ہندوستان
صوفیاء کرام نے بنا تفریق مذہب و ملت ہمیشہ محبت و اخوت، امن و آشتی اور خدمت خلق کو فروغ دیا:پروفیسر افشار عالم
نئی دہلی، جامعہ ہمدرد کے شیخ الجامعہ پروفیسر افشار عالم نے کہا کہ صوفیاء کرام نے بنا تفریق مذہب و ملت ہمیشہ محبت و اخوت ، امن و آشتی اور خدمت خلق کو فروغ دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے صوفی سینٹر (مرکز مطالعات تصوف) جامعہ ہمدرد اورخانقاہ غوثیہ کے زیر اہتمام و اشتراک ” تصوف کی اصل و معنویت اور عالم گیریت کے دور میں اس کی ضرورت” کے عنوان سے یہاں منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کی عملی طور پر تبلیغ و ترویج کریں ۔
مہمان خصوصی سید ظفر اقبال اشرفی نے کہا آ ج عالمگیر سطح پر اس بات کی سخت ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ مشائخ اور صوفیا کو خانقاہوں اور آستانوں سے نکل کر عملی میدان میں آنا چاہیے اور ہندوستانی سماج واقوام میں بقائے باہمی، اخوت و ہمدردی اور امن و شانتی کی فضا ہموار کرنی چاہیے، کیونکہ آ ج بھی ہندوستان کی ایک بہت بڑی تعداد خانقاہوں و درگاہوں سے وابستہ ہے اور ان کا ایک روحانی اثر ہے۔
سید اسلم میاں وامقی نے کہا کہ جامعہ ہمدرد میں صوفی سینٹر کا قیام لائق مبارک باد عمل ہے جو یقیناً بہت باعث برکت ثابت ہوگا۔ کیونکہ صوفیاء کا اصل مشن گناہ و فساد اور بدی و شر کے خلاف جہاد کرنا ہے ۔
پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ تصوف یا صوفیاء کی تاریخ بہت قدیم ہے کوئی زمانہ ایسا نہیں کہ جو صوفیاء کی خدمات سے خالی ہو۔ الحاج حفیظ اللّہ شریف نے کہا کہ صوفیاء نے ہمیشہ لوگوں کا دکھ درد دور کرنے اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کا درس دیا ہے ۔ ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے کہا کہ اللّہ کی ہر ایک مخلوق سے محبت کرنے ، قلب و ذہن کو پاک و صاف رکھنے ، غلطی معاف کرنے ، حرص و طمع دور کرنے ، توکل علی اللہ کرنے، غصہ و تکبر دور کرنے اور سب سے حسن سلوک سے پیش آنے کا نام تصوف ہے۔
اس موقع پر نمازِ ظہر سے قبل اورنماز ظہر کے بعد کنونشن سینٹر کے ہال نمبر ایک اور دو میں دو دو مساوی تعلیمی نشستیں منعقد ہوئیں ، جن میں تقریباً پچاس تحقیقی مقالات پڑھیے گئے اور سامعین و سامعات کثیر تعداد میں موجود رہیں۔
اختتامی اجلاس میں سید حماد نظامی نے کہا کہ اگر کوئی کانٹے بچھائے تو آپ اس کے بدلے میں پھول بچھاؤ ، اگر کانٹوں کے بدلے کانٹے بچھائے گئے تو ساری دنیا کانٹوں سے بھر جائے گی ۔
پروفیسر مسعود انور علوی نے کہا کہ تصوف اور صوفیا کی تعلیمات کو قرآن و حدیث میں احسان کے نام سے متعارف کرایا گیا ہے اور یہی حقیقی اسلام ہے ۔ پروفیسر خواجہ اکرام نے کہا کہ تصوف صرف اسلام کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اکثر عالمی مذاہب میں اس کے نقوش پائے جاتے ہیں ۔
