تازہ ترین
آرٹیکل 35A: مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی کال پر ریاست کے تینوں خطوں میں ہوئے مظاہرے اور ہڑتال کی مکمل تفصیل
خبر اردو :
آرٹیکل 35Aکے تحفظ اور دفاع کی خاطر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پرریاست جموں وکشمیر میں مثالی سیول کرفیونافذ رہا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام نے بلالحاظ مذہب ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرنے سے تباہ کن صورتحال برآمد ہوگی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار، بھدرواہ، ڈوڈہ ، بانہال، رام بن سمیت پیر پنچال رینج کے عوام نے بھی مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہوئے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں مکمل ہڑتال کی جس دوران یہاں تجارتی، عوامی، کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں۔انتظامیہ نے سنیچر شام سے ہی مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ تیز کردیا جس دوران حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی اور حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو خانہ نظر بند کردیا گیا تاہم فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک پولیس حراست سے بچنے کے لیے روپوش ہوگئے ہیں۔ اس دوران انتظامیہ نے عوامی مظاہروں کے پیش نظر وادی میں کڑے حفاظتی بندوبست کئے تھے جس دوران شمال و جنوب میں واقع حساس مقامات پر کسی بھی شخص کو پر مارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ امکانی گڑ بڑ اور عوامی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے بانہال سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو بھی احتیاطی طور پر 2روز کے لے لیے بند کردیا جبکہ اس دوران انتظامیہ نے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کا سفر کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے 2روز تک یاترا کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے ریاست کی آئین ہند میں خصوصی پوزیشن کے تحفظ اور دفاع کی خاطر 5اور 6اگست کو عوام سے مکمل ہڑتال اور سیول کرفیو نافذ کرنے کی اپیل کی گئی تھی جس دوران ہڑتال کے پہلے روز ریاست جموں و کشمیر کے تینوں خطوں میں رہ رہے عوام نے بلالحاظ مذہب و خطہ ریاست کی آئینی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے مثالی ہڑتال کی۔ادھر سرینگر میں کشمیر ٹریڈرس اینڈ منوفیکچرز ایسوسی ایشن سمیت متعدد تجارتی انجمنوں نے مشترکہ طور پر گھنٹہ گھر کے سامنے پرامن احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے نئی دہلی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست کی منفرد حیثیت کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کے جملہ عوام سڑکوں پر نکل کر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آئیں گے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر دفعہ 35Aاور کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر فرقہ پرستوں کی جانب سے بھنی جارہی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر زور دیا اور بتایا۔ اس دوران شہر سرینگر کے بمنہ، ٹینگہ پورہ، نٹی پورہ، حیدرپورہ، نوہٹہ، صفاکدل، عیدگاہ، صورہ، مہاراج گنج وغیرہ میں نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے موقعہ پر موجود فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی تاہم فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی غرض سے ہلکا لاٹھی چارج کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا۔ ادھر بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجارتی، کاروباری اور عوامی سرگرمیاں ماند پڑگئیں۔
انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کی خاطر سیکورٹی فورسز کو متحرک کردیا تھا جبکہ حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کولگام، انت ناگ، پلوامہ اور شوپیان ، بڈگام، سرینگر، گاندربل، کپوارہ، بانڈی پورہ اور بارہمولہ میں عوام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر یکسوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہڑتال کی جس دوران وادی کے جملہ اضلاع میں تجارتی، تعلیمی، عوامی، کاروباری، سرکاری و غیرسرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ہڑتال کی وجہ سے شمال و جنوب تک راستے ریگستان کا منظر پیش کررہے تھے جس دوران دور دور تک کوئی بھی فرد بشر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ جنوبی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان میں کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکر زور دار احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر 6اگست کو دفعہ 35Aکے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست جموں وکشمیر کے جملہ عوام سڑکوں پر نکل کر اس مذموم منصوبے کے خلاف بھر پور احتجاج کریں گے جس کی تمام ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اس دوران قصبہ ترال میں اتوار کی صبح ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے سڑکوں کا رخ کرتے ہوئے آرٹیکل 35Aکے دفاع کے حق میں زور دار احتجاج کیا۔ مظاہرین نے حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے بتایا کہ اگر ریاست کی ڈیموگرافی کو کسی بھی طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ مظاہرین نے اس موقعہ پر ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر اٹھارکھے تھے جن پر دفعہ 35Aاور دفعہ 370کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ ادھرشوپیان کے مضافات میں بھی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں زور دار احتجاج کیا۔
