تازہ ترین
آرٹیکل 35Aکے خلاف جاری یلغار پر ہوئے مظاہروں کی مکمل رپورٹ
خبر اردو:
آرٹیکل 35A کے مکمل تحفظ کی خاطر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی سمیت خطہ چناب میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس دوران مظاہرین نے عہد کیا کہ نئی دہلی کی جانب سے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کاڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔مظاہرین نے بتایا کہ ریاستی عوام آرٹیکل 35Aکے دفاع کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کو آئین ہند میں خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والی شق 35Aکی سپریم کورٹ میں 6اگست کو ہونے والی سماعت کو لے کر ریاست جموں وکشمیر میں عوام کے اندر اضطراب پایا جارہا ہے جس کو لے کر قبل ہی کشمیر سے وابستہ سبھی سیاسی، تجارتی، سماجی، سیول سوسائٹی انجمنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھرجامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد حریت (ع) چیرمین میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں ایک جلوس برآمد ہوا جس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن فراہم کرنے والے آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حق میں زور دار احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پربی جے پی اور آر ایس ایس مخالف نعرے لگائے۔ انہوں نے بتایا کہ 6اگست کو سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35Aکی سماعت ہورہی ہے جس کے نتیجے میں ریاست کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام کے اندر اضطراب رونما ہوا ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرانے کے پیچھے فرقہ پرستوں کے مذموم مقاصد ہیں تاکہ ریاست کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرکے یہاں کی تحریک آزادی پرکاری ضرب لگائی جائے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر بتایا کہ اگر 6اگست کو آرٹیکل 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ واقع ہوئی تو ریاست جموں وکشمیر میں کہرام مچ جائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری نئی دہلی پر عائد ہوگی ۔
اس سے قبل حریت (ع) چیرمین نے میرواعظ عمر فاروق نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے ایک بار پھر واضح کیا کہ 6 اگست کو اگر بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے 35-A کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ آتا ہے جو کشمیری عوام کے مفادات کے منافی ہو یا مسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت و ہیئت یا جموں وکشمیر کی آبادی Demography کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے ردعمل میں ہمہ گیر احتجاجی تحریک چھیڑ دی جائیگی۔انہو ں نے کہا کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت(JRL) کی جانب سے اس ضمن میں ایک منظم اور مرتب پروگرام پہلے سے دیا جاچکا ہے اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ صرف JRL کے پروگرام پر من و عن عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنا سب کچھ داؤ پر لگا سکتے ہیں لیکن کشمیر کی متنازعہحیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ۔ ادھر شہر کے آبی گزر علاقے میں لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک کی قیادت میں ایک احتجاجی جلوس برآمد ہوا۔ اطلاعات کے مطابق جلوس میں شامل مظاہرین نے آبی گزر بنڈ سے ہوتے ہوئے لعل چوک کی جانب پیش قدمی کی۔ فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک نے لوگوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ہند نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ خوانی کی تو ریاست جموں وکشمیر کے لوگ سڑکوں پر آکر کہرام مچائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست جموں وکشمیر کے تینوں خطوں میں رہ رہے لوگ یہاں کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی اجاز ت نہیں دیں گے۔ یاسین ملک نے بتایا کہ ریاستی عوام اپنی شناخت کو بچانے اور اس کا تحفظ کرنے کے لیے خون کے آخری قطرے تک کو بہادے گی۔ فرنٹ چیرمین نے بتایا کہ 6اگست،جس روز سپریم کورٹ میں آرٹیکل 35Aکی سماعت ہونے جارہی ہے ، اگر یہاں کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ خوانی کی گئی تو ریاستی عوام سڑکوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی وہ 5اور 6اگست کو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھیں گے اور یہاں کی سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کرنی چاہیے۔ انہوں نے عوام سے اس روز سیول کرفیو منانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اقوام عالم ہمارے احتجاج کی گواہ رہنی چاہیے کہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام ریاست کی خصوصی شناخت کے ساتھ چھیڑنی کی کسی بھی اجازت نہیں دیں گے۔ اس موقعہ پر جلوس میں شامل مظاہرین نے ’جس کشمیر کو خون سے سینچا، وہ کشمیر ہمارا ہے‘ کے نعرے بلند کئے۔
اس دوران حریت (گ) جنرل سیکرٹری غلام نبی سمجھی کی قیادت میں حیدرپورہ جامع مسجد سے بھی ایک احتجاجی جلو س برآمد ہوا جس مرد و خواتین کے علاوہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلوس میں شامل مظاہرین نے بھارت مخالف نعرے بازی کرنے کے علاوہ آزادی کے حق میں بھی زور دار نعرے بلند کئے۔ احتجاجی مظاہرے سے قبل جامع مسجد حیدرپورہ میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے غلام نبی سمجھی نے کہا کہ بھارت جموں کشمیر میں حقِ خودارادیت کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل کرنے کی ناکام کوششوں میں لگا ہوا ہے، جس کے لیے سب سے پہلے بھارتی آئین کے علاوہ ریاست جموں کشمیر کے آئین میں ان تمام رُکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دفعہ 35A اور دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ کشمیر احتجاجی مظاہرہ میں شریک قائدینِ حریت نے اس موقع پر اس عہد کا اعادہ کیا کہ بھارت کی طرف سے یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرکے اِسے ایک ہندو راشٹریہ کے زیرِ تسلط لائے جانے کے مذموم ہتھکنڈوں کو خاک میں ملانے کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔
قائدین نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مورخہ 5؍اور 6؍اگست کو اپنے تمام کاروباری اور دفتری امورات معطل کرکے سِول کرفیو نافذ کرنے کی تحریک کو اپنا بھرپور تعاون اور حمایت پیش کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ریاست جموں کشمیر کو ایک نوآبادیاتی کالونی تصور کرنے کی بھول بھلیوں میں اپنے عوام کو دھوکہ دے رہا ہے، جبکہ پچھلے 70برسوں سے یہاں کے عوام حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرتے آئے ہیں اور اس دوران بھارت یہاں زمینی سطح پر اپنی فوجی اور سیاسی دھاک بٹھانے میں قطعی طور ناکام ونامراد ہوچکا ہے۔ ادھر سرحدی ضلع پونچھ میں بھی ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کو لے کر زور دار احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ نمائندے کے مطابق جمعہ نماز کے بعد ہی تحصیل منڈی پونچھ میں ایک بڑا جلوس برآمد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ انہوں نے بتایا کہ نماز جمعہ کے اختتام کے ساتھ ہی مختلف مساجد سے لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے کئے اور حکومت ہند سے ایسی کسی بھی کوشش سے پرہیز کرنے کی اپیل کی جس سے ریاست جموں وکشمیر کے خرمن امن میں آگ لگنے کا خطرہ ہے۔
مظاہرین نے حکومت ہند کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر 6اگست کو ریاست جموں وکشمیر کے جملہ عوام کے خلاف کوئی بھی فیصلہ کیا گیاتو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت ہند پر ہوگی۔ جلو س میں شامل مظاہرین نے بتایا کہ 6اگست کو ضلع بھر میں مکمل ہڑتال رہے گی جس دوران تمام نجی اور اجتماعی سرگرمیاں معطل رہیں گے۔ KNS
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
