تازہ ترین
آرٹیکل 35Aکے خلاف جاری یلغار پر ہوئے مظاہروں کی مکمل رپورٹ
خبر اردو:
آرٹیکل 35A کے مکمل تحفظ کی خاطر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی سمیت خطہ چناب میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس دوران مظاہرین نے عہد کیا کہ نئی دہلی کی جانب سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کاڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔مظاہرین نے بتایا کہ ریاستی عوام آرٹیکل 35Aکے دفاع کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند میں خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی شق 35Aکی سپریم کورٹ میں 6اگست کو ہونے والی سماعت کو لے کر ریاست جموں وکشمیر میں عوام کے اندر اضطراب پایا جارہا ہے جس کو لے کر قبل ہی کشمیر سے وابستہ سبھی سیاسی، تجارتی، سماجی، سیول سوسائٹی انجمنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھرجامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں ایک جلوس برآمد ہوا جس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والے آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حق میں زور دار احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پربی جے پی اور آر ایس ایس مخالف نعرے لگائے۔ انہوں نے بتایا کہ 6اگست کو سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35Aکی سماعت ہورہی ہے جس کے نتیجے میں ریاست کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام کے اندر اضطراب رونما ہوا ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرانے کے پیچھے فرقہ پرستوں کے مذموم مقاصد ہیں تاکہ ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرکے یہاں کی تحریک آزادی پرکاری ضرب لگائی جائے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر بتایا کہ اگر 6اگست کو آرٹیکل 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ واقع ہوئی تو ریاست جموں وکشمیر میں کہرام مچ جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری نئی دہلی پر عائد ہوگی ۔
اس سے قبل حریت (ع) چیرمین نے میرواعظ عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے ایک بار پھر واضح کیا کہ 6 اگست کو اگر بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے 35-A کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ آتا ہے جو کشمیری عوام کے مفادات کے منافی ہو یا مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت و ہیئت یا جموں وکشمیر کی آبادی Demography کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے ردعمل میں ہمہ گیر احتجاجی تحریک چھیڑ دی جائیگی۔انہو ں نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت(JRL) کی جانب سے اس ضمن میں ایک منظم اور مرتب پروگرام پہلے سے دیا جاچکا ہے اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ صرف JRL کے پروگرام پر من و عن عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنا سب کچھ داؤ پر لگا سکتے ہیں لیکن کشمیر کی متنازعہحیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ ادھر شہر کے آبی گزر علاقے میں لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک کی قیادت میں ایک احتجاجی جلوس برآمد ہوا۔ اطلاعات کے مطابق جلوس میں شامل مظاہرین نے آبی گزر بنڈ سے ہوتے ہوئے لعل چوک کی جانب پیش قدمی کی۔ فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک نے لوگوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ہند نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ خوانی کی تو ریاست جموں وکشمیر کے لوگ سڑکوں پر آکر کہرام مچائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر کے تینوں خطوں میں رہ رہے لوگ یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی اجاز ت نہیں دیں گے۔ یاسین ملک نے بتایا کہ ریاستی عوام اپنی شناخت کو بچانے اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے خون کے آخری قطرے تک کو بہادے گی۔ فرنٹ چیرمین نے بتایا کہ 6اگست،جس روز سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35Aکی سماعت ہونے جارہی ہے ، اگر یہاں کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ خوانی کی گئی تو ریاستی عوام سڑکوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی وہ 5اور 6اگست کو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھیں گے اور یہاں کی سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اس روز سیول کرفیو منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اقوام عالم ہمارے احتجاج کی گواہ رہنی چاہیے کہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام ریاست کی خصوصی شناخت کے ساتھ چھیڑنی کی کسی بھی اجازت نہیں دیں گے۔ اس موقعہ پر جلوس میں شامل مظاہرین نے ’جس کشمیر کو خون سے سینچا، وہ کشمیر ہمارا ہے‘ کے نعرے بلند کئے۔
