جموں و کشمیر
وزیر اعظم اپنے یک روزہ دورے پر سری نگر پہنچے
سری نگر، وزیر اعظم نریندر مودی جمعرات کی دوپہر کو فقید المثال سیکورٹی بند وبست کے بیچ اپنے یک روزہ دورے پر سری نگر پہنچے۔
جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، چیف سیکریٹری اٹل ڈولو، ڈی جی پی آر آر سوین اور بی جے پی کے لیڈروں نے سری نگر ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم ہوائی اڈے سے سیدھے بادامی باغ فوجی چھائونی گئے جہاں انہوں نے وار میموریل پر پھول مالا چڑھائیں گے۔
وزیر اعظم بخشی اسٹیڈیم میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کریں گے جہاں لوگوں کا سیلاب ان کا انتظار کر رہا ہے۔
بخشی اسٹیڈیم کو سیکورٹی حصار میں لیا گیا ہے اور سپیشل پروٹیکشن فورس نے اس کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
جموں وکشمیر ٹریفک پولیس نے وزیر اعظم کی آمد کے پیش نظر بعض روٹس پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
بتادیں کہ یہ وزیر اعظم کا ایک مہینے سے بھی کم وقت میں جموں وکشمیر کا دوسرا جبکہ سال 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد سری نگر کا پہلا دورہ ہے۔
انہوں نے گذشتہ شام ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا: ‘کل یعنی 7 مارچ کو میں سری نگر میں ‘وکست بھارت وکست جموں وکشمیر’ پروگرام میں شرکت کروں گا’۔
وزیر اعظم نے اپنے اس پوسٹ میں مزید کہا: ‘مختلف ترقیاتی کام قوم کے لئے وقف کئے جائیں گے جن میں زرعی معیشت کوفروغ دینے سے متعلق زائد از 5 ہزار کروڑ روپیے مالیت کے کام شامل ہیں نیز سیاحت سے جڑے مختلف کام بھی قوم کے نام وقف کئے جائیں گے’۔
سیاحت سے جڑے مختلف کام بھی قوم کے نام وقف کئے جائیں گے’۔
دریں اثنا وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے پیش نظر جہاں سری نگر کی قابل دید زیبائش و آرائش کی گئی ہے وہیں سیکورٹی کے بھی فقید المثال بند و بست کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم کے کشمیر دورے سے قبل سری نگر شہر کو ڈرون اور کواڈ کاپٹروں کے آپریشن کے لئے عارضی طور پر ریڈ زون قرار دیا گیا ہے۔
سری نگر پولیس نے ایکس پر جانکاری فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سری نگر شہر کو ڈرون اور کواڈ کاپٹروں کے آپریشن کے لئے عارضی طورپر ریڈ زون قرار دے دیا گیا ہے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیر اعظم 7 مارچ کی دوپہر کو سری نگر پہنچ کر ‘وکست بھارت وکست جموں وکشمیر’ پروگرام میں شرکت کریں گے۔
بیان کے مطابق وزیر اعظم جموں وکشمیر میں زرعی معیشت کے ‘ہولیسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام’ کے لئے قریب 5 ہزار کروڑ روپیے قوم کے نام وقف کریں گے۔
وہ سودیش درشن اور پر شاس( پیلگرم ریجوینیشن اینڈ سپریچول، ہیرٹیج آگمنٹیشن ڈرائیو) اسیکیوں کے تحت 14 سو کروڑ روپیوں کے شعبہ سیاحت سے متعلق کئی پرجیکٹوں کو قوم کے نام وقف کریں گے اور ان کا افتتاح کریں گے ان پروجیکٹوں میں ‘حضرت بل مزار کی مربوط ترقی’ کا پروجیکٹ بھی شامل ہے۔
وزیر اعظم قریب 43 پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے جن سے ملک بھر میں زیارت گاہوں اور سیاحتی مقامات کی وسیع رینج تیار ہوگی۔ وہ وزیر اعظم کی سی بی ڈی ڈی اسکیم کے تحت منتخب 42 سیاحتی مقامات کا اعلان بھی کریں گے۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم جموں وکشمیر میں سرکاری نوکریوں کے لگ بھگ ایک ہزار تقرری نامے تقسیم کریں گے اور مختلف سرکاری اسکیموں کے استفادہ کنندگان سے بھی بات چیت کریں گے۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
