تازہ ترین
آرٹیکل 35-A سماعت: ریاست کے تینوں خطوں میں مسلسل دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال، سیول کرفیو رہا نافذ
خبر اردو :
ریاست جموں وکشمیر کی آئین ہند میں منفرد شناخت کے دفاع کی خاطر ریاست کے تینوں خطوں میں مسلسل دوسرے روز بھی تاریخی اور فقید المثال ہڑتال اور سیول کرفیو نافذ رہا جس دوران مختلف اضلاع میں لوگوں نے بلالحاظ رنگ و نسل، مذہب و ملت پرامن احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس آرٹیکل 35Aکو برخواست کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہڑتال کے دوران تجارتی، کاروباری، سیاحتی، ہوٹل مالکان، صنعت کار، شکارا والا، ٹرانسپورٹ یونینوں، ملازمین انجمنوں، سیول سوسائٹی سمیت سماج کے مختلف طبقوں نے مشترکہ طور پر ریلیاں نکالی جس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے فرقہ پرستوں کی مذموم سازشوں کوناکام بنانے کا متفقہ طور پر عہد کیا۔ ادھر ہڑتال کی وجہ سے دوسرے روز بھی ریاست میں کاروباری، تجارتی، عوامی،تعلیمی، سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ اس دوران سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت کلی طور پر بند رہی۔ ادھر انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے بیشتر لیڈران اور کارکنوں کو تھانہ و خانہ نظر بندکردیا جبکہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک ہنوز گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔ ادھر انتظامیہ نے عوامی احتجاج سے نمٹنے کے لیے وادی کے بیشتر اضلاع اور تحصیل مقامات پر سیکورٹی کے کڑے بندوبست کئے تھے جبکہ اضلاع کو ملانے والی رابطہ سڑکوں پر سیکورٹی فورسز نے موبائل بنکروں کو تیار رکھا تھا۔ علاوہ ازیں انتظامیہ نے جنوبی وشمالی کشمیر میں عوامی مظاہروں کے پیش نظر ریل سروس اور امرناتھ یاترا کو دوسرے روز بھی بند رکھا جبکہ اس دوران جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے ریاست کی آئین ہند میں منفرد شناخت کے دفاع اور تحفظ کی خاطر سوموار کو دوسرے روز بھی ریاست کے تینوں خطوں میں کئی علاقوں کو چھوڑ کر تاریخی اور فقید المثال ہڑتال اور سیول کرفیو رہا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں سے وابستہ عوام نے بلالحاظ رنگ و نسل، مذہب و ملت ریاست کی خصوصی پوزیشن اور شناخت کے دفاع کے حق میں جلسے اور جلوسوں کا اہتمام کیا۔ اطلاعات کے مطابق شہر سرینگر میں دوسرے روز بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجارتی، عوامی، کاروباری، تعلیمی، سرکاری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ ضلع سرینگر اور مضافات میں ہڑتال کی نوعیت کا اثر اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو روٹی اور دودھ تک میسر نہ ہوسکا جس کی وجہ سے یہاں رہ رہے رعوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر خاص میں انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑسے نمٹنے کے لیے سیکورٹی فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کیا ہوا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر خاص کے گلی کوچوں اورسڑکوں پر فورسز اہلکار دن بھر گشت کرتے نظر آئے جس دوران یہاں پورے دن سڑکوں پر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز نے شہر کے بیشتر علاقوں کو مکمل طور پر سیل کیا ہوا تھا جس دوران سڑکوں پر خاردار تاریں نصب کرنے کے علاوہ یہاں جگہ جگہ موبائل بنکروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ادھر شہر کے ٹینگہ پورہ، حیدرپورہ، رام باغ، باغ مہتاب، نوگام، کنی پورہ، مہجور نگر، آلوچی باغ، ڈلگیٹ، خانیار، نوہٹہ، قلمدان پور، حول، صورہ، آنچار، صفاکدل، حبہ کدل وغیرہ علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے اور یہاں فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی۔ فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ ساتھ مظاہرین کا دور دور تک تعاقب کیا تاہم اس دوران کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ادھر بڈگام اور گاندربل اضلاع میں ریاست کی منفرد شناخت کے دفاع کے حوالے سے مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں بھی کئی مقامات پر نوجوانوں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بڈگام کے کھاگ، ماگام، چاڈورہ، چرار، ڈولی پورہ، وغیرہ علاقوں میں نوجوانوں نے پرامن ریلیاں نکال کر سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو برخواست کرنے کی مانگ کی۔ اس موقعہ پرجلوس میں شامل لوگوں نے فرقہ پرستوں کے خلاف بھی جم کر نعرہ بازی کی۔ چرار سے کے این ایس نمائندے غلام قادر بیدار نے اطلاع دی ہے کہ یہاں بھی ہڑتال کی وجہ سے دوسرے روز بھی معمولات زندگی درہم برہم رہے جس دوران علاقے میں تجارتی، تعلیمی ، سرکاری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہنے کے علاوہ یہاں گاڑیوں کی آواجاہی بھی کلی طور پر متاثر رہی۔ ہڑتال کی وجہ سے شمال و جنوب تک راستے ریگستان کا منظر پیش کررہے تھے جس دوران دور دور تک کوئی بھی فرد بشر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کے این ایس کے نمائندے برائے جنوبی کشمیر نے اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان میں کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکرپرامن احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس 35Aریاست کو ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے اور اگر اس کے ساتھ کوئی چھیڑ خوانی کی گئی تو ریاست کے تینوں خطوں میں کہرام بپا ہوگا تاہم بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوئے۔ ادھر شوپیان میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی ٹھپ رہے جس دوران یہاں تجارتی اور عوامی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں جبکہ سڑکیں یہاں ریگستان کا منظر پیش کررہی تھیں۔ادھر نمائندے نے پلوامہ سے اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی خاطر سیکورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے تھے جس دوران ضلع کے اندرون اور بیرون سڑکوں پر خاردار تاریں نصب کی گئی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ سخت ہڑتال اور سیول کرفیو جیسی صورتحال سے ضلع بھر کی سڑکوں پر ہوکا عالم چھایا رہا۔ اس دوران شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپوارہ، سوپور، لنگیٹ، ہندوارہ، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ اور حاجن میں بھی سوموار کو دوسرے روز بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران بعض مقامات پر نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے اس دوران ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے نئی دہلی کو ریاست کی آئینی پوزیشن کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ خوانی کرنے سے خبردار کیا۔ انہوں نے مانگ کی کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو ہمیشہ کے لیے برخواست کیا جانا چاہیے تاکہ ریاستی عوام میں پائے جارہے اضطراب کو ہمیشہ کے لیے دور کیا جائے۔ ادھر پیر پنچال خطے سے تعلق رکھنے والے راجور ی اور پونچھ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران لوگوں نے پرامن احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی کو ریاست کی خصوصی شناخت سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے باز رہنے کا مشوہ دیا۔ راجوری کے گجر منڈی علاقے سے لوگوں نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس دوران انہوں نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست مخالف منصوبوں کی مذمت کی۔ مظاہرین نے آل پارٹیز کارڈینیشن کمیٹی کے بینر تلے یہاں ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جس میں سماج سے تعلق رکھنے والے سبھی طبقوں نے شرکت کی۔ اس دوران ضلع کے درہال تحصیل میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں زندگی کی جملہ سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں جبکہ ٹریفک بھی سڑکوں سے غائب رہا۔ ضلع پونچھ کے منجاکوٹ، مینڈھر، سرنکوٹ اور منڈی علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں معمولات زندگی متاثر رہے۔ نمائندے نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے یہاں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے گاڑیوں کی آواجاہی بھی مفلوج رہی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار میں بھی فقید المثال ہڑتال رہی جس دوران لوگوں نے پرامن احتجاجی جلوس نکالے۔ یہاں امام جامع مسجد کشتوار اور چناب ویلی ٹریڈرس ایسو سی ایشن نے مشترکہ طور پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کل کی حمایت کی تھی جس دوران یہاں ہڑتال کا خاصا اثر دکھائی دیا ۔
