جموں و کشمیر
دفعہ 370:جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ کا عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اظہار ‘مایوسی’
سری نگر، جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور غلام نبی آزاد نے عدالت عظمیٰ کے دفعہ 370 کی منسوخی کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر ‘مایوسی’ کا اظہار کیا ہے۔
بتادیں کہ عدالت عظمیٰ نے پیر کو مرکزی حکومت کے دفعہ 370 کی منسوخی کے فیصلے کو بر قرار رکھا اور الیکشن کمشین کو جموں وکشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات منعقد کرانے کے لئے اقدام کرنے کی ہدایت دی اور انہوں نے جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے لئے فوری اقدام کرنے کی بھی ہدایت دی۔
نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘میں مایوس لیکن دل شکن نہیں ہوا ہوں، ہماری جدو جہد جاری رہے گی’۔
ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا: ‘بی جے پی کو اس مقام تک پہنچنے کے لئے کئی دہائیاں لگ گئیں اور ہم اس طویل جد وجہد کے لئے تیار ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘ہم دفعہ 370 کے حوالے سے کامیاب ہوں گے’۔
ڈیموکریٹک پروگرسیو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) کے چیئر مین اور جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر میڈیا کو بتایا: ‘بنیادی طور پر جو 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی تنسیخ کا فیصلہ تھا وہ غلط تھا وہ جلدی میں لیا گیا فیصلہ تھا اور اس کے متعلق سیاسی جماعتوں کو پوچھا جانا چاہئے تھا’۔انہوں نے کہا: ‘عدالت عظمیٰ نے جموں وکشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک الیکشن کرانے اور ریاستی درجے کی فوری بحالی کی ہدایت دی ہے تو کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘عدالت کے اس فیصلے سے ہماری پارٹی اور جموں وکشمیر کے لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے’۔
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ایک پڑائو ہے منزل نہیں ہے۔انہوں ن لوگوں سے ہمت نہ ہارنے اور نا امید نہ ہونے کی اپیل کی۔
موصوف سابق وزیر اعلیٰ اپنے سماجی رابطہ گاہ ‘ایکس’ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا: ‘میرے پیارے ہم وطنو: ہمت مت ہارو،امید مت چھوڑو جموں وکشمیر نے کئی اتار چڑھائو دیکھے ہیں اور سپریم کورٹ کا آج کا یہ فیصلہ ایک پڑائو ہے منزل نہیں ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ہمارے مخالفین چاہتے ہیں کہ ہم دل برداشتہ ہوکر شکست تسلیم کریں لیکن ایسا نہیں ہوگا’۔ان کا کہنا تھا: ‘سپریم کورٹ نے کہا کہ دفعہ 370 عارضی تھا یہ ہماری ہار نہیں بلکہ آئیڈیا آف انڈیا کی ہار ہے’۔محبوبہ مفتی نے کہا: ‘ایک جماعت گذشتہ 70 برسوں سے کہتی آ رہی تھی کہ ہم اقتدار میں آئیں گے تو دفعہ 370 ہٹائیں گے انہوں نے ایسا کیا’۔
جموں وکشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘دفعہ 370 پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ مایوس کن ہے’۔انہوں نے کہا: ‘دفعہ 370 کو قانونی طور پر ختم کیا گیا ہوگا یہ ہماری سیاسی خواہشات کا ہمیشہ ایک حصہ رہے گا’۔
یو این آئئ ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
