پاکستان
سارہ شریف کے قتل کیس میں مطلوب والد ، ماں اور چچا گرفتار
اسلام آباد، پاکستانی نژاد برطانوی 10 سالہ سارہ شریف کے قتل کے الزام کا سامنا کرنے والے والد، ان کی اہلیہ اور بھائی کو برطانیہ پہنچتے ہی حکام نے گرفتار کرلیا۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ تینوں بدھ کو پاکستان سے روانہ ہوئے تھے اور اسی رات گیٹ وک ایئرپورٹ پر اترے تھے۔
سرے پولیس نے بدھ کی رات جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ دو مردوں اور ایک خاتون کو دبئی سے آنے والی پرواز سے اترنے کے بعد قتل کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔
دس سالہ سارہ شریف کے والد 41 سالہ عرفان شریف، ان کی اہلیہ 29 سالہ بینش بتول اور عرفان کے بھائی 28 سالہ فیصل ملک کو برطانیہ کے مقامی وقت کے مطابق شام سات بج کر 45 منٹ پر گرفتار کیا گیا۔
پولیس حکام نے مشتبہ افراد کے نام نہیں بتائے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ان تینوں شہریوں کا حوالہ دے رہے ہیں جو پاکستان سے روانہ ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ پولیس نے بتایا تھا کہ پاکستانی نژاد برطانوی 10 سالہ سارہ کے قتل کے الزام کا سامنا کرنے والے والد، ان کی اہلیہ اور بھائی برطانیہ روانہ ہوگئے ہیں جو کئی دنوں سے چھپے ہوئے تھے۔
راولپنڈی کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) سید خرم علی نے ڈان ڈاٹ کام کو مذکورہ پیش رفت کی تصدیق کی تھی۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے ترجمان مدثر خان نے بتایا تھا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کیس کے تین مشتبہ افراد پرواز میں سوار ہوگئے ہیں اور برطانیہ کے لیے راستے میں ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر چلے گئے ہیں اور اس حوالے سے حکام کو آگاہ کیا تھا۔
ملزم عرفان شریف کے والد محمد شریف کے وکیل راجا حق نواز نے بھی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ میں تصدیق کر رہا ہوں کہ انہیں گرفتار نہیں کیا گیا لیکن وہ رضاکارانہ طور پر چلے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ وہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے جانے والی پرواز میں سوار ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ برطانوی پولیس نے کہا تھا کہ 10 سالہ سارہ شریف جنوبی برطانیہ کے قصبے ووکنگ میں 10 اگست کو گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی تھیں اور پوسٹ مارٹم ٹیسٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ انہیں کئی زخم آئے تھے اور شدید زخم طویل عرصے سے موجود تھے۔
برطانیہ کی پولیس نے اس سے قبل کہا تھا کہ سارہ شریف کے والد 41 سالہ عرفان شریف، ان کی اہلیہ 29 سالہ بنیش بتول اور ان کے 28 سالہ بھائی فیصل ملک اپنے بچوں کے ساتھ سارہ کی لاش برآمد ہونے سے قبل پاکستان فرار ہوگئے ہیں اور ان کے بچوں کی عمریں ایک سال سے 13 سال کے درمیان ہیں۔
پولیس کا ماننا ہے کہ سارہ شریف کے انتقال کے ایک روز بعد تینوں افراد اپنے 5 بچوں کے ساتھ برطانیہ سے پاکستان روانہ ہوگئے اور تینوں مشتبہ افراد سارہ کی لاش برآمد ہونے سے ایک روز قبل 9 اگست کو ملک چھوڑ کر گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان جانے کے لیے ایک طرف کا ٹکٹ خریدنے کے لیے 5 ہزار پاؤنڈ خرچ کیے۔
گزشتہ روز مطلوب جوڑے کے 5 پاکستانی نژاد برطانوی بچوں کو ریاستی تحفظ میں لیا گیا تھا اور پولیس کا کہنا تھا کہ بچے جہلم میں عرفان شریف کے والد کے گھر میں موجود تھے اور پولیس کو ان کے وہاں چھپے ہونے کی معلومات ملی تھیں۔
اس سے قبل جوڑے نے گزشتہ ہفتے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ وہ برطانوی حکام کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔اے ایف پی کو بتول کے رشتہ داروں کی جانب سے موصول ہونے والی ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ سارہ کی موت ایک حادثہ تھا، جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے پاکستان میں ہمارا خاندان بری طرح متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ میری بڑی تشویش یہ ہے کہ پاکستانی پولیس تشدد کرے گی یا ہمیں مار دے گی، اسی لیے ہم چھپ گئے ہیں۔پاکستان میں موجود عرفان کے والد اور بھائی نے دعویٰ کیا تھا کہ سارہ کا انتقال ایک حادثہ تھا۔
پولیس نے عرفان شریف کے 10 سے 15 رشتہ داروں سے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ رشتہ داروں کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا اور مفرور جوڑے کے ٹھکانے کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تھی، انہیں گرفتار نہیں کیا گیا تھا اور پوچھ گچھ کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
یواین آئی۔ م س
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
