تازہ ترین
آرٹیکل 35A: مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی کال پر ریاست کے تینوں خطوں میں ہوئے مظاہرے اور ہڑتال کی مکمل تفصیل
خبر اردو :
آرٹیکل 35Aکے تحفظ اور دفاع کی خاطر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پرریاست جموں وکشمیر میں مثالی سیول کرفیونافذ رہا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام نے بلالحاظ مذہب ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے سے تباہ کن صورتحال برآمد ہوگی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار، بھدرواہ، ڈوڈہ ، بانہال، رام بن سمیت پیر پنچال رینج کے عوام نے بھی مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہوئے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں مکمل ہڑتال کی جس دوران یہاں تجارتی، عوامی، کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں۔انتظامیہ نے سنیچر شام سے ہی مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کردیا جس دوران حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی اور حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند کردیا گیا تاہم فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک پولیس حراست سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے ہیں۔ اس دوران انتظامیہ نے عوامی مظاہروں کے پیش نظر وادی میں کڑے حفاظتی بندوبست کئے تھے جس دوران شمال و جنوب میں واقع حساس مقامات پر کسی بھی شخص کو پر مارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ امکانی گڑ بڑ اور عوامی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے بانہال سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو بھی احتیاطی طور پر 2روز کے لے لیے بند کردیا جبکہ اس دوران انتظامیہ نے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کا سفر کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے 2روز تک یاترا کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے ریاست کی آئین ہند میں خصوصی پوزیشن کے تحفظ اور دفاع کی خاطر 5اور 6اگست کو عوام سے مکمل ہڑتال اور سیول کرفیو نافذ کرنے کی اپیل کی گئی تھی جس دوران ہڑتال کے پہلے روز ریاست جموں و کشمیر کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام نے بلالحاظ مذہب و خطہ ریاست کی آئینی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے مثالی ہڑتال کی۔ادھر سرینگر میں کشمیر ٹریڈرس اینڈ منوفیکچرز ایسوسی ایشن سمیت متعدد تجارتی انجمنوں نے مشترکہ طور پر گھنٹہ گھر کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے نئی دہلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست کی منفرد حیثیت کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کے جملہ عوام سڑکوں پر نکل کر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آئیں گے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر دفعہ 35Aاور کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر فرقہ پرستوں کی جانب سے بھنی جارہی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر زور دیا اور بتایا۔ اس دوران شہر سرینگر کے بمنہ، ٹینگہ پورہ، نٹی پورہ، حیدرپورہ، نوہٹہ، صفاکدل، عیدگاہ، صورہ، مہاراج گنج وغیرہ میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے موقعہ پر موجود فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی تاہم فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے ہلکا لاٹھی چارج کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا۔ ادھر بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجارتی، کاروباری اور عوامی سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔
انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کی خاطر سیکورٹی فورسز کو متحرک کردیا تھا جبکہ حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کولگام، انت ناگ، پلوامہ اور شوپیان ، بڈگام، سرینگر، گاندربل، کپوارہ، بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں عوام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر یکسوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہڑتال کی جس دوران وادی کے جملہ اضلاع میں تجارتی، تعلیمی، عوامی، کاروباری، سرکاری و غیرسرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے شمال و جنوب تک راستے ریگستان کا منظر پیش کررہے تھے جس دوران دور دور تک کوئی بھی فرد بشر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان میں کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکر زور دار احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر 6اگست کو دفعہ 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست جموں وکشمیر کے جملہ عوام سڑکوں پر نکل کر اس مذموم منصوبے کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے جس کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اس دوران قصبہ ترال میں اتوار کی صبح ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حق میں زور دار احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر ریاست کی ڈیموگرافی کو کسی بھی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھارکھے تھے جن پر دفعہ 35Aاور دفعہ 370کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ ادھرشوپیان کے مضافات میں بھی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں زور دار احتجاج کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فرقہ پرستوں کی طرف سے متعدد بار ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت کو زک پہنچانے کی سعی کی جاچکی ہے اور آج بھی اسی طرح کی حرکت کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ریاست جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو مسخ کرنے کے لیے کوئی بھی حربہ بروئے کار لایا گیا تو جموں وکشمیر کے عوام اپنا خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا وہ یہاں کے امن و داؤ پر نہ لگاتے ہوئے فرقہ پرستوں کی جانب سے دائر عرضیوں فی الفور کالعدم قرار دیں۔کے این ایس نمائندے نے اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ضلع پلوامہ میں اتوار کو سخت بندشیں عائد رہیں جس دوران اتنظامیہ نے ضلع بھر میں سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے ضلع میں سیکورٹی کے اضافی دستوں کو تعینات کرکے لوگوں کی نقل و حمل پر سخت پابندی عائد کی۔ نمائندے کے مطابق اس دوران ضلع بھر میں کرفیو جیسی بندشیں عائد رہیں جس دوران کسی کو بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر سیکورٹی فورسز نے مختلف عارضوں میں مبتلا مریضوں کو بھی ضلعی ہسپتال پلوامہ تک پہنچنے نہیں دیا جس دوران بیماروں اور اُن کے تیمارداروں کو بھی کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہاڑی ضلع شوپیان کو اتوار کے روز فورسز نے کڑے حصار میں لیتے ہوئے عوام کی نقل و حمل مسدود کردی جس دوران ضلع بھرمیں ہوکا عالم رہا۔ نمائندے کے مطابق ضلع میں تمام قسم کے معمولات مکمل طور پر ٹھپ رہے جس دوران لوگوں کو گھروں کی چار دیواری کے اندر ہی محدود کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے ضلع میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کی خاطر ڈسٹرکٹ پولیس لائنز شوپیان میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی جس میں پولیس کے اعلیٰ افسران شامل رہے۔ اس دوران شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپوارہ، سوپور، لنگیٹ، ہندوارہ، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ اور حاجن میں بھی عوام نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ ریاست کی خصوصی شناخت کو مسخ کرنے کی کوششوں سے گریز کریں۔بارہمولہ سے کے این ایس نمائندے تاثیر افضل نے بتایا کہ یہاں اتوار کو ٹریڈرس، ٹیچرز فورم، بیوپار منڈل بارہمولہ ، بار ایسو سی ایشن بارہمولہ، سیول سوسائٹی، ٹرانسپورٹ یونین، ٹیچرز فورم، ورکنگ جرنلسٹ ایسو سی ایشن اور ملازمین یونین نے مشترکہ طو رپرجوائنٹ کارڈینیشن کمیٹی کے بینر تلے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس دوران جلوس میں شامل افراد نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے نئی دہلی کو باز رہنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے دفعہ 35Aاور 370کے دفاع کے حق میں زور دار نعرے بلند کئے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے دیگر مقامات سے بھی لوگوں نے پرامن جلوس نکالے جس دوران انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کی خاطر اپنا رول ادا کریں۔ ادھر کپوارہ، لنگیٹ، ہندوارہ، ترہگام، وترگام، سوپور، رفیع آباد، حاجن اور بانڈی پورہ میں بھی عوام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہوئے سخت ہڑتال کی جس دوران کئی مقامات پر پرامن احتجاجی جلوس برآمد ہوئے۔آرٹیکل 35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر مزاحمتی لیڈران اور دیگر انجمنوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال پرضلع کپوارہ میں ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران تمام کاروباری سرکار وغیرسرکاری ادراے مکمل طور بند رہے جبکہ سڑکیں ویران اور بازار وں میں سناٹا چھایا رہا اور مختلف مقامات پر نماز ظہر کے بعد 35اے کی دفاع کے لئے پر امن طور احتجاجی جلوس نکالے گئے۔جلوس میں شامل شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڑس اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ یہ ملک ہمارا ہے اس کا فیصلہ ہم کرینگے ۔ادھر ضلع کپوارہ اور قصبہ ہندوارہ لنگیٹ کرالہ گنڈ میں مکمل ہڑتال رہی تمام سرکاری وغیر سرکار ادارے بند رہے سڑکوں پر ٹرنسپورٹ بھی غائب رہا اور سڑکیں ویران، بازار سنسان نظر آئے جس سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار، بھدرواہ، ڈوڈہ، بانہال، رام بن سمیت پیر پنچال رینج کے عوام نے بھی ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت کے دفاع کی خاطر ہڑتال اور پرامن احتجاج کیا۔ نمائندے کے مطابق ضلع رام بن کے گول علاقے میں اتوار کی صبح ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو فی الفور منسوخ کریں۔ انہوں نے نئی دہلی کو خبر دار کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ریاست کی وحدت اور خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کے عوام سڑکوں پر نکل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔اس دوران بھدرواہ میں بھی دفعہ 35Aکے دفاع کی خاطر مکمل ہڑتال رہی۔
یہاں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے انجمن اسلامیہ بھدرواہ اور مجلس شوریٰ کشتوار نے مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں یہاں تجارتی ، عوامی اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی مکمل طور پر ماند پڑگئی۔ کشتوار میں بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے حوالے سے مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں دوکانات اور کاروباری ادارے بند رہے۔ انتظامیہ نے یہاں کسی بھی امکانی بڑگڑ سے نمٹنے کیخاطر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا تھا۔ اس دوران عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے احتیاطی طور پر خانہ و تھانہ نظر بند کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے سنیچر شام کو لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کوحراست میں لینے کی غرض سے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ ڈالا تاہم وہ یہاں پر موجود نہ تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ فرنٹ چیرمین احتجاجی کال کے پیش نظر اور پولیس حراست سے بچنے کی خاطر قبل از وقت ہی روپوش ہوگئے ہیں جس دوران پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔
اس دوران حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی اور حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو پولیس نے سنیچر شام کو ہی خانہ نظربند کردیا۔ ادھر تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی، پیپلز پولیٹیکل پارٹی چیرمین انجینئر ہلال احمد وار سمیت دیگر حریت لیڈان کو پولیس نے خانہ نظر بند کرتے ہوئے ان کی نقل و حرکت کو محدود کردیا۔ انتظامیہ نے اس دوران بانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو بھی اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ریلوے نے جنوبی کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظربانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ادھر شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی 5اور 6اگست کو ہڑتالی کال کے پیش نظر یاترا کو 2دن کے لیے معطل رکھا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ہڑتالی کال اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر یاترا کو 2دنوں تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ نے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے اتوار کی صبح کو کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ اور انتظامیہ نے مشترکہ طور پر ادھم پور اور رام بن میں چیک پوائنٹس قائم کئے ہیں تاکہ شاہراہ پر یاتریوں کی نقل و حمل پر کڑی نگاہ رہے۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
