کھیل
جمہوری عمل میں ہر ووٹ کی قیمت ہوتی ہے:نیرج چوپڑا
نئی دہلی،کھلاڑی اپنی لگن، ثابت قدمی اور ٹیم ورک کے ذریعے ملک کی خدمت کرتے ہیں ملک کی جرسی کو اندرون یا بیرون ملک پہننا باعث اعزاز بھی ہے اور یہ ایک ذمہ داری بھی ہے لیکن بطور کھلاڑی اور ہندوستانی نوجوان ، جو دنیا کی سب سے متحرک جمہوریت کا حصہ ہیں، ان کے لیے ایک اور اعزاز کی بات ہے جس کی ہم خواہش رکھتے ہیں وہ ہے ووٹنگ۔کھلاڑیوں کے طور پر، ہم ٹریک اور فیلڈ کے چمپئن ہیں، تاہم بطور نوجوان ہم تبدیلی کے علمبردار ہیں جمہوریت کے کھیل میں ہر ایک ووٹ کی قیمت ہوتی ہے اور ہر ایک آواز کی اپنی اہمیت ہوتی ہے ان خیالات کا اظہارہندوستانی ٹریک اور فیلڈ ایتھلیٹ، مردوں کے نیزہ پھینکنے کے مقابلے میں موجودہ اولمپک اور عالمی چمپئن نیرج چوپڑا نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں، جو شہریوں کو اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کا اہم استحقاق فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، یہ حق غیر فعال نہیں ہے؛یہ خاص طور پر نوجوانوں پر انتخابی عمل میں فعال طور پر شامل ہونے کا ایک فرض ہے۔
تاریخی طور پر، نوجوانوں نے سماجی تبدیلی کی قیادت کی ہے، اور انتخابات میں ان کی شمولیت ازحد اہمیت کی حامل ہے۔ جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے ووٹر رجسٹریشن سے لے کر نچلی سطح پر انتخابی مہم تک ہر مرحلے میں نوجوانوں کی فعال شرکت درکار ہوتی ہے۔
پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے افراد اپنے ساتھ نئے نظریات لے کر آتے ہیں اور شفافیت اور شمولیت جیسے آئیڈیلس کی حمایت کرتے ہیں۔ نوجوان ووٹر چونکہ توانائی اور تکنیکی آگہی سے مالامال ہوتا ہے، لہٰذا یہ چیزیں اس کے اندر پورے انتخابی منظرنامے میں فعالیت پیدا کرنے کی باعث ثابت ہوتی ہیں۔ اس سے شہریوں کی ضروریات کے سلسلے میں درکار رسائی اور معقول ردعمل پروان چڑھتا ہے۔ نوجوان افراد منتخبہ عہدیداران کو جواب دہ بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنی آواز کی سماعت کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور ایسے مسائل کو ابھار کر سامنے لاتے ہیں جو عوامی مسائل ہوتے ہیں، جس کے ذریعہ جمہوریت کی سالمیت اور قوت کا تحفظ ہوتا ہے۔
مسٹر چوپڑہ نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے الفاظ میں آپ کے مستقبل کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ آپ آج کیا کرتے ہیں۔ اب جبکہ ایک مرتبہ جمہوریت کا پہیہ پھر گھوما ہے، اور بھارت میں عنقریب 2024 کے انتخابات منعقد ہوں گے، اس بات کی تفہیم لازمی ہے کہ نوجوان افراد ملک کے مقدر کو سنوارنے میں جو محوری کردار ادا کر سکتے ہیں اسے اجاگر کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات میں وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخابی عمل میں نوجوانوں کی شرکت کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے انتخابی کمیشن کے ذریعہ ’میرا پہلا ووٹ دیش کے لیے‘ مہم چلائے جانے کے پہلو کو اجاگر کیا ہے جس کا مقصد پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والوں کو بیدار کرنا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے نوجوانوں کی ان کی قوت اور جوش و جذبے کے لیے ستائش کی ہے۔ان سے گذارش کی ہے کہ وہ ووٹنگ کے عمل میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لیں کیونکہ یہ براہِ راست طور پر ملک کے مستقبل کو متاثر کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے نوجوانوں سے ریکارڈ تعداد میں اس عمل میں شریک ہونے کی درخواست کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے ملک کے مقدر کو سنوارنے کے معاملے میں ان کے اہم کردار پر زور دیا ہے۔ انھوں نے مختلف النوع شعبوں میں اپنے اثر و رسوخ کے حامل افراد کو تلقین کی ہے کہ وہ اس مہم میں شرکت کریں اور سماجی تبدیلی لانے کے سلسلے میں ان کے اثر انگیز کردار کو تسلیم کرتے ہوئے نوجوان ووٹروں کو ترغیب فراہم کریں۔ انتخابی جوش و جذبے کے درمیان انہوں نے نوجوانوں سے گذارش کی ہے کہ وہ نہ صرف سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیں بلکہ جاری مباحثوں اور مکالموں سے بھی واقف رہیں۔