انہوں نے بتایا کہ فرقہ پرستوں کی طرف سے متعدد بار ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت کو زک پہنچانے کی سعی کی جاچکی ہے اور آج بھی اسی طرح کی حرکت کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ریاست جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو مسخ کرنے کے لیے کوئی بھی حربہ بروئے کار لایا گیا تو جموں وکشمیر کے عوام اپنا خون کا آخری قطرہ تک بہادیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا وہ یہاں کے امن و داؤ پر نہ لگاتے ہوئے فرقہ پرستوں کی جانب سے دائر عرضیوں فی الفور کالعدم قرار دیں۔کے این ایس نمائندے نے اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ضلع پلوامہ میں اتوار کو سخت بندشیں عائد رہیں جس دوران اتنظامیہ نے ضلع بھر میں سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے ضلع میں سیکورٹی کے اضافی دستوں کو تعینات کرکے لوگوں کی نقل و حمل پر سخت پابندی عائد کی۔ نمائندے کے مطابق اس دوران ضلع بھر میں کرفیو جیسی بندشیں عائد رہیں جس دوران کسی کو بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر سیکورٹی فورسز نے مختلف عارضوں میں مبتلا مریضوں کو بھی ضلعی ہسپتال پلوامہ تک پہنچنے نہیں دیا جس دوران بیماروں اور اُن کے تیمارداروں کو بھی کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پہاڑی ضلع شوپیان کو اتوار کے روز فورسز نے کڑے حصار میں لیتے ہوئے عوام کی نقل و حمل مسدود کردی جس دوران ضلع بھرمیں ہوکا عالم رہا۔ نمائندے کے مطابق ضلع میں تمام قسم کے معمولات مکمل طور پر ٹھپ رہے جس دوران لوگوں کو گھروں کی چار دیواری کے اندر ہی محدود کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران یہاں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے ضلع میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کی خاطر ڈسٹرکٹ پولیس لائنز شوپیان میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد کی جس میں پولیس کے اعلیٰ افسران شامل رہے۔ اس دوران شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپوارہ، سوپور، لنگیٹ، ہندوارہ، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ اور حاجن میں بھی عوام نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ ریاست کی خصوصی شناخت کو مسخ کرنے کی کوششوں سے گریز کریں۔بارہمولہ سے کے این ایس نمائندے تاثیر افضل نے بتایا کہ یہاں اتوار کو ٹریڈرس، ٹیچرز فورم، بیوپار منڈل بارہمولہ ، بار ایسو سی ایشن بارہمولہ، سیول سوسائٹی، ٹرانسپورٹ یونین، ٹیچرز فورم، ورکنگ جرنلسٹ ایسو سی ایشن اور ملازمین یونین نے مشترکہ طو رپرجوائنٹ کارڈینیشن کمیٹی کے بینر تلے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس دوران جلوس میں شامل افراد نے ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے نئی دہلی کو باز رہنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے دفعہ 35Aاور 370کے دفاع کے حق میں زور دار نعرے بلند کئے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے دیگر مقامات سے بھی لوگوں نے پرامن جلوس نکالے جس دوران انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کی خاطر اپنا رول ادا کریں۔ ادھر کپوارہ، لنگیٹ، ہندوارہ، ترہگام، وترگام، سوپور، رفیع آباد، حاجن اور بانڈی پورہ میں بھی عوام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر لبیک کہتے ہوئے سخت ہڑتال کی جس دوران کئی مقامات پر پرامن احتجاجی جلوس برآمد ہوئے۔آرٹیکل 35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر مزاحمتی لیڈران اور دیگر انجمنوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال پرضلع کپوارہ میں ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران تمام کاروباری سرکار وغیرسرکاری ادراے مکمل طور بند رہے جبکہ سڑکیں ویران اور بازار وں میں سناٹا چھایا رہا اور مختلف مقامات پر نماز ظہر کے بعد 35اے کی دفاع کے لئے پر امن طور احتجاجی جلوس نکالے گئے۔جلوس میں شامل شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڑس اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ یہ ملک ہمارا ہے اس کا فیصلہ ہم کرینگے ۔