جموں و کشمیر
سری نگر، وادی کشمیر میں زمستانی ہوائوں اور بھاری باری کے لئے مشہور چالیس روزہ چلہ کلاں کا نصف حصہ تو بیت گیا لیکن اہلیان وادی اور یہاں موجود غیر مقامی سیاح برف باری کے انتظار میں بے قرار نظر آ رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں 20 جنوری تک وسیع پیمانے پر برف باری ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
وادی کشمیر میں جاری خشک موسمی صورتحال کی حد یہ ہے کہ یہاں دن کے دوران دہلی سمیت ملک کے کئی علاقوں سے زیادہ گرمی محسوس کی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سری نگر میں منگل کے روز درجہ حرارت 14.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو معمول سے 8.1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا تھا جبکہ اس دن دہلی کا درجہ حرارت صرف 13.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کشمیر میں جاری خشک موسمی صورتحال سے نہ صرف یہاں مختلف شعبہ ہائے حیات متاثر ہو رہے ہیں بلکہ غیر مقامی سیاحوں میں بھی مایوسی دیکھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خشک موسمی صورتحال سے وادی میں جہاں ایگریکلچر اور ہار ٹیکلچر کے شعبوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں وہیں شعبہ سیاحت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری خشک موسمی صورتحال کے دور رس نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘پانی کی قلت سے ایگریکلچر کے شعبے پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور شعبہ ہارٹیکلچر بھی متاثر ہوسکتا ہے خشک موسم سے درختوں پر شگوفے قبل از وقت پھوٹ سکتے ہیں جس سے میوہ کو نقصان ہوسکتا ہے’۔
محکمہ جل شکتی کے مطابق خشک موسمی صورتحال کے نتیجے میں وادی کے دریائوں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے جو آگے پانی کی قلت کا باعث بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر موسم کی یہی صورتحال جاری رہی تو آگے دھان جیسی فصل اگانے کے لئے کٹھن مشکلات در پیش ہوں گے۔
شعبہ سیاحت سے جڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ خشک موسم وادی میں شعبہ سیاحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
جی ایم ڈار نامی ایک ٹراول ایجنٹ نے کہا: ‘برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے غیر مقامی سیاح یہاں آنے کا پلان بناتے ہیں لیکن یہاں صورتحال ایسی ہے کہ یہاں موجود سیاح برف باری نہ ہونے کی صورت میں واپسی کا سامان باندھ رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ یہاں غیر مقامی سیاحوں میں مایوسی دیکھی جا رہی ہے اور یہ لوگ دوسرے علاقوں جہاں برف باری ہوتی ہے، کا رخ کرنے کا پلان بنا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اس صورتحال سے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں کا روز گار متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وادی میں خشک موسمی صورتحال جنگلات اور بستیوں میں آتشزدگی کے واقعات میں اضآفے کی ایک وجہ ہے۔
حکام کے مطابق جموں وکشمیر کے کئی جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ درج ہو رہا ہے اور سٹیلائٹ سے حاصل شدہ معلومات کے مطابق 10 زیادہ جنگل آگ کی لپیٹ میں ہیں۔
محکمہ فائر اینڈ ایمر جنسی کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران وادی کے شمالی ، جنوبی اور وسطی کشمیر میں آگ کی الگ الگ وارداتوں میں چھ رہائشی مکان، شاپنگ کمپلیکس ، دو شیڈ ، تین گائو خانے اور تین دکانیں خاکستر ہوئے ہیں۔
غلام حسین نامی ایک سبکدوش لیکچرر نے بتایا کہ کشمیر جہاں اپنے قدرتی حسن و جمال کے باعث مشہور ہے وہیں موسم سرما کے دوران بھاری برف باری کی وجہ سے بھی یہ خطہ شہرت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا: ‘برف باری بھی ہماری ایک پہچان اور شان ہے اس کے بغیر چلہ کلان کی اہمیت ہی کیا ہے اور سب سے بڑھ کر برف باری ہی کشمیر کے خاص طور پر کسانوں کی لائف لائن ہے’۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
