ہندوستان
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کوآپریٹو سیکٹر کے لیے کئی بڑے اقدامات کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے کوآپریٹو سیکٹر کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے آج نئی دہلی میں کوآپریٹو سیکٹر کے لیے کئی بڑے اقدامات کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا۔ مسٹر مودی نے 11 ریاستوں کی 11 پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز ( پی اے سی ایس ) میں ’کوآپریٹو سیکٹر میں دنیا کی سب سے بڑی اناج ذخیرہ کرنے کی اسکیم‘ کے پائلٹ پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں 500 اضافی پی اے سی ایس میں گوداموں اور زراعت سے متعلق دیگر بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کی تعمیر کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور 18 ہزار پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کا بھی افتتاح کیا۔
اس موقع پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر ارجن منڈا، مرکزی وزیر برائے امور صارفین ، خوراک اور عوامی تقسیم کے وزیر پیوش گوئل، کوآریپریٹیو کے وزیر مملکت بی ایل ورما اور کئی دیگر معززین موجود تھے۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کوآپریٹو سیکٹر میں نئی جان ڈالنا شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد سے ملک بھر میں کوآپریٹو سیکٹر کے کارکنان کوآپریٹیو کے لیے ایک الگ وزارت کے قیام کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن برسوں تک کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ جب مسٹر نریندر مودی وزیر اعظم بنے تو انہوں نے 70 سال پرانا مطالبہ مان لیا اور کوآپریٹیو کی ایک الگ وزارت قائم کی۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ کوآپریٹو سیکٹر کے لیے وقت کے ساتھ بدلنا بہت ضروری ہے اور اس کے لیے کوآپریٹو سیکٹر کو کی اہمیت کو برقرار رکھنا ہوگا، اسے جدید بنانا ہوگا اور اس میں شفافیت بھی لانی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ کوآپریٹیو وزارت کے قیام کے بعد سے گزشتہ 35 ماہ میں وزارت نے 54 سے زائد اقدامات کئے ہیں۔ پی اے سی ایس سے لے کر اپیکس تک، کوآپریٹو سیکٹر ہر جہت میں نئی شروعات کرکے نئے جوش و جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے فیصلے کی وجہ سے کوآپریٹو سیکٹر کو تقریباً 125 سال بعد ایک نئی زندگی ملی ہے اور انہیں یقین ہے کہ کوآپریٹو تحریک اگلے 125 برسوں تک اس ملک کی خدمت کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج سے 18,000 سے زیادہ پی اے سی ایس کا مکمل کمپیوٹرائزیشن ہو رہا ہے۔ اس کا ٹرائل رن ہو چکا ہے، وراثتی ڈیٹا کو بھی کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھوں اس کے افتتاح کے ساتھ ہی ہر لین دین میں کمپیوٹر کا استعمال کرنا شروع کر دیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جب 29 جون 2022 کو 18,000 پی اے سی ایس کے کمپیوٹرائزیشن کی تجویز مرکزی کابینہ کے پاس آئی تو وزیر اعظم نریندر مودی نے امید ظاہر کی تھی کہ مشکل ہونے کے باوجود اس پروجیکٹ کو جلد ہی نافذ کیا جائے گا۔
انہوں شاہ نے کہا کہ بہت ہی کم وقت میں 65,000 پی اے سی ایس میں سے 18,000 میں کمپیوٹرائزیشن کی جا رہی ہے اور انتخابات سے قبل اسے مزید 30,000 پی اے سی ایس میں نافذ کرکے لوگوں کے لیے وقف کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی اے سی ایس کی کمپیوٹرائزیشن سے نہ صرف شفافیت آئے گی اور ان کو جدید بنایا جائے گا بلکہ کاروبار کے بہت سے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
مسٹر امت شاہ نے کہا کہ کوآپریٹیو کی وزارت نے پی اے سی ایس کے لیے نئے ضابطے بنائے ہیں اور ملک بھر کی ریاستی حکومتوں نے اپنی اپنی جماعتوں سے اوپر اٹھ کر ان ضابطوں کو قبول کیا ہے اور ان پر عمل درآمد کیا ہے حالانکہ یہ ریاستی فہرست میں ایک موضوع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی بائی لاز نافذ ہوں گے، پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز ( پی اے سی ایس ) 20 قسم کے نئے کام کر سکیں گی۔ اب پی اے سی ایس ڈیری کا کام بھی کر سکے گا، بلیو ریوولوشن سے بھی جڑ سکے گا، جل جیون مشن کے تحت پانی کے انتظام کا کام بھی کرے گا، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے میں بھی اپنا رول ادا کرے گا، کامن سروس سینٹر کے طور پر بھی کام کرے گا ، سستی دوائیں بھی فراہم کرے گا اور اناج کی دکانیں کھولنے اور پٹرول پمپ چلانے کے قابل بھی ہوں گے۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ نئے بائی لاز کے ذریعے پی اے سی ایس کو بہت سے کاموں سے جوڑنے کا عمل شروع ہوا اور اب ان کے کمپیوٹرائزیشن کی وجہ سے تمام کاموں کے کھاتوں کو ایک سافٹ ویئر میں ضم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سافٹ ویئر کسانوں سے ملک کی ہر زبان میں بات کر سکتا ہے۔
، وزیر داخلہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پی اے سی ایس کو کمپیوٹرائزڈ کرکے مضبوط کرنے کے لیے 2500 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2024 تک اس ملک کے تمام پی اے سی ایس کو کمپیوٹرائز کر کے سافٹ ویئر سے منسلک کر دیا جائے گا۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