ادھر ضلع کپوارہ اور قصبہ ہندوارہ لنگیٹ کرالہ گنڈ میں مکمل ہڑتال رہی تمام سرکاری وغیر سرکار ادارے بند رہے سڑکوں پر ٹرنسپورٹ بھی غائب رہا اور سڑکیں ویران، بازار سنسان نظر آئے جس سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار، بھدرواہ، ڈوڈہ، بانہال، رام بن سمیت پیر پنچال رینج کے عوام نے بھی ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت کے دفاع کی خاطر ہڑتال اور پرامن احتجاج کیا۔ نمائندے کے مطابق ضلع رام بن کے گول علاقے میں اتوار کی صبح ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران انہوں نے نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو فی الفور منسوخ کریں۔ انہوں نے نئی دہلی کو خبر دار کرتے ہوئے بتایا کہ اگر ریاست کی وحدت اور خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو ریاست کے عوام سڑکوں پر نکل کر اپنے غم و غصے کا اظہار کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔اس دوران بھدرواہ میں بھی دفعہ 35Aکے دفاع کی خاطر مکمل ہڑتال رہی۔
یہاں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال کی مکمل حمایت کرتے ہوئے انجمن اسلامیہ بھدرواہ اور مجلس شوریٰ کشتوار نے مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں یہاں تجارتی ، عوامی اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حمل بھی مکمل طور پر ماند پڑگئی۔ کشتوار میں بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کے حوالے سے مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں دوکانات اور کاروباری ادارے بند رہے۔ انتظامیہ نے یہاں کسی بھی امکانی بڑگڑ سے نمٹنے کیخاطر فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا تھا۔ اس دوران عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے احتیاطی طور پر خانہ و تھانہ نظر بند کردیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے سنیچر شام کو لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک کوحراست میں لینے کی غرض سے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ ڈالا تاہم وہ یہاں پر موجود نہ تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ فرنٹ چیرمین احتجاجی کال کے پیش نظر اور پولیس حراست سے بچنے کی خاطر قبل از وقت ہی روپوش ہوگئے ہیں جس دوران پولیس نے ان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔
اس دوران حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی اور حریت (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو پولیس نے سنیچر شام کو ہی خانہ نظربند کردیا۔ ادھر تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی، پیپلز پولیٹیکل پارٹی چیرمین انجینئر ہلال احمد وار سمیت دیگر حریت لیڈان کو پولیس نے خانہ نظر بند کرتے ہوئے ان کی نقل و حرکت کو محدود کردیا۔ انتظامیہ نے اس دوران بانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو بھی اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ ریلوے نے جنوبی کشمیر میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظربانہال سے بارہمولہ تک چلنے والی ریل سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ادھر شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی 5اور 6اگست کو ہڑتالی کال کے پیش نظر یاترا کو 2دن کے لیے معطل رکھا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ہڑتالی کال اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر یاترا کو 2دنوں تک معطل رکھنے کا فیصلہ لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ نے جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے اتوار کی صبح کو کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ اور انتظامیہ نے مشترکہ طور پر ادھم پور اور رام بن میں چیک پوائنٹس قائم کئے ہیں تاکہ شاہراہ پر یاتریوں کی نقل و حمل پر کڑی نگاہ رہے۔
دنیا
زمبابوے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس حادثے کا شکار، کم از کم 27 افراد ہلاک
ہرارے، زمبابوے کے وسطی علاقے میں چرچ کے ارکان کو لے جانے والی ایک منی بس اور مال بردار ٹرک کے درمیان سامنے سے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس نے یہ اطلاع دی۔
پولیس کے ترجمان پال نیاتھی نے ہفتے کے روز بتایا کہ حادثہ جمعہ کو تقریباً 18:30 جی ایم ٹی پر دارالحکومت ہرارے سے تقریباً 140 کلومیٹر جنوب میں چیواو کے قریب پیش آیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرک ایک دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس دوران وہ چرچ کے ارکان کو لے جانے والی منی بس سے ٹکرا گیا۔
منی بس میں ایک معروف افریقی مسیحی فرقے کے ارکان سوار تھے، جو ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نیوز نے ایک صوبائی حکومتی وزیر کے حوالے سے بتایا کہ 23 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دیگر زخمیوں نے مقامی اسپتال میں داخل کیے جانے کے بعد دم توڑ دیا۔
