دنیا
اسرائیلی فوج اور القسام بریگیڈز کے درمیان پرتشدد تصادم جاری،ابتک 115 اسرائیلی فوج ہلاک
تل ابیب، اسرائیلی فوج اور القسام بریگیڈز کے درمیان غزہ کی پٹی کے علاقے شجاعیہ کالونی میں پرتشدد تصادم جاری ہے۔ زمینی کارروائی کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج کے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 115 ہو گئی ہے۔
اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ کے مطابق اسرائیلی فوج ابھی تک الشجاعیہ کی تمام عمارتوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ خاص طور پر چونکہ القسام بریگیڈز کو پڑوسی کالونیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اسرائیلی زمینی افواج کی موجودگی کے دوران فضائی مدد بھی ناممکن رہی۔
بدھ کو اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا کہ گولانی بریگیڈ کے کمانڈر اور سپاہی غزہ شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ کالونی میں القصبہ کے علاقے میں فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ گرما گرم لڑائی کے دوران مارے گئے ہیں۔ فوج نے ایک بیان میں کہا کہ گولانی بریگیڈ کے فوجیوں نے شجاعیہ کالونی میں گہری لڑائی لڑی ہے۔ لڑائی میں علاقے میں جنگجوؤں اور ان کے ارکان کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ فلسطینی جنگجو شہری عمارتوں اور زیر زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کے اندر سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے حملہ آور اسرائیلی فورسز کو ایک رہائشی عمارت کے اندر سے دھماکہ خیز مواد اور گولیوں سے نشانہ بنایا۔
فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ فیلڈ کمانڈرز زخمی فوجیوں کی مدد کے لیے آگے آئے جس کی وجہ سے کمانڈرز اور فوجی اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ عمارت میں موجود فورسز کو مدد فراہم کر رہے تھے اور بچا رہے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ 36ویں ڈویژن کے کمانڈر نے واقعات ختم ہونے کے بعد گولانی بریگیڈ کے رہنماؤں کے ساتھ صورتحال کا جائزہ لیا۔
اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کی پٹی میں جاری لڑائیوں کے دوران ایک افسر اور ایک فوجی کی ہلاکت کا اعلان بھی کیا۔ اس سے قبل جھڑپوں اور دیگر کارروائیوں میں آٹھ افسران اور فوجیوں کی ہلاکت کے اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ فوج نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی پر زمینی حملے کے آغاز سے اب تک 115 فوجی مارے جا چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے کہا کہ فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں حماس کے 250 ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی فوج نے ایک مسلح سیل کو نشانہ بنایا جو غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی طرف راکٹ داغنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ انہوں نے حماس کے بنیادی ڈھانچے اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کا بھی اعلان کیا۔
واضح رہے کہ حماس کو ختم کرنے کے مقصد سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں گذشتہ اکتوبر 2023 کی ساتویں تاریخ سے اب تک کم از کم 18,205 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بہت سے بچے بھی شامل ہیں۔ 50 ہزار سے زیادہ فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ اور غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اس تنازع کی وجہ سے 85 فیصد لوگوں نے نقل مکانی کی ہے۔ آبادی کو بھوک اور بیماریوں کا سامنا ہے۔ منگل کو اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں دو یرغمالیوں کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد 134 قیدیوں میں سے 19 کی موت کا اعلان کیا تھا۔
یواین آئی۔ م س
دنیا
ایران کے رہنماؤں کا جنگ کے معاشی نقصانات کا اعتراف، سفارت کاری اور دفاع جاری رکھنے کا عزم
تہران، ایران کے رہنماؤں نے امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی نقصانات کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ملک کی غیر ملکی تجارت ایک تہائی سے زیادہ کم ہوگئی ہے۔
ایرانی قیادت نے ہفتے کے روز اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، سفارت کاری جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنے بقول کنٹرول برقرار رکھے گا۔
حکومت نے کہا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنا اب اس کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، جن میں مہنگائی پر قابو پانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بتدریج ڈالر پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث برآمدات اور درآمدات تقریباً 35 فیصد کم ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے مختصر مدت کے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے دوران، جب محدود مدت کے لیے تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی، ایران تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے ہیں، نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات سے نمٹے۔ اس حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے تھے۔
خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری بیان میں کہا گیا، ’’مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں کے انتظام اور اشیا و خدمات کی منڈی جیسے معاشی اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل کے سلسلے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘‘
گزشتہ ماہ ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ تہران کے رہائشیوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنگ نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مریم نامی ایک خاتون نے کہا، ’’جنگ سے پہلے میں کام نہیں کرتی تھی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ ہر چیز بہت مہنگی ہوگئی ہے۔‘‘