نیرج چوپڑہ نے کہا کہ ہندوستان کا انتخابی کمیشن انتخابات میں عام طور پر نوجوانوں کی مثبت شرکت کو پروان چڑھانے کے مقصد سے ”میرا پہلا ووٹ دیش کے لیے مہم“ چلا رہا ہے۔ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے اس مہم کا ترانہ جاری کیا ہے جو نوجوان ووٹروں کو اپنے جمہوری حق کو استعمال میں لانے کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کے لیے ملک کی عہد بندگی کا مظہر ہے۔ یہ ترانہ ووٹروں کی بیداری سے متعلق پہل قدمی کا ایک حصہ ہے اور اس میں انتخابی عمل میں فزوں تر نوجوان شراکت داری کے لیے وزیر اعظم مودی کی جانب سے دیے گئے نعرے کی روح کارفرما ہے۔ پورے ملک میں نوجوان اس ترانے کو ایک واضح نعرے کے طور پر اختیار کر رہے ہیں اور اپنے نوجوان دوستوں کو ووٹ ڈالنے کے لیے عہد بند کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ پہل قدمی اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی) کے ذریعہ چلائی جانے والی جامع ملک گیر بیداری سرگرمیوں کا بھی مشاہدہ کر رہی ہے اور ایک مزید مبنی بر نمائندگی جمہوریت کے لیے ووٹ ڈالنے کے عمل کی قدرو قیمت پر زور دے کر اسے نمایاں کر رہی ہے۔ جہاں ایک جانب اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ذریعہ عملی طور پر تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، وہیں مائی گو پلیٹ فارم پر آن لائن مسابقتی مقابلوں کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ان میں بلاگ تحریر کرنا، پوڈ کاسٹ، مباحثے اور مزید دیگر چیزیں شامل ہیں جن کا مقصد مواد بہم پہنچانے کے معاملے میں خلاقیت کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ورک شاپ، مذاکرات، فلیش ماب، اور ووٹروں کے ذریعہ عہدبندگی کی مہمات، طلبا کو انتخابی عمل کے سلسلے میں مربوط کر رہی ہیں اور جانکاریاں فراہم کر رہی ہیں۔ این ایس ایس کے رضاکاران اور اداروں کے کلبوں کے ذریعہ اس مہم میں سرگرمی سے شرکت کی جا رہی ہے۔
مسٹرچوپڑہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے مختلف النوع پلیٹ فارموں کے بااثر اور رسوخ دار افراد، جن میں انسٹاگرام، یوٹیوب اور تفریحی صنعتیں بھی شامل ہیں، سرگرمی کے ساتھ اس مہم کی حمایت کر رہے ہیں، پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والوں کو ترغیب فراہم کرر ہے ہیں۔ ملک کے گوشے گوشے سے اس سلسلے میں مقتدر نام سامنے آئے ہیں جنہوں نے کھیل کود، تفریح، کاروبار اور صنعت کے شعبوں میں اپنا ایک امتیازی مقام حاصل کیا ہے، یہ تمام افراد اس پیغام کو دور دور تک شہرت دینے کے لیے یکجا ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ میرے ساتھی کھلاڑی مثلاً جسپریت بمراہ، روی چندرن آشون، محمد سراج، اونی لیکھرا، سیکھوم میرابائی چانو، اور انل کپور، پرسنجیت چٹرجی، روینہ ٹنڈن، رانا دگوبتی، کیلاش کھیر، شریا گھوشال جیسی فلمی شخصیات اور رتیش اگروال، بی وی آر موہن ریڈی جیسے صنعتی قائدین اور متعدد پدم ایوارڈ یافتگان نے اس مہم میں شرکت کی ہے اور اسے ووٹروں کی بیداری کے لیے قومی تحریک کی شکل دینے میں مصروف ہیں۔
نیر ج چوپڑہ نے کہا کہ یہ عوامی تحریک نوجوانوں کی اجتماعی قوت کو نمایاں کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ملک کے جمہوری پیش منظر کو سنوارنے کے معاملے میں ان کی سرگرم شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ آیئے ہم سب اس ذمہ داری کو اٹھانے کے لیے متحد ہوں اور اپنی اجتماعی آوازوں کی قوت کا جشن منائیں۔ آیئے ہم اس چنوتی کا ڈٹ سامنا کریں، آیئے ہم سب مل کر اپنی آواز اٹھائیں اور دیگر افراد کو بھی ایسا کرنے کے لیے قوت بخشیں۔
یو این آئی۔ایف اے۔م الف
کھیل
قومی یومِ کھیل پر جموں و کشمیر کی کھیل برادری نے میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا
جموں، جموں و کشمیر کے کھلاڑیوں، سابق کھلاڑیوں، کوچز اور کھیلوں سے وابستہ دیگر افراد نے ہفتہ کے روز قومی یومِ کھیل کے موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے عظیم ہاکی کھلاڑی میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
قومی یومِ کھیل ہر سال 29 اگست کو میجر دھیان چند کی یومِ پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ہندوستانی ہاکی کے لیے ان کی خدمات نسلوں کے لیے آج بھی تحریک کا ذریعہ ہیں۔
جموں و کشمیر کی کھیل شخصیات نے اس موقع پر ایک صحت مند اور نظم و ضبط والی معاشرہ تشکیل دینے میں کھیلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے مزید تعاون اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، کوچنگ کی بہتر سہولیات فراہم کرنے اور نوجوانوں کی مختلف کھیلوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کئی سابق کھلاڑیوں اور کوچز نے کہا کہ قومی یومِ کھیل کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے اور نئی نسل کو لگن اور عزم کے ساتھ کھیلوں کو اپنانے کی ترغیب دینے کا ایک اہم موقع ہے۔
دریں اثنا، اس موقع کی مناسبت سے جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل، محکمہ یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس، مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور کھیلوں کی متعدد انجمنوں کی جانب سے کئی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
نئی تشکیل دی گئی جموں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے بھی اس موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