اس دوران حریت (گ) جنرل سیکرٹری غلام نبی سمجھی کی قیادت میں حیدرپورہ جامع مسجد سے بھی ایک احتجاجی جلو س برآمد ہوا جس مرد و خواتین کے علاوہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلوس میں شامل مظاہرین نے بھارت مخالف نعرے بازی کرنے کے علاوہ آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے بلند کئے۔ احتجاجی مظاہرے سے قبل جامع مسجد حیدرپورہ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے غلام نبی سمجھی نے کہا کہ بھارت جموں کشمیر میں حقِ خودارادیت کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل کرنے کی ناکام کوششوں میں لگا ہوا ہے، جس کے لیے سب سے پہلے بھارتی آئین کے علاوہ ریاست جموں کشمیر کے آئین میں ان تمام رُکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دفعہ 35A اور دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ کشمیر احتجاجی مظاہرہ میں شریک قائدینِ حریت نے اس موقع پر اس عہد کا اعادہ کیا کہ بھارت کی طرف سے یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرکے اِسے ایک ہندو راشٹریہ کے زیرِ تسلط لائے جانے کے مذموم ہتھکنڈوں کو خاک میں ملانے کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
قائدین نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مورخہ 5؍اور 6؍اگست کو اپنے تمام کاروباری اور دفتری امورات معطل کرکے سِول کرفیو نافذ کرنے کی تحریک کو اپنا بھرپور تعاون اور حمایت پیش کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ریاست جموں کشمیر کو ایک نوآبادیاتی کالونی تصور کرنے کی بھول بھلیوں میں اپنے عوام کو دھوکہ دے رہا ہے، جبکہ پچھلے 70برسوں سے یہاں کے عوام حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرتے آئے ہیں اور اس دوران بھارت یہاں زمینی سطح پر اپنی فوجی اور سیاسی دھاک بٹھانے میں قطعی طور ناکام ونامراد ہوچکا ہے۔ ادھر سرحدی ضلع پونچھ میں بھی ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کو لے کر زور دار احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ نمائندے کے مطابق جمعہ نماز کے بعد ہی تحصیل منڈی پونچھ میں ایک بڑا جلوس برآمد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ نماز جمعہ کے اختتام کے ساتھ ہی مختلف مساجد سے لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کئے اور حکومت ہند سے ایسی کسی بھی کوشش سے پرہیز کرنے کی اپیل کی جس سے ریاست جموں وکشمیر کے خرمن امن میں آگ لگنے کا خطرہ ہے۔
مظاہرین نے حکومت ہند کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 6اگست کو ریاست جموں وکشمیر کے جملہ عوام کے خلاف کوئی بھی فیصلہ کیا گیاتو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت ہند پر ہوگی۔ جلو س میں شامل مظاہرین نے بتایا کہ 6اگست کو ضلع بھر میں مکمل ہڑتال رہے گی جس دوران تمام نجی اور اجتماعی سرگرمیاں معطل رہیں گے۔ KNS
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے رہنماؤں کا جنگ کے معاشی نقصانات کا اعتراف، سفارت کاری اور دفاع جاری رکھنے کا عزم
تہران، ایران کے رہنماؤں نے امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی نقصانات کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ملک کی غیر ملکی تجارت ایک تہائی سے زیادہ کم ہوگئی ہے۔
ایرانی قیادت نے ہفتے کے روز اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، سفارت کاری جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنے بقول کنٹرول برقرار رکھے گا۔
حکومت نے کہا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنا اب اس کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، جن میں مہنگائی پر قابو پانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بتدریج ڈالر پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث برآمدات اور درآمدات تقریباً 35 فیصد کم ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے مختصر مدت کے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے دوران، جب محدود مدت کے لیے تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی، ایران تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے ہیں، نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات سے نمٹے۔ اس حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے تھے۔
خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری بیان میں کہا گیا، ’’مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں کے انتظام اور اشیا و خدمات کی منڈی جیسے معاشی اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل کے سلسلے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘‘
گزشتہ ماہ ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ تہران کے رہائشیوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنگ نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مریم نامی ایک خاتون نے کہا، ’’جنگ سے پہلے میں کام نہیں کرتی تھی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ ہر چیز بہت مہنگی ہوگئی ہے۔‘‘
کھانے پینے کا کاروبار چلانے والے امید نے بتایا کہ کرایوں میں اضافے کے باعث کاروبار تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
ان کے بقول، ’’ہم بمشکل اپنے کارکنوں کی اجرت ادا کرپاتے ہیں۔‘‘
ایرانی حکومت نے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں سفارت کاری اور دفاع کو قومی مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے ’’دو تکمیلی، مربوط اور ناقابلِ تقسیم بازو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ دونوں محاذوں پر متوازن انداز میں کام جاری رکھے گی۔
