جموں و کشمیر
ہر فوجی جوان ہمارے لئے انتہائی اہم اور کنبے کا ایک حصہ ہے: راج ناتھ سنگھ
جموں، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کا ہر اہلکار ہمارے لئے انتہائی اہم ہے اور ہمارے کنبے کا ایک حصہ ہے نہوں نے کہا کہ ہمارے جوان پر کوئی نظر ڈالے ہم اس کو قطعی بر داشت نہیں کریں گے ان کا کہنا تھا: ‘جس طرح وطن کی حفاظت کرنا ہمارے فوج کی ذمہ داری ہے اسی طرح ملک کے شہریوں کے دل جیتنا بھی ان کی اہم ذمہ داری ہے’۔
موصوف زیر دفاع بدھ کے روز تازہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے پونچھ – راجوری پہنچے جہاں 21 دسمبر کو ملی ٹنٹوں کے گھات لگا کر حملے کے نتیجے میں 4 فوجی جوان جاں بحق جبکہ 2 دیگر زخمی ہوگئے۔
اس موقع پر انہوں نے فوجی جوانوں سے اپنے خطاب میں کہا: ‘جو یہاں انتہائی غمناک واقعہ پیش آیا جس میں ہمارے چار جوان شہید ہوئے میں ان کو خراج عقیدت اور لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہوں اور جو اس واقعے میں زخمی ہوئے ان کی جلد صحتیابی کے لئے دعا کرتا ہوں’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے تمام اقدام کئے جا رہے ہیں اس نوعیت کی وارداتوں کو روکنے کے لئے ہماری سیکورٹی اور انٹلی جنس ایجنسیاں بھر پور رول ادا کر رہی ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘ہمارا ہر فوجی جوان ہمارے لئے انتہائی اہم ہے اور ہمارے گھر کے ایک فرد کی طرح ہے اور یہ جذبہ ملک کے تام شہریوں میں پایا جاتا ہے’۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہمارے فوجی پر کوئی نظر ڈالے ہم اس کو قطعی برداشت نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا: ‘فوج کوحکومت کی طرف سے تمام تر تعاون فراہم رکھا جا رہا ہے اور سرکار کے خزانے آپ کے لئے کھلے ہیں’۔ان کا کہنا تھا: ‘اس نوعیت کے واقعات کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا ہے ہمیں مزید ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے باوجودیکہ ہماری فوج انتہائی ہوشیار ہے’۔وزیر دفاع نے کہا کہ جس بہادری اور لگن سے فوج ملک کی حفاظت کر رہی ہے کام اس پر قوم کو فخر ہے۔
انہوں نے کہا: ‘فوج وطن کے لئے بیش بہا قربانیاں پیش کر رہی ہے وہ مثال ہے اور جو ہمارا جوان شہید ہوتا ہے اس کو معاوضہ دیا جاتا ہے جس سے حق ادا نہیں ہوتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘سرکار فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور فوج کی بہبودی سرکار کی اہم ترین ترجیح ہے’۔مسٹر سنگھ نے کہا کہ بھارتی فوج کوئی عام فوج نہیں ہے۔
انہوں نے کہا: ‘یہ بات دنیا میں مانی جاتی ہے کہ بھارتی فوج پہلے سے زیادہ طاقت ور بھی ہے اور پہلے سے زیادہ جدید اسلحہ و سامان سے لیس بھی ہے’۔
ان کا فوجی جوانوں سے خطاب میں کہنا تھا: ‘آپ ملک کے محافظ ہیں ملک کی حفاظت کرنا آپ کی ذمہ داری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کے شہریوں کے دل جیتنا بھی آپ کی اہم ذمہ داری ہے جس کو آپ نبھاتے ہیں لیکن اس کو مزید نبھانے کی ضرورت ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘جنگ جیتنا، دہشت گردی کا صفایا کرنا ہمارا مقصد ہے ملک کے شہریوں کے دل جیتنا بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے، آپ لوگوں کی خدمت جاری رکھیں’۔
راج ناتھ سنگھ نے کہا: ‘جب ہمارا جوان شہید ہوتا ہے تو اس کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جتنی بھیڑ لوگوں کی جمع ہوتی ہے اتنی کسی بڑے سے بڑے لیڈر کے لئے جمع نہیں ہوتی ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘جب ہمارا کوئی جوان شہید ہوتا ہے تو ہم بھی اس رات نیند نہیں کرتے ہیں’۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
