تازہ ترین
سوپور میں جنگجو ؤں اور فورسز کے مابین ہوئی خونین جھڑپ کی مکمل رپورٹ
خبر اردو :
ڈنگی وچھ سوپور میں فوج اور جنگجوؤں کے مابین خونین جھڑپ میں لشکر طیبہ سے وابستہ 2عسکریت پسند جاں بحق ہوئے جبکہ طرفین کے درمیان شدید فائرنگ کے نتیجے میں 2فورسز اہلکار بھی بری طرح زخمی ہوگئے جن میں سے بعدمیں ایک فوجی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔ ادھر فورسزکی طرف سے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے قصبہ کے کئی مقامات پر نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ کا استعمال کیا جس کے بعد فورسز نے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کے علاوہ آنسو گیس کے گولے داغے۔ ادھر انتظامیہ نے جمعہ علی الصبح کو ہی قصبہ کے مضافات میں اسکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کے احکامات صادر کئے جب کہ افواہ بازی پر روک لگانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو مکمل طور پر مفلوج رکھا گیا۔
پولیس نے جھڑپ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو خود سپردگی کی پیش کش کی جسے جنگجوؤں نے ٹھکراتے ہوئے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جائے مقام سے 2عسکریت پسندوں کی نعشوں کو ہتھیاروں سمیت برآمد کیا گیا جن کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو شمالی قصبہ سوپور کے ڈنگی وچھ درسو علاقے میں فوج اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے علاقے میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع پانے پر علاقے کادوران شب سخت محاصرہ عمل میں لایا۔ اطلاعات کے مطابق فوج اور ایس او جی نے علاقے میں جنگجوؤں کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد ڈنگی وچھ درسو نامی بستی کا سخت محاصرہ عمل میں لایا۔ فوج نے علاقے کی طرف آنے اور جانے والے راستوں پر موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے علاوہ گلی کوچوں میں خار دار تاریں نصب کیں۔ اس دوران فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بستی میں تلاشی آپریشن شروع کردیا ۔ فورسز اہلکار جونہی مشتبہ مقام پر پہنچے جہاں جنگجوؤں نے پناہ لی تھی تو انہوں نے فورسز پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی۔ اس دوران فوج نے بھی مورچہ سنبھالا اور جوابی کارروائی کا آغاز کردیا۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران رات بھر فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان وقفے وقفے سے گولی باری ہوتی رہی جو جمعہ کی صبح تک جاری رہی۔
ادھرپولیس نے جمعہ کی علی الصبح بتایا کہ فوج اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ میں اب تک ایک جنگجو جاں بحق ہوچکا ہے جبکہ مکان کے اندرون سے صبح سے فائرنگ ہونی بند ہوگئی ہے۔ تاہم اس دوران فورسز اہلکاروں نے جونہی جمعہ کی صبح 9:15پر مکان کی جانب پیش قدمی کی تو اسی دوران مکان کے اندر چھپے بیٹھے دوسرے جنگجو نے فورسز پر دوبارہ فائرنگ شروع کردی جس کے بعد طرفین کے بیچ جھڑپ دوبارہ شروع ہوئی جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے بستی کا محاصرہ سخت کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کردیا جس کے بعد مکان کے اندر چھپے بیٹھے دوسرے جنگجو کو بھی جاں بحق کردیا گیا۔
جھڑپ سے متعلق پولیس نے اپنے بیان میں بتایا کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو جنگجوؤں کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد فوج اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے ڈنگی وچھ درسو نامی علاقے کا محاصرہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر فورسز اہلکاروں نے بستی میں تلاشی آپریشن کا باضابطہ آغاز کیا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے جونہی مشتبہ مکان کے نزدیک جانے کی پیش قدمی کی تو مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی۔ پولیس نے بتایا کہ اگر چہ سیکورٹی فورسز نے چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو خودسپردگی کی پیش کش بھی کی تاہم انہوں نے فورسز کی پیش کش کو رد کرتے ہوئے تلاشی پارٹی پر فائرنگ شروع کردی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کا سخت محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے آنے اور جانے والے راستوں پر موبائل بنکروں کو تعینات کرنے کے علاوہ علاقے کی گلی کوچوں میں خار دار داریں نصب کیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے بھی باضابطہ طور پر جنگجوؤں کے خلاف مورچہ کھولتے ہوئے جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس کے بعد جھڑپ شروع ہوئی۔
پولیس نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ 2عسکریت پسند جاں بحق کئے گئے جن کی شناخت ریاض احمد ساکن نصیرآباد سوپور اور خورشید احمد ملک ولد غلام نبی ملک ساکن نکس پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے جنگجوؤں کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جھڑپ کے دوران فوج اور پولیس کے 2اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں علاج و معالجے کی خاطر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم فوج کے ترجمان نے جھڑپ کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوؤں کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک اہلکار زخمی ہوا تھا جس بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر ہسپتال میں دم توڑ بیٹھا۔ ادھر فورسزکی طرف سے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے قصبہ کے کئی مقامات پر نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ کا استعمال کیا جس کے بعد فورسز نے احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کے علاوہ آنسو گیس کے گولے داغے۔
نمائندے کے مطابق قصبہ کے مضافات میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے سیکورٹی فورسز پر کئی اطراف سے پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں علاقے میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح جونہی فورسز نے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تو اسی دوران علاقے کے مضافات سے جنگجو مخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کے لیے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز اہلکاروں پر چہار سو پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں قصبے کے مضافات میں اتھل پتھل مچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران قصبہ سوپور اور مضافات میں تجارتی و عوامی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہی جب کہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ بھی متاثر ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاجی نوجوانوں کو منشتر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے اُن کا تعاقب کرنے کے علاوہ آنسو گیس کے کئی گولے داغے جس کے نتیجے میں علاقے میں سراسیمگی پھیل گئی۔اس دوران قصبہ میں تناؤ کی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے جمعہ علی الصبح کو ہی اسکولوں اور کالجوں کو بند رکھنے کے علاوہ افواہ بازی پرروک لگانے کے لیے موبائل انٹرنیٹ خدمات کو بھی اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ادھر جنوبی قصبہ پلوامہ میں جمعہ کی صبح اُس وقت حالات کشیدہ ہوئے اور نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے شروع کئے جب نکس پلوامہ سے تعلق رکھنے والے خورشید احمد سے متعلق یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ موصوف سوپور معرکے میں جاں بحق ہوا ہے۔ نمائندے کے مطابق نکس پلوامہ میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیاں اُس وقت سڑکوں پر نکل آئے اور فورسز کے خلاف سخت احتجاج کیا جب علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان خورشید احمد کے متعلق یہ افواہ گشت کرنے لگی کہ وہ شمالی قصبہ سوپور کے ڈنگی وچھ علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں جاں بحق ہوا ہے۔ اس دوران علاقے میں دوکانات مکمل طور پر بند ہوئے جب کہ سڑکوں سے گاڑیوں کی نقل و حمل مکل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ اس دوران ضلع کے کئی مقامات پر احتجاجی نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ ان کا تعاقب کیا۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