کھانے پینے کا کاروبار چلانے والے امید نے بتایا کہ کرایوں میں اضافے کے باعث کاروبار تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
ان کے بقول، ’’ہم بمشکل اپنے کارکنوں کی اجرت ادا کرپاتے ہیں۔‘‘
ایرانی حکومت نے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں سفارت کاری اور دفاع کو قومی مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے ’’دو تکمیلی، مربوط اور ناقابلِ تقسیم بازو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ دونوں محاذوں پر متوازن انداز میں کام جاری رکھے گی۔
تہران سے الجزیرہ کی نمائندہ سینم کوسے اوغلو نے بتایا کہ حکومت قومی اتحاد کا پیغام اجاگر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پزشکیان مذاکرات اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کم محاذ آرائی پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی ملک دوسرے پر حکمرانی نہیں کرتا۔ دوسری جانب سپریم لیڈر نے اندرونی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو ’’تخلیقی‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گی۔
ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگرچہ ’’دشمن‘‘ نے ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ایران نے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذخیرے کو ’’آخری لمحے تک انتہائی شدت‘‘ کے ساتھ استعمال کیا۔
قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے پاس مزید ’’حیرت انگیز اقدامات‘‘ موجود ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا، ’’ہر شخص، خصوصاً دشمنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مناسب وقت پر ایران کے ان حیرت انگیز اقدامات سے آگاہ ہوجائیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیف کے قریب گودام پر روسی حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک
کیف، یوکرین کے دارالحکومت کیف کے باہر بوچا ضلع میں ایک گودام پر رات گئے روسی حملے کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ حملے کے بعد گودام میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے۔
کیف کے علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے ہفتے کے روز بتایا کہ ’’بدقسمتی سے، موجودہ صورتحال کے مطابق 27 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ تعداد حتمی نہیں بھی ہوسکتی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دمتریوسکا گاؤں کے میئر تاراس دیدیچ بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کیف کے مغربی مضافات کے قریب واقع ایک گودام کو روسی ڈرون نے نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے۔
تکاچینکو نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 50 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ گھروں اور ایک ریستوران تک پھیل گئی۔
یوکرینی پراسیکیوٹرز کے مطابق گودام میں ’’دھماکہ خیز مواد‘‘ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مجرمانہ غفلت کے امکان کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کاروباری ادارے کے احاطے میں دھماکہ خیز مواد اور دیگر اشیا ذخیرہ کرنے کی قانونی اجازت تھی یا نہیں، اور متعلقہ کمپنی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کے پاس ضروری اجازت نامے اور منظوری موجود تھی یا نہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ میلا گاؤں میں ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا جس کے ’’بعد دھماکہ ہوا‘‘۔ انہوں نے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم تصدیق کی کہ اس واقعے پر فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا، ’’اس حوالے سے ضوابط موجود ہیں، گولہ بارود گھروں یا دیگر رہائشی علاقوں کے قریب ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
دونوں ممالک نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ اور شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کیف کے علاقائی گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملے میں 42 افراد زخمی ہوئے جبکہ بوچا ضلع سے 380 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم سرہی کوریٹسکی نے کہا کہ جولائی میں کیف کے قریب ویشنِیوے میں گولہ بارود کے ایک ڈپو پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔
اس حملے کی تحقیقات میں سرکاری ملکیت والی ایک کمپنی کی جانب سے گولہ بارود کو رہائشی عمارتوں سے مناسب فاصلے پر ذخیرہ کرنے کے حفاظتی معیار پر عمل نہ کرنے کی سنگین خامیاں سامنے آئی تھیں۔
کوریٹسکی نے ٹیلی گرام پر کہا، ’’مکمل پیمانے پر حملے کے پانچویں سال میں بار بار وہی غلطیاں دہرانا مجرمانہ غفلت ہے۔ ذمہ دار ہر شخص کو، کسی استثنا کے بغیر، سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ کبھی پیش نہ آئیں۔‘‘
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے جمعہ کی رات سے ہفتے کی صبح تک یوکرین پر کم از کم دو میزائل اور 267 ڈرون داغے۔
گودام پر حملے کے علاوہ ہفتے کی صبح روسی حملوں میں جنوبی اودیسا خطے میں ایک شخص اور کیف کے مضافاتی علاقے بوریسپِل میں ایک 14 سالہ لڑکی بھی ہلاک ہوگئی۔
دوسری جانب روس کے بیلگورود خطے میں یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
روس کے زیرانتظام جزیرہ نما کریمیا کے شہر سیواستوپول میں بھی یوکرینی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ شہر کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل راز ووزایف نے یہ اطلاع دی۔
روس اور یوکرین گزشتہ کئی ماہ سے ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک حملوں میں شدت لا رہے ہیں اور ان حملوں میں لاجسٹکس گوداموں، تیل تنصیبات اور بندرگاہوں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
