جموں و کشمیر
فوج نے سری نگر مہم کے دوران سائیکلسٹ بھائو صاحب بھاور کی عزت افزائی کی
سری نگر، مہاراشٹرا کے جالنہ ضلع کے حسن آباد گائوں سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ سائیکلسٹ بھائو صاحب بھاور سائیکل پر روزانہ 50 سے 60 کلو میٹر کا سفر کرکے لوگوں کو سماجی برائیوں کے متعلق جانکاری فراہم کرتا ہے۔
وہ سری نگر میں اپنی اس مہم کے دوران 31 سب ایئریا کے جی او سی میجر جنرل پی بی ایس لامبہ سے ملاقی ہوئے اور انہوں نے آرمی پبلک اسکول میں طلبا کے مجمع کو خطاب بھی کیا۔
سری نگر نشین ایک دفاعی ترجمان کے مطابق موصوف سائیکلسٹ نے فوجی افسروں سے بات چیت دوران کہا: ‘میرا اس مہم کا مقصد لوگوں کو سماجی برائیوں کے متعلق جانکاری فراہم کرنا ہے’۔
سائیلسٹ کا کہنا ہے: ‘میں گذشتہ قریب 3 دہائیوں سے ملک کے گوشہ و کنار جا رہا ہوں اور سماجی برائیوں جیسے جہیز وغیرہ کی بیخ کنی اور آپسی بھائی چارے کی تشہیر میرا مشن ہے’۔انہوں نے کہا: ‘علاوہ ازیں میں منشیات، صفائی ستھرائی، کورپشن، کھانے پینے کے عادات وغیرہ کے متعلق نوجوانوں کے ساتھ گفتگو بھی کرتا ہوں’۔انہوں جی او سی کے ساتھ اپنے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ‘میرا گھر ہے نہ کوئی موبائل نمبر یا بینک اکائونٹ نمبر جہاں میرا سائیکل رکتا ہے وہی میرا گھر ہے’۔
مسٹر بھاور نے کہا: ‘میری عمر سولہ سال کی تھی جب میری بہن اور خاندان کو جہیز کے نام پر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا’۔انہوں نے کہا: ‘ میرے گھر والوں نے میری بہن کو شادی پر تحفے دیئے لیکن اس کے باوجود اس کے سسرال والے مزید جہیز کا مطالبہ کرتے رہے اوریہ وقت پورے خاندان کے لئے انتہائی آزمائش اور کٹھن وقت تھا’۔
یہ سمجھتے ہوئے کہ اس سماجی بیماری کے خاتمے کے لئے بیداری کلیدی اہمیت رکھتی ہے، مسٹر بھاور نے سال 1993 میں سائیکل پر بیداری مہم شروع کی۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا: ‘جہیز جنین کشی کی بنیادی وجہ ہے اور لوگ اپنی بیٹیوں کی شادی خانہ آبادی سے ڈر محسوس کر رہے ہیں کہ کہیں انہیں بھی سسرال میں ہراسانی کا سامنا نہ کرنا پڑے’انہوں نے کہا کہ میں جہیز کی سماجی بدعت کے متعلق تعلیمی اداروں میں جانکاری پروگراموں کا بھی اہتمام کرتا ہوں۔
مسٹر بھاور بغیر موبائل فون اور پیسوں کے ہر روز اپنے سائیکل پر 50 سے 60 کلو میٹروں کا سفر کرکے اپنے مشن کو سر انجام دے رہا ہے۔انہوں نے کہا: ‘میں ہر روز صبح چار بجے اپنا سفر شروع کرتا ہوں، رات کا قیام مندروں، گرجا گروں، گردواروں یا مسجدووں میں کرتا ہوں’۔
موصوف آرام کرنے کے لئے اپنے ساتھ فولڈ ہونے والی کرسی رکھتے ہیں اور اپنے ساتھ 30 کلو وزن ہے دستاویزات بھی اٹھاتے ہیں جن میں بڑی شخصیات کے ساتھ لی گئی تصاویز، اخباروں کی کلپنگس وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے سال 1993 سے 2006 تک لگاتار تین جانکاری مہمیں چلائیں اس کے پاس شادی کرنے کے لئے سوچنے کا بھی وقت نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے: ‘میں اپنے والد وتھل رائو بھاورکے جنازے میں بھی شرکت نہ کرسکا اپنی والدہ کالا بھائی کے ساتھ فون پر کرتا ہوں’۔
جب ان سے یہ کہا گیا کہ زندہ رہنے کے لئے کیا کرتے ہیں تو ان کا جواب تھا: ‘سب اوپر والے کا کرم ہے وہی ہماری دیکھ ریکھ کر رہا ہے اگر آپ کا دل صاف اور ضمیر پاک ہے تو اچھے لوگ جمع ہو کر آپ کا خیال رکھیں گے’۔موصوف سائیکلسٹ کبھی بھی جلدی میں نہیں رہتے ہیں اور نہ ہی کبھی ان کے ساتھ کوئی ناساز گار واقع پیش آیا ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
