جموں و کشمیر
علاحد گی پسندی اور دہشت گردی سے دو چار رہنے کے بعد کشمیر اب امن کا گہوارہ ہے:منوج سنہا
سری نگر، جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کشمیر میں پائیدار امن قائم پونے کا سہرا وزیر اعظم نریندر مودی کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ دہائیوں تک علاحدگی پسندی اور دہشت گردی سے دوچار رہنے کے بعد کشمیرآج امن اور خوشحالی کا گہوارہ بن گیا ہے اور لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں چھائی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘وہ زمانہ بیت گیا جب کشمیر دہشت گردی اور خون خرابے کے لئے مشہور تھا یہ وزیر اعظم نریندر مودی جی کی ذاتی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کشمیر دوبارہ امن و خوشحالی کا گہوارہ بن گیا’۔
موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں بخشی اسٹیڈیم میں ایک بھاری عوامی ریلی سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘کشمیر ایک زمانے میں علاحد گی پسندی، دہشت گردی اور خون خرابے سے دو چار تھا لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی ذاتی کاوشوں کے نتیجے میں امن و خوشحالی کا گہوارہ بن گیا جو دنیا میں صوفیوں اور سنتوں کی سرزمین ہونے کے لئے مشہور ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر نے گذشتہ 5 برسوں کے دوران غیر معمولی تبدیلی دیکھی۔
انہوں نے کہا: ‘آج یہاں سڑکوں پر کسی بے گناہ کا خون نہیں بہتا ہے، پیلٹس سے کوئی آنکھوں سے محروم نہیں ہو رہا ہے اور احتجاجوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا ہے’۔
مسٹر سنہا نے کہا کہ آج لالچوک میں گھنٹہ گھر پر جو ترنگا شان سے لہرا رہا ہے وہ تبدیلی کا اعلان کر رہا ہے اس سے ہر ایک کو پرانے کشمیر کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا: ‘خون خرابہ اب ایک تاریخ بن گیا ہے اور امن ہر سو چھایا ہوا ہے جس سے ہر شہری کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی ہوئی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیری لوگ وزیر اعظم نریندر مودی کی کافی عزت کرتے ہیں اور ان کو بے حد محبت کرتے ہیں۔
موصوف ایل جی نے کہا: ‘کشمیریوں کا مودی جی کے لئے محبت و عزت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بخشی اسٹیڈیم جہاں 35 ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے لوگ کھڑے ہیں کیونکہ ان کے بیٹھنے کے لئے جگہ دستیاب نہیں ہے’۔انہوں نے کہا: ‘یہ لوگوں کا وزیر اعظم مودی جی کے لئے محبت ہے اگر دو لاکھ لوگوں ے بیٹھنے کی گنجائش کا میدان ہوتا تو وہ بھی کھچا کھچ بھرا ہوا ہوتا’۔انہوں نے کہا کہ انڈور اسٹیڈیم بھی لوگوں سے بھرا ہوا ہے اور ایس کے آئی سی سی کا ہال بھی بھرا ہوا ہے اور دس ہزار لوگ سکرینوں پر مودی جی کا خطاب سننے کے منتظر ہیں’۔مسٹر سنہا نے کہا کہ وزیر اعظم ‘من کی بات’ پروگرام کی وساطت سے کشمیری کے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں رہتے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘وزیر اعظم نے اپنے خطابات میں کشمیر کے مشہور ندرو، پشمینہ، زعفران اور دیگر چیزوں کی تعریفیں کی ہیں’۔
کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لئے خصوصی توجہ دینے پر وزیر اعظم کی تعریفیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘آج سری نگر کے مارکیٹ یورپ کے بازاروں سے ملتے جلتے ہیں اور یہ سب وزیر اعظم کی ذاتی دلچسپی کا نتیجہ ہیں’۔انہوں نے کہا کہ نئے مارکیٹوں سے یہاں نوجوانوں کا روز گار بڑھ گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سال 2022 تک یہاں نائٹ لائف اور ملٹی پلیکس سنیما گھروں کا کوئی تصور ہی نہیں تھا لیکن آج یہاں نوجوان جہلم ریور فرنٹ اور سنیما گھروں میں تفریح کے لئے وقت گذارتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ‘یہ تبدیلی وزیر اعظم کے ذاتی سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں تھی’۔انہوں نے سال 2025 تک مکمل ہونے والے کئی ترقیاتی منصوبوں کا بھی تذکرہ کیا۔اس موقع پر مرکزی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کہا کہ بخشی اسٹیڈیم میں لوگوں کا سیلاب ان کے مودی جی کے تئیں محبت کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا: ‘یہ بھاری ہجوم وزیر اعظم کو سننے کے لئے بے تاب ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘جموں وکشمیر بدل گیا ہے بندوقوں اور پتھروں کی جگہ اب لیپ ٹاپوں نے لے لی ہے’۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
