کھیل
سابق چیئرمین پی سی بی شہریار خان 89 برس کی عمر میں انتقال کرگئے
اسلام آباد، سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان 89 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئے۔
ڈان نیوز کے مطابق اہل خانہ نے مرحوم کے انتقال کی تصدیق کردی۔
مرحوم شہریار خان ہفتے کی صبح طبعیت خراب ہونے پرخالق حقیقی سے جاملے، مرحوم کی عمر 89 برس تھی، پسماندگان میں بیوہ اور چار بچے شامل ہیں۔
مرحوم کی میت بذریعہ ایئر ایمبولینس کراچی لائی جائے گی اور نماز جنازہ کراچی میں ادا کی جائے گی۔
واضح رہے کہ شہریار خان پاکستان کے کامیاب سفارت کاروں میں شامل رہے، جنہوں نے 1957 میں پاکستان فارن سروس میں شمولیت اختیار کی اور انگلینڈ، اردن اور فرانس میں فرائض سرانجام دیے۔
1990 میں وہ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ بھی تعینات ہوئے اور 1994 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک برقرار رہے تھے۔
سبکدوش چیئرمین شہریار خان اگست 1999 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ منسلک ہوئے، اور وہ ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر بھی رہے۔
شہریار خان کے ہی دور میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا شاندار انعقاد کیا گیا تھا، جو بطور چیئرمین ان کے کریئر کی سب سے بڑی کامیابی تھی، جبکہ ان ہی کے دور میں پاکستان نے انگلینڈ میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی 2017 کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔
دسمبر 2023 میں پہلی بار انہوں نے چیئرمین پی سی بی کا عہدہ سنبھالا تھا۔
بعد ازاں، اگست 2014 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے بورڈ آف گورنرز نے شہریار خان کو دوسری بار بورڈ کا چیئرمین منتخب کر لیا تھا۔
4اگست 2017 کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سربراہ شہر یار خان اپنی مدت ملازمت کے 3 سال پورے کرنے کے بعد چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔
جیو نیوز کے مطابق شہریار ایم خان 29 مارچ 1934کو ہندوستانی شہر لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے ابتدائی علیم وہیں سے حاصل کی اور پھر اعلیٰ تعلیم انگلینڈ سے حاصل کی جب کہ تقسیم ہند کے بعد شہریار خان کا خاندان ہجرت کرکے پاکستان آ گیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی،کلفٹن کراچی میں پاکستان کا پہلا فارن آفس شہریار خان کے آبائی گھر بھوپال ہاؤس میں قائم کیا گیا تھا۔
شہریار خان کا تعلق ہندوستان کے شہر بھوپال سے تھا، وہ پاک ہند کرکٹ ڈپلومیسی کے ماہر تھے، انہوں نے سفارت کاری کے بعد کرکٹ میں شہرت حاصل کی لیکن قومی کھیل ہاکی سے دلی لگاؤ رکھتے تھے،اکثر ہاکی گراونڈز میں دکھائی دیتے تھے، انہوں نے نے 2004 میں کرکٹ ڈپلومیسی کے نام پر ہند پاک سیریز کا انعقاد کیا، ٹیسٹ اور ون ڈے میچوں کو دیکھنے کے لیے ہزاروں ہندوستانی پاکستان آئے، اس سیریز کو ہندوستان میں آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
شہریار خان ہندوستان کے سابق کرکٹ کپتان منصور علی خان پٹودی کے فرسٹ کزن اور بالی وڈ اسٹار سیف علی خان کے چچا تھے، 1999میںہند پاک کرکٹ روابط کی بحالی کے بعد انہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کا منیجر بناکر ہندوستان بھیجا گیا تھا، وہ2003 کے ورلڈکپ میں بھی منیجر تھے، انہوں نے دسمبر 2003 سے اکتوبر 2006 اور اگست 2014 سے اگست2017 تک دو بار پی سی بی کے چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
2004 میں صدر جنرل مشرف کی ہدایت پر انہوں نے چند ہفتوں کے نوٹس پر ہند پاک سیریز کا پاکستان میں کامیاب انعقاد کیا، ان کے دور میں ہندوستان نے دو بار پاکستان کا دورہ کیا تھا، ان کا شمار پی سی بی کے کامیاب ترین سربراہوں میں ہوتا ہے۔
آئی سی سی میں شہریار خان پاکستان کرکٹ کی طاقتور آواز کے طور پر جانے جاتے تھے، ان کا شمار پاکستان کے غیر متنازع اور قابل چیئرمینوں میں ہوتا ہے، شہریار خان جب پہلی بار پی سی بی چیئرمین بنے، اس وقت کراچی میں ایک میٹنگ میں نیشنل اسٹیڈیم کے قریب قاسم عمر فلائی اوور کے لیے سٹی گورنمنٹ کو پی سی بی کی کچھ جگہ درکار تھی، اس وقت کے سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے جب میٹنگ میں پی سی بی چیئرمین سے درخواست کی کہ انہیں فلائی اوور کے لیے جگہ درکار ہے تو شہریار صاحب نے فوراً کہا کہ بھائی اسٹیڈیم کی کئی ایکڑ زمین پہلے قبضہ ہوچکی ہے پی سی بی کچھ نہ کرسکا، میں تو خود کراچی والا ہوں، اگر فلائی اوور بن گیا تو روزانہ لاکھوں لوگ اس سے فائدہ اٹھاٗئیں گے انہوں نے فوراً فائل پر دستخط کردیے، اس طرح فلائی اوور بن گیا اور شہر کے دو بڑے اسپتالوں کے پاس ٹریفک کا دیرینہ مسلہ حل ہوگیا۔
مشہور سفارت کار، سابق سیکرٹری خارجہ ، سفیر اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار محمد خان طویل علالت کے باعث ہفتے کی صبح لاہور میں انتقال کر گئے، ان کی عمر89سال تھی، انہوں نے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ چار بچوں کو سوگوار چھوڑا۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے شہریار خان کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ شہر یار خان مرحوم کی خدمات کو تا دیر یاد رکھا جائے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
کھیل
قومی یومِ کھیل پر جموں و کشمیر کی کھیل برادری نے میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا
جموں، جموں و کشمیر کے کھلاڑیوں، سابق کھلاڑیوں، کوچز اور کھیلوں سے وابستہ دیگر افراد نے ہفتہ کے روز قومی یومِ کھیل کے موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے عظیم ہاکی کھلاڑی میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
قومی یومِ کھیل ہر سال 29 اگست کو میجر دھیان چند کی یومِ پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ہندوستانی ہاکی کے لیے ان کی خدمات نسلوں کے لیے آج بھی تحریک کا ذریعہ ہیں۔
جموں و کشمیر کی کھیل شخصیات نے اس موقع پر ایک صحت مند اور نظم و ضبط والی معاشرہ تشکیل دینے میں کھیلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے مزید تعاون اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، کوچنگ کی بہتر سہولیات فراہم کرنے اور نوجوانوں کی مختلف کھیلوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کئی سابق کھلاڑیوں اور کوچز نے کہا کہ قومی یومِ کھیل کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے اور نئی نسل کو لگن اور عزم کے ساتھ کھیلوں کو اپنانے کی ترغیب دینے کا ایک اہم موقع ہے۔
دریں اثنا، اس موقع کی مناسبت سے جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل، محکمہ یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس، مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور کھیلوں کی متعدد انجمنوں کی جانب سے کئی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
نئی تشکیل دی گئی جموں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے بھی اس موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