تہران سے الجزیرہ کی نمائندہ سینم کوسے اوغلو نے بتایا کہ حکومت قومی اتحاد کا پیغام اجاگر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پزشکیان مذاکرات اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کم محاذ آرائی پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی ملک دوسرے پر حکمرانی نہیں کرتا۔ دوسری جانب سپریم لیڈر نے اندرونی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو ’’تخلیقی‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گی۔
ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگرچہ ’’دشمن‘‘ نے ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ایران نے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذخیرے کو ’’آخری لمحے تک انتہائی شدت‘‘ کے ساتھ استعمال کیا۔
قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے پاس مزید ’’حیرت انگیز اقدامات‘‘ موجود ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا، ’’ہر شخص، خصوصاً دشمنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مناسب وقت پر ایران کے ان حیرت انگیز اقدامات سے آگاہ ہوجائیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیف کے قریب گودام پر روسی حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک
کیف، یوکرین کے دارالحکومت کیف کے باہر بوچا ضلع میں ایک گودام پر رات گئے روسی حملے کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ حملے کے بعد گودام میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے۔
کیف کے علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے ہفتے کے روز بتایا کہ ’’بدقسمتی سے، موجودہ صورتحال کے مطابق 27 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ تعداد حتمی نہیں بھی ہوسکتی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دمتریوسکا گاؤں کے میئر تاراس دیدیچ بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کیف کے مغربی مضافات کے قریب واقع ایک گودام کو روسی ڈرون نے نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے۔
تکاچینکو نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 50 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ گھروں اور ایک ریستوران تک پھیل گئی۔
یوکرینی پراسیکیوٹرز کے مطابق گودام میں ’’دھماکہ خیز مواد‘‘ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مجرمانہ غفلت کے امکان کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کاروباری ادارے کے احاطے میں دھماکہ خیز مواد اور دیگر اشیا ذخیرہ کرنے کی قانونی اجازت تھی یا نہیں، اور متعلقہ کمپنی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کے پاس ضروری اجازت نامے اور منظوری موجود تھی یا نہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ میلا گاؤں میں ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا جس کے ’’بعد دھماکہ ہوا‘‘۔ انہوں نے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم تصدیق کی کہ اس واقعے پر فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا، ’’اس حوالے سے ضوابط موجود ہیں، گولہ بارود گھروں یا دیگر رہائشی علاقوں کے قریب ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
دونوں ممالک نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ اور شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کیف کے علاقائی گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملے میں 42 افراد زخمی ہوئے جبکہ بوچا ضلع سے 380 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم سرہی کوریٹسکی نے کہا کہ جولائی میں کیف کے قریب ویشنِیوے میں گولہ بارود کے ایک ڈپو پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔
اس حملے کی تحقیقات میں سرکاری ملکیت والی ایک کمپنی کی جانب سے گولہ بارود کو رہائشی عمارتوں سے مناسب فاصلے پر ذخیرہ کرنے کے حفاظتی معیار پر عمل نہ کرنے کی سنگین خامیاں سامنے آئی تھیں۔
کوریٹسکی نے ٹیلی گرام پر کہا، ’’مکمل پیمانے پر حملے کے پانچویں سال میں بار بار وہی غلطیاں دہرانا مجرمانہ غفلت ہے۔ ذمہ دار ہر شخص کو، کسی استثنا کے بغیر، سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ کبھی پیش نہ آئیں۔‘‘
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے جمعہ کی رات سے ہفتے کی صبح تک یوکرین پر کم از کم دو میزائل اور 267 ڈرون داغے۔
گودام پر حملے کے علاوہ ہفتے کی صبح روسی حملوں میں جنوبی اودیسا خطے میں ایک شخص اور کیف کے مضافاتی علاقے بوریسپِل میں ایک 14 سالہ لڑکی بھی ہلاک ہوگئی۔
دوسری جانب روس کے بیلگورود خطے میں یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
روس کے زیرانتظام جزیرہ نما کریمیا کے شہر سیواستوپول میں بھی یوکرینی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ شہر کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل راز ووزایف نے یہ اطلاع دی۔
روس اور یوکرین گزشتہ کئی ماہ سے ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک حملوں میں شدت لا رہے ہیں اور ان حملوں میں لاجسٹکس گوداموں، تیل تنصیبات اور بندرگاہوں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
