسرا جنگلی جانور
موصوف آفیسر نے لوگوں سے تلقین کی ہے کہ بادام واری سائڈ سے قلعہ ہاری پربت اور آستانہ عالیہ مخدوم صاحب پر جانے سے گریز کریں۔
انہوں نے کہاکہ قلعہ ہاری پربت ایک جنگلی علاقہ ہے لہذا یہاں پر تیندوا یا کوئی اور دوسرا جنگلی جانور آسانی کے ساتھ رہ سکتا ہے اور اگر وہ بھوکا ہے تو وہ انسانوں پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انسانی جانوں کے تحفظ کی خاطر لوگ آستانہ عالیہ مخدوم صاحب جانے سے فی الحال اجتناب کریں۔ تاریخی ملہ کھاہ کے اردگر رہائش پذیر لوگوں کو بھی محتاط رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ بادام واری اور اندرونی کاٹھی دروازہ میں منگل کے روز سبھی نجی اور سرکاری اسکول بند رہے ۔
بادام واری میں تیندوے کی موجودگی کے باعث کاٹھی دروازہ، شیخ کالونی ، مخدوم صاحب، بہاو الدین صاحب ، تجگری محلہ ، شہام پورہ ، تجگری محلہ ، قطب الدین پورہ اور سید پورہ علاقوں کے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
