ہندوستان
روزگار میلے کے تحت ایک لاکھ سےزیادہ تقرری نامے حاصل کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد : مودی
نئی دہلی، وزیراعظم نریندر مودی نے روزگار میلے کے تحت ایک لاکھ سے تقری نامے تقسیم کئے جانے کے موقع پر کہا کہ آج ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں کے لیے تقررنامے دیے گئے ہیں۔ آپ نے محنت سے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔ میں انہوں نے تقرری نامے حاصل کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ کو بارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کی طرف سے نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کی مہم تیز رفتاری سے جاری ہے۔ پہلے کی حکومتوں میں نوکری کے اشتہار کے اجراء سے لے کر تقرر نامہ جاری کرنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ اس تاخیر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس دور میں رشوت خوری کا کھیل بھی عروج پر تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے اب حکومت ہند میں بھرتی کے عمل کو مکمل طور پر شفاف بنا دیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ حکومت اس بات پر مصر ہے کہ بھرتی کا عمل مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے۔ اس سے ہر نوجوان کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے یکساں مواقع ملنے لگے ہیں۔ آج ہر نوجوان کے ذہن میں اس بات کا یقین ہے کہ وہ محنت اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ 2014 سے ہماری کوشش رہی ہے کہ نوجوانوں کو حکومت ہند سے جوڑیں اور انہیں ملک کی تعمیر میں حصہ دار بنائیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی حکومت نے اپنے 10 برسوں کے دوراقتدار میں سابقہ حکومت نے اپنے پچھلے 10 برسوں کے مقابلے تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ سرکاری نوکریاں دی ہیں ۔ آج دہلی میں ایک مربوط تربیتی کمپلیکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نیا ٹریننگ کمپلیکس ہماری استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کو مزید تقویت دے گا۔
مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ آج حکومت کی کوششوں سے ملک میں نوجوانوں کے لیے نئے نئے شعبے کھل رہے ہیں۔ ان شعبوں میں حکومت کی طرف سے شروع کی گئی نئی مہمات کی وجہ سے روزگار کے بہت سے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اس بجٹ میں ایک کروڑ خاندانوں کے لیے چھت پر شمسی توانائی کی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب چھت پر شمسی پینل لگانے والوں کو دوہرا فائدہ ملے گا۔ ان کا بجلی کا بل صفر ہوگا اور وہ جو اضافی بجلی پیدا کریں گے اس سے آمدنی بھی ہوگی۔ چھت کے اوپر شمسی بجلی لگانے کی اتنی بڑی اسکیم سے ملک میں روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ کوئی شمسی پینل کا کام کرے گا، کوئی بیٹری سے متعلق کاروبار میں جائے گا، کوئی وائرنگ کا کام سنبھالے گا، اس ایک اسکیم سے کئی سطحوں پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج ہندوستان میں دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام ہے۔ ملک میں اسٹارٹ اپس کی تعداد اب تقریباً 1.25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ مسٹر مودی نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ان سٹارٹ اپس کی ایک بڑی تعداد چھوٹے ٹائر-2، ٹائر-3 شہروں میں ہو رہی ہے جو کہ ضلعی مراکز بھی نہیں ہیں۔ ان اسٹارٹ اپس میں نوجوانوں کے لیے لاکھوں نوکریاں پیدا کی جارہی ہیں۔ اس بار کے بجٹ میں اسٹارٹ اپس کو دی گئی ٹیکس چھوٹ میں توسیع کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ بجٹ میں تحقیق اور اختراع کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کا نیا فنڈ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ آج اس روزگار میلے کے ذریعے ہندوستانی ریلوے میں بھی بھرتیاں ہورہی ہیں۔ جب بھی لوگوں کو اپنے خاندان کے ساتھ طویل سفر پر جانا ہوتا ہے، تب ہندوستانی ریلوے عام خاندان کی پہلی پسند ہوتی ہے۔ انڈین ریلویز آج ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔انڈین ریلویز اس دہائی کے آخر تک مکمل طور پر تبدیل ہونے والا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا، 2014 سے پہلے ریلوے کی کیا حالت تھی۔ بجلی کی فراہمی ہو یا ریلوے لائنوں کی ڈبلنگ، ٹرینوں کے آپریشن میں بہتری، یا مسافروں کے لیے سہولیات میں اضافہ، سابقہ حکومتوں نے اس پر اتنی توجہ نہیں دی جتنی کہ دی چاہیے۔ پہلے کی حکومتیں عام ہندوستانی کے مسائل سے لاتعلق تھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2014 کے بعد ہم نے ریل کے سفر کے پورے تجربے کو نئے سرے سے ایجاد کرنے کی مہم شروع کی۔ ہم نے ریلوے کی جدید کاری اور اپ گریڈیشن پر توجہ دی۔ اس بار آپ نے بجٹ میں بھی دیکھا ہوگا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وندے بھارت ایکسپریس جیسی 40 ہزار جدید بوگیاں تیار کرکے انہیں عام ٹرینوں میں شامل کیا جائے گا ۔ اس سے عام مسافروں کا سفر زیادہ آسان ہو جائے گا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ جب ملک میں کنیکٹوٹی پھیلتی ہے، تو یہ بیک وقت بہت سی چیزوں کو متاثر کرتی ہے۔ بہتر رابطے کے ساتھ نئی منڈیاں بننا شروع ہو جاتی ہیں اور سیاحتی مقامات تیار ہوتے ہیں۔ بہتر کنیکٹیویٹی نئے کاروبار پیدا کرتی ہے اور روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا کرتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اچھے رابطے کا ملک کی ترقی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس بجٹ میں بنیادی ڈھانچے کے لیے 11 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ بنیادی ڈھانچے پر اتنا بڑا خرچ سڑک، ریل، ہوائی اڈہ، میٹرو، بجلی جیسے ہر منصوبے کو تیز کرے گا۔ اس سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج جن نوجوانوں کو تقررنامے ملے ہیں، ان میں سے بڑی تعدادپیرا ملٹری فورس کا حصہ بننے جا رہی ہے۔ یہ اپنے آپ میں نوجوانوں کی ایک بڑی خواہش ہے جو پوری ہو رہی ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں پیرا ملٹری فورس میں بھرتی کے عمل میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ تحریری امتحان ہندی اور انگریزی کے علاوہ 13 زبانوں میں منعقد کرنے کا فیصلہ اس سال جنوری سے نافذ کیا گیا ہے۔ اس نے لاکھوں شرکاء کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا مساوی موقع فراہم کیا ہے۔ سرحد پر واقع اضلاع اور عسکریت پسندی سے متاثرہ اضلاع کا کوٹہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے سفر میں ہر سرکاری ملازم کا بہت بڑا حصہ ہوگا۔ آج ایک لاکھ سے زائد ملازمین جو ہمارے ساتھ شامل ہو رہے ہیں اس سفر کو نئی توانائی اور رفتار دیں گے۔ آپ جس بھی شعبہ میں کام کرتے ہیں، یاد رکھیں کہ آپ کا ہر دن ملک کی تعمیر کے لیے وقف ہونا چاہیے۔ تمام سرکاری ملازمین کی صلاحیت سازی کے لیے حکومت ہند نے کرم یوگی بھارت پورٹل بھی شروع کیا ہے۔ اس پورٹل پر مختلف مضامین سے متعلق 800 سے زیادہ کورسز دستیاب ہیں۔ اب تک 30 لاکھ سے زیادہ صارفین اس پورٹل سے جڑ چکے ہیں۔ آپ سب کو بھی اس پورٹل سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہیے۔
وزیراعظم نے تقرری نامے حاصل کرنے والوں سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ تقرر نامے حاصل کریں، اپنے روشن مستقبل کی امید رکھیں اور اپنے کیریئر کے ہر مرحلے پر ملک کو کچھ نہ کچھ دے کر آگے بڑھیں۔ ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دے کر آگے بڑھیں۔ سمٹر مودی نے ان سب کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا وار ان کے اہل خانہ کے لیے بھی بہت سی نیک خواہشات پیش کیں ۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
