جموں و کشمیر
چاہئے ہمیں سپریم کورٹ کیوں ہی نہ جانا پڑے، ریتلے پروجیکٹ کی بجلی راجستھان نہیں جائے گی: عمر عبداللہ
سری نگر، پنچایتوں اور بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہونے کے بعد حدبندی کا عمل شروع کرنے کیلئے جموں وکشمیر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلے یہاں اسمبلی ختم کی گئی، پھر بلدیاتی ادارے ختم کئے گئے اور اب پنچایتیں بھی ختم کی گئیں اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد میں حدبندی کو حائل قرار دیا جارہاہے۔ “
انہوں نے کہا کہ پنچایتوں کی مدت 5سال کی تھی تو حکومت نے 6ماہ پہلے ہی حدبندی کا عمل کیوں شروع نہیں کیا؟کہنے کو تو بھارت کو جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے لیکن جموں وکشمیر میں اپنے ہی ہاتھوں اس ماں کا قتل کیا جارہاہے۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ اگر پارلیمانی الیکشن کرانا ان کی مجبوری نہ ہوتی تو یہ لوگ یہاں یہ چناﺅ بھی نہیں کراتے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسمبلی الیکشن کیلئے بھی سپریم کورٹ کو ہدایت دینی پڑی، الیکشن کمیشن کو شرم کے مارے سر جھکانا چاہئے، اُن کو لوگوں سے معافی مانگی چاہئے کیونکہ جو فیصلہ اُن کو کرنا تھا وہ اب سپریم کورٹ کے ذریعے کیا جارہاہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ یہاں الیکشن کرانا الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت کا کام تھا لیکن بدقسمتی سے دونوں نے اپنے ہاتھ اوپر کردیئے، آخر کار سپریم کورٹ کو آگے آکر ہدایت دینی پڑی کہ 31ستمبر 2024سے پہلے یہاں الیکشن ہونے چاہئیں۔
ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ابھی تک اپنے پارلیمانی اُمیدوروں کا انتخاب کرنے کیلئے کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ جب ہم اُمیدوروں کا فیصلہ کرنے بیٹھیں گے تو تمام زاویوں کو دیکھ کر حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔
انڈیا الائنس میں سیٹ شیئرنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہاکہ فی الحال اس پر کوئی بات نہیں ہورہی ہے، جب کوئی عمل شروع ہوتا تو ہم بات کریں گے، لداخ کی سیٹ جوڑ کر ہماری محض6سیٹیںہیں اور ان سیٹوں کی شیئرنگ میں 10پندرہ منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگے گا، میں چاہتا ہوں کہ جن بڑی ریاستوں میں زیادہ سیٹیں ہیں ، وہاں سیٹوں کی تقسیم کے عمل میں تیزی لائی جائے۔
ریتلے پاور پروجیکٹ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم یہ بجلی راجستھان نہیں جانے دیں گے۔
انہوں نے کہاکہ اس پروجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کی فروخت سیدھا سیدھا ہمارے ساتھ دھوکہ ہے۔ ”پروجیکٹ ہمارا، پانی ہمارا، بجلی ہماری، اگریہاں پر لوگوں کو 24گھنٹے بجلی فراہم ہورہی ہوتی تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا، لیکن ہمارے لو گ آج بجلی کیلئے ترس رہے ہیں اور آپ بجلی فروخت کرنے چلے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکمران سختی کرنے میں کوئی رحم نہیں کرتے ہیں، لیکن بجلی کی فراہمی کی بات آتی ہے تو اس وقت سرے سے ہی ناکام ہوتی ہے۔
ؑؑؑعمر نے کہا کہ چاہئے ہمیں سپریم کورٹ کیوں ہی نہ جانا پڑے، ریتلے کی بجلی راجستھان نہیں جائے گی۔ جب ہم اپنے پاور پروجیکٹ سے پاور حاصل کرنے کی اُمید رکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بجلی فروخت کی جارہی ہے، وہ بھی 40سال کیلئے۔
میں یہ پہلی بار سن رہا ہوں کہ 40سال کیلئے معاہدہ کیا جارہا ہے، نہیں تو 15بیس سال کا معاہدہ ہوتاہے، یہ 40سال کی مدت کا تعین کیوں کیا گیا؟یہ ہم نہیں ہونے دیں گے“۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
