جموں و کشمیر
مولا نا عبدالرشید داودی اور مولانا مشتاق احمد بٹ ویری کو رہا کرنے کا حکم
سری نگر، جموں وکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے دو مذہبی رہنماوں کے حراستی احکامات کو منسوخ کرکے ان کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے ہیں۔
ہائی کورٹ کے دو الگ الگ بنچوں نے مولوی عبد الرشید داودی اور مولانا مشتاق احمد بٹ ویری کے حراستی احکامات کو منسوخ کیا ہے۔
مولانا ویری کو سال گزشتہ کے 13 ستمبر کو گر فتار کیا گیا تھا کہ جبکہ مولانا داودی کو بھی سال گزشتہ کی حراست میں لے کر سینٹرل جیل کوٹ بلوال جموں میں بند رکھا گیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر لداخ ہائی کورٹ نے جمعے کے روز دو مذہبی رہنماوں پر عائد پبلک سیفٹی ایکٹ کو کالعدم قرار دیا ہے۔
دونوں رہنماوں نے اپنی نظر بندی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار داودی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اتھارٹی نے بغیر سوچے سمجھے انہیں پی ایس اے کے تحت نظر بند کرنے کا حکم جاری کیا ۔
وکیل نے دلیل دی کہ حراست کے حوالے سے جن الزامات کو بنیاد بنا یا گیا ان کا نظر بندی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
جسٹس سنجے دھر نے مولوی عبدالرشید داودی کی نظر بندی کے حکم کو منسوخ کرنے کے احکامات جاری کئے ۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ”موضوع پر مذکورہ قانونی موقف سے، یہ واضح ہے کہ نمائندگی پر عدم غور یا غیر معقول تاخیر سے غور کرنا آئین کے آرٹیکل 22(5) کی عدم تعمیل کے مترادف ہے، جس کے نتیجے میں یہ نظر بندی قانون میں غیر پائیدار ہو جاتی ہے لہذا نظر بندی کے غیر قانونی حکم کو منسوخ کردیا جاتا ہے۔
عدالتی حکم میں مولانا داودی کو فوری طورپر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ نظر بندی کے غیر قانونی حکم کو منسوخ کر دیا جاتا ہے اور اسے فوری طور پر احتیاطی حراست سے رہا کیا جائے بشرطیکہ درخواست گزار کسی دوسرے کیس میں مطلوب نہ ہو۔
دریں اثنا مولانا ویری کے وکیل نے اپنی درخواست میں کہاکہ انہیں اس سے قبل سال 2019میں حراست میں لیا گیاا ور ہائی کورٹ نے بعد ازاں نظر بندی کے حکم کو منسوخ کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مولانا ویری کو جس بنیاد پر سال 2019میں حراست میں لیا گیا تھااور اسی بنیاد پرانہیں اس کیس میں بھی نظر بند رکھا گیا ہے۔
ویری کے وکیل نے دلیل دی کہ نظر بندی کا حکم مبہم اورمخصوص تفصیلات سے عاری ہے۔
سرکاری وکیل نے اس موقع پر کہا کہ مولانا ویری اس وقت جمعیت اہلحدیث کے نائب صدر کے طورپر خدمات انجام دے رہا ہے اور اس نے سال 2016میں نوجوانوں کو اکسانے میں کلیدی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں اس کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔
حکومت نے دلیل دی کہ درخواست گزار مسلسل ملک مخالف تقاریر کر رہا ہے اور اس کی سرگرمیوں کو امن عامہ کی بحالی کے لیے متعصبانہ ہونے کے پیش نظرحراستی حکم جاری کیا گیا ۔
عرضی گزار کو مطلع کیا گیا کہ اگر وہ چاہے تو اسے نظر بندی کے حکم کے خلاف ضلع مجسٹریٹ، اننت ناگ اور حکومت سے بھی نمائندگی کرنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے وکیل موصوف کی جانب سے پیش کئے گئے اعتراضات سے اختلاف کیا اور عدالت سے اسرار کیا کہ نظر بندی کا فیصلہ فی الحال برقرار رکھا جائے۔
ہائی کورٹ کے جج رجنیش اوسوال نے ضلع مجسٹریٹ اننت ناگ کی جانب سے مولانا ویری پر عائد کئے گئے پی ایس اے کو کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کے احکامات صادر کئے۔
عدالتی حکم کے مطابق :’درخواست گزار کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ متعلقہ ضلع مجسٹریٹ کے سامنے ایک حلف نامہ پیش کرے کہ درخواست گزار کسی بھی موقع پر کوئی نفرت انگیز یا ملک مخالف تقریر نہیں کرے گا۔ درخواست گزار کو حراست سے رہائی کے بعد دو دن کی مدت کے اندر انڈرٹیکنگ بھی پیش کرنی ہوگی۔‘
عدالتی حکم میں مولانا ویری کو فوری طورپر رہا کرنے کے احکامات صادر کئے گئے بشرطیکہ درخواست گزار کسی اور کیس میں ملوث نہ ہوں۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