ادھر انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے بیشتر لیڈران اور کارکنوں کو تھانہ و خانہ نظر بندکردیا جبکہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک ہنوز گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔اطلاعات کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ لیڈران سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو پولیس نے سنیچرشام کو ہی خانہ نظر بند کردیا تھا تاہم جے آر ایل سے وابستہ محمد یاسین ملک پولیس کی گرفتار سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔ ادھر تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی، پی پی پی چیرمین انجینئر ہلال وار سمیت حریت کانفرنس کے دیگر لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے احتیاطی طور پر خانہ و تھانہ نظر بند کردیا۔ علاوہ ازیں انتظامیہ نے جنوبی وشمالی کشمیر میں عوامی مظاہروں کے پیش نظر ریل سروس اور امرناتھ یاترا کو دوسرے روز بھی بند رکھا جبکہ اس دوران جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلوے حکام نے مسافروں کی سلامتی کو لے کر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دئے گئے دو روزہ ہڑتالی کال کے پیش نظر دو روز تک ریل سروس معطل رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی اس دوران جموں سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بورڈ نے ادھم پور اور رام بن میں چیک پوائنٹس قائم کئے ہیں تاکہ کسی بھی یاتری کو بغیر اجازت وادی کے اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔ KNS
دنیا
یوکرین بڑے پیمانے کے ڈرون حملوں کے ساتھ روس کے روستوف علاقے کو نشانہ بنا رہا ہے
ماسکو، ایک وسیع پیمانے کے یوکرینی ڈراون حملے میں روس کے جنوبی علاقے روستوف میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں کو خالی کرا لیا گیا۔
ورنر یوری سلوسار نے ٹیلیگرام پر تصدیق کی کہ ‘ دشمن کے شدید حملے میں سات افراد زخمی ہوئے’ اور بتایا کہ چار زخمیوں کو صوبائی دارالحکومت کے اسپتال میں زیرِ علاج لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کے حملے کے بعد ایک شخص کی حالت تشویشناک ہے۔
ضلع پرو لیتارسکی میں گرنے والے ڈراو ن کے ٹکڑوں نے دو بلند رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد ہنگامی خدمات نے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ میں منتقل کیا۔
اکسائیسکی ضلع میں حکام نے ایک گودام سے ڈراون کے ٹکڑے برآمد کیے اور قریبی جنگل کی پٹی میں آگ بھڑکنے کی اطلاع دی۔
باگایفسکی ضلع میں نجی مکانات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سلوسار نے خبردار کیا کہ ڈراونز کا خطرہ برقرار ہے اور رہائشیوں کو گھر کے اندر رہنے اور کھڑکیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔
یوکرین نے تاحال اس حملے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے:پیزشکیان
تہران، صدرِایران مسعود پزیشکیان نے اپنے ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات کا سرکاری ٹیلی ویژن پر جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے بارے میں کی گئی بات چیت میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ‘معاہدہ شدہ نقشے کی بنیاد پر’ دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے کہا، ‘موجودہ مذاکراتی عمل میں ہرمز کے لیے ایک روڈ میپ تیار کیا گیا۔ اس روڈ میپ کو ایران کے رہنما آیت اللہ مُجتَبٰی خامنہ ای کے سامنے پیش کیا گیا اور پاسدارانِ انقلاب، فوجی قوتیں اور مذاکراتی ٹیم میں شامل ہمارے بھائیوں نے بھی اسے منظور کیا۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘اگر یہ راہداری اسی دائرہ کار کے تحت کھولا جائے تو امریکہ کو بھی اپنے وعدے پورے کرنے چاہییں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو بحری محاصرے اور پابندیوں کو ختم کرنا، ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنا اور اسرائیل پر زور ڈالنا چاہیے کہ وہ لبنان میں اپنے اقدامات روک دے۔
پزیشکیان نے کہا، ‘آبنائے ہرمز کو کھولنے کا عمل اسلام آباد مفاہمت نامہ میں بیان کردہ اور مخالف فریقین کے قبول کردہ دائرہ کار کے مطابق ہے اور اسے نافذ ہونا چاہیے۔’
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے پزیشکیان نے کہا، ‘ہمیں اپنے محبوب اور شہید سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے نظریات کی بنیاد پر سفارتکاری کو مضبوط کرنا چاہیے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہیے، اگرچہ ان تعلقات میں ہم آہستگی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔’
پزیشکیان نے کہا، ‘ایران کے زیادہ تر ہمسائے اسلامی ممالک ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ ایک مشترکہ زبان تلاش کرنی چاہیے، اور خطے کی سلامتی کو مل کر یقین دہانی کرانی چاہیے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے بات چیت اور باہمی رابطہ ضروری ہے۔ ہم پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، مصر، آذربائیجان اور ترکمانستان کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے زمین تیار ہے، ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔’
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
