ہندوستان
روزگار میلے کے تحت ایک لاکھ سےزیادہ تقرری نامے حاصل کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد : مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے روزگار میلے کے تحت ایک لاکھ سے تقری نامے تقسیم کئے جانے کے موقع پر کہا کہ آج ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے تقررنامے دیے گئے ہیں۔ آپ نے محنت سے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ میں انہوں نے تقرری نامے حاصل کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ کو بارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کی طرف سے نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کی مہم تیز رفتاری سے جاری ہے۔ پہلے کی حکومتوں میں نوکری کے اشتہار کے اجراء سے لے کر تقرر نامہ جاری کرنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ اس تاخیر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دور میں رشوت خوری کا کھیل بھی عروج پر تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اب حکومت ہند میں بھرتی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنا دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ حکومت اس بات پر مصر ہے کہ بھرتی کا عمل مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔ اس سے ہر نوجوان کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے یکساں مواقع ملنے لگے ہیں۔ آج ہر نوجوان کے ذہن میں اس بات کا یقین ہے کہ وہ محنت اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ 2014 سے ہماری کوشش رہی ہے کہ نوجوانوں کو حکومت ہند سے جوڑیں اور انہیں ملک کی تعمیر میں حصہ دار بنائیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی حکومت نے اپنے 10 برسوں کے دوراقتدار میں سابقہ حکومت نے اپنے پچھلے 10 برسوں کے مقابلے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ سرکاری نوکریاں دی ہیں ۔ آج دہلی میں ایک مربوط تربیتی کمپلیکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نیا ٹریننگ کمپلیکس ہماری استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کو مزید تقویت دے گا۔
مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ آج حکومت کی کوششوں سے ملک میں نوجوانوں کے لیے نئے نئے شعبے کھل رہے ہیں۔ ان شعبوں میں حکومت کی طرف سے شروع کی گئی نئی مہمات کی وجہ سے روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس بجٹ میں ایک کروڑ خاندانوں کے لیے چھت پر شمسی توانائی کی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب چھت پر شمسی پینل لگانے والوں کو دوہرا فائدہ ملے گا۔ ان کا بجلی کا بل صفر ہوگا اور وہ جو اضافی بجلی پیدا کریں گے اس سے آمدنی بھی ہوگی۔ چھت کے اوپر شمسی بجلی لگانے کی اتنی بڑی اسکیم سے ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ کوئی شمسی پینل کا کام کرے گا، کوئی بیٹری سے متعلق کاروبار میں جائے گا، کوئی وائرنگ کا کام سنبھالے گا، اس ایک اسکیم سے کئی سطحوں پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج ہندوستان میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ہے۔ ملک میں اسٹارٹ اپس کی تعداد اب تقریباً 1.25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ان سٹارٹ اپس کی ایک بڑی تعداد چھوٹے ٹائر-2، ٹائر-3 شہروں میں ہو رہی ہے جو کہ ضلعی مراکز بھی نہیں ہیں۔ ان اسٹارٹ اپس میں نوجوانوں کے لیے لاکھوں نوکریاں پیدا کی جارہی ہیں۔ اس بار کے بجٹ میں اسٹارٹ اپس کو دی گئی ٹیکس چھوٹ میں توسیع کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ بجٹ میں تحقیق اور اختراع کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کا نیا فنڈ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ آج اس روزگار میلے کے ذریعے ہندوستانی ریلوے میں بھی بھرتیاں ہورہی ہیں۔ جب بھی لوگوں کو اپنے خاندان کے ساتھ طویل سفر پر جانا ہوتا ہے، تب ہندوستانی ریلوے عام خاندان کی پہلی پسند ہوتی ہے۔ انڈین ریلویز آج ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔انڈین ریلویز اس دہائی کے آخر تک مکمل طور پر تبدیل ہونے والا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا، 2014 سے پہلے ریلوے کی کیا حالت تھی۔ بجلی کی فراہمی ہو یا ریلوے لائنوں کی ڈبلنگ، ٹرینوں کے آپریشن میں بہتری، یا مسافروں کے لیے سہولیات میں اضافہ، سابقہ حکومتوں نے اس پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی کہ دی چاہیے۔ پہلے کی حکومتیں عام ہندوستانی کے مسائل سے لاتعلق تھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2014 کے بعد ہم نے ریل کے سفر کے پورے تجربے کو نئے سرے سے ایجاد کرنے کی مہم شروع کی۔ ہم نے ریلوے کی جدید کاری اور اپ گریڈیشن پر توجہ دی۔ اس بار آپ نے بجٹ میں بھی دیکھا ہوگا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس جیسی 40 ہزار جدید بوگیاں تیار کرکے انہیں عام ٹرینوں میں شامل کیا جائے گا ۔ اس سے عام مسافروں کا سفر زیادہ آسان ہو جائے گا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ جب ملک میں کنیکٹوٹی پھیلتی ہے، تو یہ بیک وقت بہت سی چیزوں کو متاثر کرتی ہے۔ بہتر رابطے کے ساتھ نئی منڈیاں بننا شروع ہو جاتی ہیں اور سیاحتی مقامات تیار ہوتے ہیں۔ بہتر کنیکٹیویٹی نئے کاروبار پیدا کرتی ہے اور روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اچھے رابطے کا ملک کی ترقی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے لیے 11 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بنیادی ڈھانچے پر اتنا بڑا خرچ سڑک، ریل، ہوائی اڈہ، میٹرو، بجلی جیسے ہر منصوبے کو تیز کرے گا۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج جن نوجوانوں کو تقررنامے ملے ہیں، ان میں سے بڑی تعدادپیرا ملٹری فورس کا حصہ بننے جا رہی ہے۔ یہ اپنے آپ میں نوجوانوں کی ایک بڑی خواہش ہے جو پوری ہو رہی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں پیرا ملٹری فورس میں بھرتی کے عمل میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ تحریری امتحان ہندی اور انگریزی کے علاوہ 13 زبانوں میں منعقد کرنے کا فیصلہ اس سال جنوری سے نافذ کیا گیا ہے۔ اس نے لاکھوں شرکاء کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا مساوی موقع فراہم کیا ہے۔ سرحد پر واقع اضلاع اور عسکریت پسندی سے متاثرہ اضلاع کا کوٹہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر میں ہر سرکاری ملازم کا بہت بڑا حصہ ہوگا۔ آج ایک لاکھ سے زائد ملازمین جو ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں اس سفر کو نئی توانائی اور رفتار دیں گے۔ آپ جس بھی شعبہ میں کام کرتے ہیں، یاد رکھیں کہ آپ کا ہر دن ملک کی تعمیر کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ تمام سرکاری ملازمین کی صلاحیت سازی کے لیے حکومت ہند نے کرم یوگی بھارت پورٹل بھی شروع کیا ہے۔ اس پورٹل پر مختلف مضامین سے متعلق 800 سے زیادہ کورسز دستیاب ہیں۔ اب تک 30 لاکھ سے زیادہ صارفین اس پورٹل سے جڑ چکے ہیں۔ آپ سب کو بھی اس پورٹل سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہیے۔
وزیراعظم نے تقرری نامے حاصل کرنے والوں سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ تقرر نامے حاصل کریں، اپنے روشن مستقبل کی امید رکھیں اور اپنے کیریئر کے ہر مرحلے پر ملک کو کچھ نہ کچھ دے کر آگے بڑھیں۔ ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دے کر آگے بڑھیں۔ سمٹر مودی نے ان سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا وار ان کے اہل خانہ کے لیے بھی بہت سی نیک خواہشات پیش کیں ۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
