تازہ ترین
آرٹیکل 35-A سماعت: ریاست کے تینوں خطوں میں مسلسل دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال، سیول کرفیو رہا نافذ
خبر اردو :
ریاست جموں وکشمیر کی آئین ہند میں منفرد شناخت کے دفاع کی خاطر ریاست کے تینوں خطوں میں مسلسل دوسرے روز بھی تاریخی اور فقید المثال ہڑتال اور سیول کرفیو نافذ رہا جس دوران مختلف اضلاع میں لوگوں نے بلالحاظ رنگ و نسل، مذہب و ملت پرامن احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس آرٹیکل 35Aکو برخواست کرنے کا مطالبہ کیا۔ ہڑتال کے دوران تجارتی، کاروباری، سیاحتی، ہوٹل مالکان، صنعت کار، شکارا والا، ٹرانسپورٹ یونینوں، ملازمین انجمنوں، سیول سوسائٹی سمیت سماج کے مختلف طبقوں نے مشترکہ طور پر ریلیاں نکالی جس دوران جلوس میں شامل لوگوں نے فرقہ پرستوں کی مذموم سازشوں کوناکام بنانے کا متفقہ طور پر عہد کیا۔ ادھر ہڑتال کی وجہ سے دوسرے روز بھی ریاست میں کاروباری، تجارتی، عوامی،تعلیمی، سرکاری و غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ اس دوران سڑکوں سے ٹریفک کی نقل و حرکت کلی طور پر بند رہی۔ ادھر انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے بیشتر لیڈران اور کارکنوں کو تھانہ و خانہ نظر بندکردیا جبکہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک ہنوز گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔ ادھر انتظامیہ نے عوامی احتجاج سے نمٹنے کے لیے وادی کے بیشتر اضلاع اور تحصیل مقامات پر سیکورٹی کے کڑے بندوبست کئے تھے جبکہ اضلاع کو ملانے والی رابطہ سڑکوں پر سیکورٹی فورسز نے موبائل بنکروں کو تیار رکھا تھا۔ علاوہ ازیں انتظامیہ نے جنوبی وشمالی کشمیر میں عوامی مظاہروں کے پیش نظر ریل سروس اور امرناتھ یاترا کو دوسرے روز بھی بند رکھا جبکہ اس دوران جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے ریاست کی آئین ہند میں منفرد شناخت کے دفاع اور تحفظ کی خاطر سوموار کو دوسرے روز بھی ریاست کے تینوں خطوں میں کئی علاقوں کو چھوڑ کر تاریخی اور فقید المثال ہڑتال اور سیول کرفیو رہا جس دوران ریاست کے تینوں خطوں سے وابستہ عوام نے بلالحاظ رنگ و نسل، مذہب و ملت ریاست کی خصوصی پوزیشن اور شناخت کے دفاع کے حق میں جلسے اور جلوسوں کا اہتمام کیا۔ اطلاعات کے مطابق شہر سرینگر میں دوسرے روز بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران یہاں تجارتی، عوامی، کاروباری، تعلیمی، سرکاری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ ضلع سرینگر اور مضافات میں ہڑتال کی نوعیت کا اثر اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو روٹی اور دودھ تک میسر نہ ہوسکا جس کی وجہ سے یہاں رہ رہے رعوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر خاص میں انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑسے نمٹنے کے لیے سیکورٹی فورسز کے اضافی دستوں کو تعینات کیا ہوا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر خاص کے گلی کوچوں اورسڑکوں پر فورسز اہلکار دن بھر گشت کرتے نظر آئے جس دوران یہاں پورے دن سڑکوں پر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔ نمائندے کے مطابق سیکورٹی فورسز نے شہر کے بیشتر علاقوں کو مکمل طور پر سیل کیا ہوا تھا جس دوران سڑکوں پر خاردار تاریں نصب کرنے کے علاوہ یہاں جگہ جگہ موبائل بنکروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ادھر شہر کے ٹینگہ پورہ، حیدرپورہ، رام باغ، باغ مہتاب، نوگام، کنی پورہ، مہجور نگر، آلوچی باغ، ڈلگیٹ، خانیار، نوہٹہ، قلمدان پور، حول، صورہ، آنچار، صفاکدل، حبہ کدل وغیرہ علاقوں میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرے کئے اور یہاں فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی۔ فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہلکا لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ ساتھ مظاہرین کا دور دور تک تعاقب کیا تاہم اس دوران کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ادھر بڈگام اور گاندربل اضلاع میں ریاست کی منفرد شناخت کے دفاع کے حوالے سے مکمل ہڑتال رہی جس دوران یہاں بھی کئی مقامات پر نوجوانوں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بڈگام کے کھاگ، ماگام، چاڈورہ، چرار، ڈولی پورہ، وغیرہ علاقوں میں نوجوانوں نے پرامن ریلیاں نکال کر سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو برخواست کرنے کی مانگ کی۔ اس موقعہ پرجلوس میں شامل لوگوں نے فرقہ پرستوں کے خلاف بھی جم کر نعرہ بازی کی۔ چرار سے کے این ایس نمائندے غلام قادر بیدار نے اطلاع دی ہے کہ یہاں بھی ہڑتال کی وجہ سے دوسرے روز بھی معمولات زندگی درہم برہم رہے جس دوران علاقے میں تجارتی، تعلیمی ، سرکاری اور غیر سرکاری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہنے کے علاوہ یہاں گاڑیوں کی آواجاہی بھی کلی طور پر متاثر رہی۔ ہڑتال کی وجہ سے شمال و جنوب تک راستے ریگستان کا منظر پیش کررہے تھے جس دوران دور دور تک کوئی بھی فرد بشر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کے این ایس کے نمائندے برائے جنوبی کشمیر نے اطلاع فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان میں کئی مقامات پر لوگوں نے سڑکوں پر آکرپرامن احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس 35Aریاست کو ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے اور اگر اس کے ساتھ کوئی چھیڑ خوانی کی گئی تو ریاست کے تینوں خطوں میں کہرام بپا ہوگا تاہم بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوئے۔ ادھر شوپیان میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی ٹھپ رہے جس دوران یہاں تجارتی اور عوامی سرگرمیاں مکمل طور پر مفلوج رہیں جبکہ سڑکیں یہاں ریگستان کا منظر پیش کررہی تھیں۔ادھر نمائندے نے پلوامہ سے اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ انتظامیہ نے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کی خاطر سیکورٹی کے سخت انتظامات عمل میں لائے تھے جس دوران ضلع کے اندرون اور بیرون سڑکوں پر خاردار تاریں نصب کی گئی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ سخت ہڑتال اور سیول کرفیو جیسی صورتحال سے ضلع بھر کی سڑکوں پر ہوکا عالم چھایا رہا۔ اس دوران شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپوارہ، سوپور، لنگیٹ، ہندوارہ، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ اور حاجن میں بھی سوموار کو دوسرے روز بھی مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی جس دوران بعض مقامات پر نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے پرامن احتجاجی مظاہرے کئے۔ مظاہرین نے اس دوران ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے نئی دہلی کو ریاست کی آئینی پوزیشن کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ خوانی کرنے سے خبردار کیا۔ انہوں نے مانگ کی کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت کیس کو ہمیشہ کے لیے برخواست کیا جانا چاہیے تاکہ ریاستی عوام میں پائے جارہے اضطراب کو ہمیشہ کے لیے دور کیا جائے۔ ادھر پیر پنچال خطے سے تعلق رکھنے والے راجور ی اور پونچھ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران لوگوں نے پرامن احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے نئی دہلی کو ریاست کی خصوصی شناخت سے چھیڑ چھاڑ کرنے سے باز رہنے کا مشوہ دیا۔ راجوری کے گجر منڈی علاقے سے لوگوں نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جس دوران انہوں نے فرقہ پرستوں کی جانب سے ریاست مخالف منصوبوں کی مذمت کی۔ مظاہرین نے آل پارٹیز کارڈینیشن کمیٹی کے بینر تلے یہاں ایک بڑی احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا جس میں سماج سے تعلق رکھنے والے سبھی طبقوں نے شرکت کی۔ اس دوران ضلع کے درہال تحصیل میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران یہاں زندگی کی جملہ سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں جبکہ ٹریفک بھی سڑکوں سے غائب رہا۔ ضلع پونچھ کے منجاکوٹ، مینڈھر، سرنکوٹ اور منڈی علاقوں میں بھی مکمل ہڑتال رہی جس کے نتیجے میں یہاں معمولات زندگی متاثر رہے۔ نمائندے نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے یہاں تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سڑکوں سے گاڑیوں کی آواجاہی بھی مفلوج رہی۔ ادھر خطہ چناب کے کشتوار میں بھی فقید المثال ہڑتال رہی جس دوران لوگوں نے پرامن احتجاجی جلوس نکالے۔ یہاں امام جامع مسجد کشتوار اور چناب ویلی ٹریڈرس ایسو سی ایشن نے مشترکہ طور پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کل کی حمایت کی تھی جس دوران یہاں ہڑتال کا خاصا اثر دکھائی دیا ۔
ادھر انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت کے لیڈران سمیت حریت کانفرنس کے بیشتر لیڈران اور کارکنوں کو تھانہ و خانہ نظر بندکردیا جبکہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک ہنوز گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔اطلاعات کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ لیڈران سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو پولیس نے سنیچرشام کو ہی خانہ نظر بند کردیا تھا تاہم جے آر ایل سے وابستہ محمد یاسین ملک پولیس کی گرفتار سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔ ادھر تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی، پی پی پی چیرمین انجینئر ہلال وار سمیت حریت کانفرنس کے دیگر لیڈران اور کارکنان کو پولیس نے احتیاطی طور پر خانہ و تھانہ نظر بند کردیا۔ علاوہ ازیں انتظامیہ نے جنوبی وشمالی کشمیر میں عوامی مظاہروں کے پیش نظر ریل سروس اور امرناتھ یاترا کو دوسرے روز بھی بند رکھا جبکہ اس دوران جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ریلوے حکام نے مسافروں کی سلامتی کو لے کر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دئے گئے دو روزہ ہڑتالی کال کے پیش نظر دو روز تک ریل سروس معطل رکھنے کا فیصلہ کیا جبکہ شری امرناتھ شرائن بورڈ کے اعلیٰ حکام نے بھی اس دوران جموں سے کسی بھی یاتری کو سرینگر کی جانب سفر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بورڈ نے ادھم پور اور رام بن میں چیک پوائنٹس قائم کئے ہیں تاکہ کسی بھی یاتری کو بغیر اجازت وادی کے اندر داخل نہ ہونے دیا جائے۔ KNS
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