زیڈ بی سی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں منی بس کو مکمل طور پر تباہ اور جلے ہوئے ڈھانچے میں تبدیل دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ٹرک سڑک کے دوسری جانب کھڑا نظر آیا۔
حادثہ سڑک کے ایک ہموار اور دور دراز حصے میں پیش آیا، جہاں سڑک کے کناروں پر کم اونچائی کی نباتات اور اس کے آگے کھلا علاقہ موجود تھا۔
یہ حادثہ زمبابوے کی سڑکوں پر ہونے والے مہلک حادثات کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ ملک کی سڑکیں کئی برسوں سے فنڈز کی کمی اور عدم توجہی کے باعث جگہ جگہ گڑھوں کا شکار ہیں۔
روزمرہ آمدورفت کے لیے زمبابوے کے بہت سے شہری نجی طور پر چلنے والی منی بس ٹیکسیوں پر انحصار کرتے ہیں، جنہیں مقامی طور پر کومبی کہا جاتا ہے، تاہم ان میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار کیے جانے پر اکثر تنقید کی جاتی ہے۔
اپریل میں ملک کے جنوبی حصے میں ایک شاہراہ پر منی بس میں آگ لگنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسی ماہ کے اوائل میں زمبابوے اور جنوبی افریقہ کو ملانے والی ایک اور شاہراہ پر ایک خاتون اور ان کے پانچ بچے بھی ایک مال بردار ٹرک سے گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کے رہنماؤں کا جنگ کے معاشی نقصانات کا اعتراف، سفارت کاری اور دفاع جاری رکھنے کا عزم
تہران، ایران کے رہنماؤں نے امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی نقصانات کا اعتراف کیا ہے۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث ملک کی غیر ملکی تجارت ایک تہائی سے زیادہ کم ہوگئی ہے۔
ایرانی قیادت نے ہفتے کے روز اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، سفارت کاری جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنے بقول کنٹرول برقرار رکھے گا۔
حکومت نے کہا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنا اب اس کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے، جن میں مہنگائی پر قابو پانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور بتدریج ڈالر پر انحصار کم کرنا شامل ہے۔
صدر مسعود پزشکیان نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے باعث برآمدات اور درآمدات تقریباً 35 فیصد کم ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے مختصر مدت کے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کے دوران، جب محدود مدت کے لیے تیل کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی، ایران تقریباً 9 کروڑ بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے منظرعام پر نہیں آئے ہیں، نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو درپیش مشکلات سے نمٹے۔ اس حملے میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہوگئے تھے۔
خامنہ ای سے منسوب ایک تحریری بیان میں کہا گیا، ’’مہنگائی، بے روزگاری، قیمتوں کے انتظام اور اشیا و خدمات کی منڈی جیسے معاشی اور عوامی زندگی سے متعلق مسائل کے سلسلے سے سنجیدگی سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔‘‘
گزشتہ ماہ ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ تہران کے رہائشیوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنگ نے روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مریم نامی ایک خاتون نے کہا، ’’جنگ سے پہلے میں کام نہیں کرتی تھی۔ جنگ شروع ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر کے اخراجات میں مدد کے لیے ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ ہر چیز بہت مہنگی ہوگئی ہے۔‘‘
کھانے پینے کا کاروبار چلانے والے امید نے بتایا کہ کرایوں میں اضافے کے باعث کاروبار تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
ان کے بقول، ’’ہم بمشکل اپنے کارکنوں کی اجرت ادا کرپاتے ہیں۔‘‘
ایرانی حکومت نے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں سفارت کاری اور دفاع کو قومی مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے ’’دو تکمیلی، مربوط اور ناقابلِ تقسیم بازو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ دونوں محاذوں پر متوازن انداز میں کام جاری رکھے گی۔
تہران سے الجزیرہ کی نمائندہ سینم کوسے اوغلو نے بتایا کہ حکومت قومی اتحاد کا پیغام اجاگر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر پزشکیان مذاکرات اور پڑوسی ممالک کے ساتھ کم محاذ آرائی پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ خطے کا کوئی ملک دوسرے پر حکمرانی نہیں کرتا۔ دوسری جانب سپریم لیڈر نے اندرونی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی نے جمعرات کو تہران میں ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت دوبارہ کھولنے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو ’’تخلیقی‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دفاعی صلاحیت برقرار رکھے گی۔
ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگرچہ ’’دشمن‘‘ نے ایران کی ڈرون اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی، تاہم ایران نے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذخیرے کو ’’آخری لمحے تک انتہائی شدت‘‘ کے ساتھ استعمال کیا۔
قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن رضا نے جمعہ کو کہا کہ ایران کے پاس مزید ’’حیرت انگیز اقدامات‘‘ موجود ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق انہوں نے کہا، ’’ہر شخص، خصوصاً دشمنوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مناسب وقت پر ایران کے ان حیرت انگیز اقدامات سے آگاہ ہوجائیں گے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
کیف کے قریب گودام پر روسی حملے میں کم از کم 27 افراد ہلاک
کیف، یوکرین کے دارالحکومت کیف کے باہر بوچا ضلع میں ایک گودام پر رات گئے روسی حملے کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ حملے کے بعد گودام میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور بڑے پیمانے پر دھماکے ہوئے۔
کیف کے علاقائی گورنر تیمور تکاچینکو نے ہفتے کے روز بتایا کہ ’’بدقسمتی سے، موجودہ صورتحال کے مطابق 27 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ تعداد حتمی نہیں بھی ہوسکتی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں دمتریوسکا گاؤں کے میئر تاراس دیدیچ بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق کیف کے مغربی مضافات کے قریب واقع ایک گودام کو روسی ڈرون نے نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔ حملے کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے۔
تکاچینکو نے بتایا کہ حملے میں کم از کم 50 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا، جبکہ بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ گھروں اور ایک ریستوران تک پھیل گئی۔
یوکرینی پراسیکیوٹرز کے مطابق گودام میں ’’دھماکہ خیز مواد‘‘ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے مجرمانہ غفلت کے امکان کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کاروباری ادارے کے احاطے میں دھماکہ خیز مواد اور دیگر اشیا ذخیرہ کرنے کی قانونی اجازت تھی یا نہیں، اور متعلقہ کمپنی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، کے پاس ضروری اجازت نامے اور منظوری موجود تھی یا نہیں۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں کہا کہ میلا گاؤں میں ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا جس کے ’’بعد دھماکہ ہوا‘‘۔ انہوں نے مقام کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم تصدیق کی کہ اس واقعے پر فوجداری کارروائی کی جائے گی۔
زیلنسکی نے کہا، ’’اس حوالے سے ضوابط موجود ہیں، گولہ بارود گھروں یا دیگر رہائشی علاقوں کے قریب ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
دونوں ممالک نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایک دوسرے پر طویل فاصلے تک حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ اور شہری ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
کیف کے علاقائی گورنر نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ حملے میں 42 افراد زخمی ہوئے جبکہ بوچا ضلع سے 380 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
وزیراعظم سرہی کوریٹسکی نے کہا کہ جولائی میں کیف کے قریب ویشنِیوے میں گولہ بارود کے ایک ڈپو پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد بھی سبق نہیں سیکھا گیا۔
اس حملے کی تحقیقات میں سرکاری ملکیت والی ایک کمپنی کی جانب سے گولہ بارود کو رہائشی عمارتوں سے مناسب فاصلے پر ذخیرہ کرنے کے حفاظتی معیار پر عمل نہ کرنے کی سنگین خامیاں سامنے آئی تھیں۔
کوریٹسکی نے ٹیلی گرام پر کہا، ’’مکمل پیمانے پر حملے کے پانچویں سال میں بار بار وہی غلطیاں دہرانا مجرمانہ غفلت ہے۔ ذمہ دار ہر شخص کو، کسی استثنا کے بغیر، سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ کبھی پیش نہ آئیں۔‘‘
یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے جمعہ کی رات سے ہفتے کی صبح تک یوکرین پر کم از کم دو میزائل اور 267 ڈرون داغے۔
گودام پر حملے کے علاوہ ہفتے کی صبح روسی حملوں میں جنوبی اودیسا خطے میں ایک شخص اور کیف کے مضافاتی علاقے بوریسپِل میں ایک 14 سالہ لڑکی بھی ہلاک ہوگئی۔
دوسری جانب روس کے بیلگورود خطے میں یوکرینی ڈرون حملے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔
روس کے زیرانتظام جزیرہ نما کریمیا کے شہر سیواستوپول میں بھی یوکرینی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ شہر کے روسی مقرر کردہ گورنر میخائل راز ووزایف نے یہ اطلاع دی۔
روس اور یوکرین گزشتہ کئی ماہ سے ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک حملوں میں شدت لا رہے ہیں اور ان حملوں میں لاجسٹکس گوداموں، تیل تنصیبات اور بندرگاہوں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے نشانہ بنایا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
