جموں و کشمیر
سال 2019 سے 2021 تک فوج میں سیلکٹ ہوئے ڈیڑھ لاکھ نوجوان ہنوز جوائننگ لیٹرز کے منتظر ہیں:اجے اوپادھیائے
سری نگر، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان اجے اوپادھیائے کا کہنا ہے کہ ملک میں سال 2019 سے 2021 تک ڈیڑھ لاکھ نوجوان فوج میں سیلکٹ ہوئے لیکن وہ ہنوز جوائننگ لیٹرز کا انتظار کر رہے ہیں۔
ان کا الزام تھا کہ ملک کی موجودہ حکومت نوجوانوں کو روز گار فراہم نہ کرکے ایک جرم کا مرتکب ہو رہی ہے۔
موصوف ترجمان نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں کانگریس ہیڈ کوارٹر پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘؛کانگریس پارٹی کا مانناق ہے کہ بی جے پی سرکار ملک کے نوجوانوں کو روزگار نہ دے ایک جرم کا ارتکاب کر رہی ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ملک میں سال 2019 سے 2021 تک فوج میں ڈیڑھ لاکھ نوجوان فوج میں سیلکٹ ہوئے لیکن وہ ابھی بھی جوائننگ لیٹرز کا انتظار کر رہے ہیں اور سرکار اس کی وجہ اگنیویر یوجنا بتا رہی ہے’۔
مسٹر اوپادھیائے نے کہا: ‘ایک طرف موجودہ مرکزی سرکار نوجوانوں کو روز گار فراہم نہیں کر رہی ہے اور دوسری طرف لگ بھگ چار کروڑ بے روز گار نوجووان سڑکوں پر گھوم رہے ہیں’۔
انہوں نے کہا کہ اب جو فوج میں سیلکٹ ہوئے ہیں ان کو بھی جو جوائن کرنے کے لئے آرڈر نہیں مل رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ‘اگنی پت یوجنا سے لوگ مایوس ہیں یہاں کسی نوجوان کا مستقبل محفوظ ہے نہ فوجی جوان کا’۔
موصوف ترجمان نے کہا کہ کانگریس کمیٹی نوجوانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے قومی سطح پر ایک وسیع پیمانے کی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی جی جو بھارت جوڑو نیائے یاترا چلا رہے ہیں اسی کے تحت نوجوانوں کو انصاف اور حقوق دلانے کے لئے بھی ایک یاترا شروع کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے لئے یہ مہم تین مرحلوں پر مشتمل ہوگی اور پہلا مرحلہ 28 فروری تک ہوگا۔
اجے اوپادھیائے نے کہا کہ پہلے مرحلے کے تحت سیکورٹی فورسز کے اہلخانہ کے ساتھ رابطہ کیا جائے گا تاکہ ان کے حقوق کے لئے لڑا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کم سے کم 30 لاکھ ایسے خاندان ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسرا مرحلہ ستیہ گرہ کا ہوگا جو 5 مارچ سے 10 مارچ تک ہوگا اور اس کے تحت ان خاندانوں تک پہنچا جائے گا جن کے نوجوان فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مرحلے میں ملک کے پر شہر اور ہر ضلع میں دھرنا دیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کی بات کو سرکار تک پہنچایا جا سکے۔موصوف ترجمان نے کہا کہ تیسرے مرحلہ نیائے یاترا ہوگا جو ایک پد یاترا ہوگی جس میں ہر شہر میں 50 کلو میٹر کی پد یاترا کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ مرحلہ 17 مارچ سے شروع ہو کر 20 مارچ کو اختتام پذیر ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ کانگریس پارٹی نوجوانوں کے حق کے لئے لڑے گی۔
مسٹر اوپادھیائے نے کہا کہ ہماری سرکار سے مانگ ہے کہ فوج میں سیلکٹ ہوئے ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو جوائننگ لیٹرز فرام کئے جائیں۔انہوں نے کہا: ‘یو پی اے سرکار کے دوران ملک میں بے روزگاری کی شرح صرف 2.2 فیصد تھی جو کافی بڑگ گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مختلف محکموں میں 30 لاکھ اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جن کو پُر نہیں کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