رجسٹرار جامعہ ہمدرد ڈاکٹر ایم۔ اے سکندر نے کہا کہ صدیوں پرانی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب صوفیاء کی مرہون منت ہے ، صوفیاء کا تعلق دل سے ہے ، یہ دلوں کی آ لودگی دور کرکے ایک اچھا انسان بناتے ہیں ۔شاہ عارف علی سبو میاں نے فرمایا کہ جامعہ ہمدرد میں صوفی سینٹر کا قیام ایک تاریخی کام ہے۔ میں اس پر جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ مولانا زاہد رضا نے کہا کہ اس طرح کے سیمینارس سے نہ صرف نئ نسل کی فکری، نظریاتی اور عملی آبیاری ہوگی بلکہ ان کے اندر مادی چیلینجیز سے مقابلہ کرنے کا ہنر پیدا ہوگا۔
ڈاکٹر افضل مصباحی نے اس موقع پر مختصر انداز میں خانقاہ غوثیہ چشتیہ کی دینی ،تعلیمی اور سماجی خدمات کا خاکہ پیش کیا اور ڈاکٹر محمد فضل الرحمن نے سیمینار کی رپورٹ پیش کی ۔آخر میں بڑے خوش گوار ماحول میں ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے ہدیہ تشکر پیش کیا ۔
اس تقریب میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی ، دہلی یونیورسٹی دہلی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، جامعہ ہمدرد دہلی ، عالیہ یونیورسٹی کولکاتہ، دارالہدی اسلامک یونیورسٹی کیرالا ، بنارس ہندو یونیورسٹی بنارس ، ذاکر حسین کالج دہلی ،جامعہ رضویہ حنفیہ مانک پور پرتاپ گڑھ اور جامعہ المصطفی ککرالہ بدایوں وغیرہ کے پروفیسرس ، ڈاکٹرس اور اسکالرس نے بڑی تعداد میں حصہ لے کر تصوف سے متعلق مختلف موضوعات پر مختلف مساوی مجالسِ میں تقریباً پچاس تحقیقی مقالات پیش فرمائے ۔ علاوہ ازیں علم انٹرنیشنل یوکے ، درگاہ اجمیر شریف ، درگاہ نظام الدین دہلی ، درگاہ قطب صاحب دہلی ،خانقاہ غوثیہ چشتیہ غازی پور ، خانقاہ وامقیہ بریلی ، خانقاہ اشرفیہ کچھو چھہ ، خانقاہ شیخ العالم ردولی بارابنکی ، خانقاہ قدیریہ پیلی بھیت ،خانقاہ رشیدیہ مین پوری وغیرہ کے مشائخ وسجادگان اور مدارس و مساجد کے علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی ۔سیمینار کے افتتاحی اجلاس کا آغاز صبح دس بجے تلاوت قرآن اور نعت پاک سےہوا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر افشار عالم صاحب نے کی اور سید ظفر اقبال اشرفی، بانی و صدر علم انٹرنیشنل،یوکے،مہمان خصوصی ، سید اسلم میاں وامقی بریلی ، الحاج حفیظ اللّہ شریف بنگلور ،ڈاکٹر مفتی مکرم احمد دہلی اورپروفیسر اختر الواسع دہلی بطور مہمان اعزازی سیمینار کی زینت رہے۔ڈاکٹر محمد فضل الرحمن اور ڈاکٹر محمد احمد نعیمی نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔
اس موقع پر پروفیسر لطیف کاظمی ، پروفیسر عبید اللہ فہد ، پروفیسر عبدالسلام جیلانی ، ڈاکٹر ندیم اشرف ، ڈاکٹر ریحان اختر اے۔ایم۔یو۔ علی گڑھ ، ڈاکٹر واحد نظیر، ڈاکٹر شاہد تسلیم ،ڈاکٹر مشتاق تجاروی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ، پروفیسر مشتاق قادری ، ڈاکٹر علی احمد ادریسی ، ڈی۔ یو۔ ڈاکٹر صفیہ عامر صاحبہ ، ڈاکٹر وارث متین مظہری ۔ ڈاکٹر آبرو امان اندرابی ، ڈاکٹر سمیہ احمد ، ڈاکٹر نجم السحر ، ڈاکٹر انور حسین خان ، ڈاکٹر منہاج احمد ، شاہ عبد الرحمن خاں چشتی ، مفتی فہیم ازہری ، مفتی رضوان ازہری ، مولانا کلیم رضوی ، مولانا منظر محسن ،مولا نا غلام رسول ، مولانا حشمت نعیمی ، مولانا حیدر نعیمی اور مختلف مدرسوں اور مسجدوں کے علماء ،اساتذہ اور یونیورسٹی کے بہت سے طلباء بطور خاص سیمینار میں موجود تھے ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
