جموں و کشمیر
امن سے رہنا چاہتے ہیں، بات چیت کی وکالت کرتے رہیں گے:ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سری نگر،جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ جنگ و جدل میں غریب اور معصوم لوگ مرتے ہیں ، یوکرین اور فلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم پڑوسی ملک کیساتھ بات چیت کی وکالت کرتے ہیں اور اس کیلئے ہمیں ملک دشمن اور پاکستانی کہا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں اور ہم ہمیشہ بات چیت کی وکالت کرتے رہیں گے۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے چاڈورہ میں چناوی ریلی سے خطاب کے دوران کیا۔
بھاجپا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاکہ ہندوستان میں20کروڑ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں اور موجودہ حکمرانوں نے گذشتہ 10برس سے اتنی بڑی آبادی کیساتھ ناانصافی کا سلوک روا رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے، مسلمانوں کے کھانے ، پہناﺅے اور زندگی گزارنے کے طریقوں میں بے جا مداخلت کی جارہی ہے، مسلمانوں کی مساجد پر بلڈوزر چلائے جارہے ہیں، مسلمانوں کی عبادتگاہوں پر زعفرانی جھنڈے لہرائے جاتے ہیں۔
این سی صدر نے مزید بتایا کہ باریش مسلمانوں کو نشانہ بنا یا جارہاہے نیز بھاجپا حکومت نے مسلمانوں کیخلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے اور اس کے باوجود بھی کشمیر میں اے بی سی اور ڈی ٹیمیں بھاجپا کے اشاروں پر کام کررہی ہیں اور بھاجپا کی مدد و اعانت میں لگے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ 2014میں جموں وکشمیر کے ووٹروں سے غلطی ہوئی اور منڈیٹ غلط سیاسی جماعتوں کے ہاتھ لگ گیا ، نتیجتاً دفعہ370اور35اے کاخاتمہ ممکن ہوپایا اور ہماری یہ تاریخی ریاست نہ صرف خصوصی پوزیشن سے محروم ہوگئی بلکہ اس کے دوٹکڑے کرکے اسے دو غیر جمہوری مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تبدیل کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 2014میں عوام کو ہوشیار کرنے کی ان تھک کوششیں کی لیکن بدقسمتی سے ہماری وارننگ کو ہلکے میں لیا گیا، اگر 2014میں نیشنل کانفرنس کو منڈیٹ ملا ہوتا تو دفعہ370اور35اے آج بھی برقرار ہوتے اور ہماری اس تاریخی ریاست کو کسی بھی قسم کی زک نہیں پہنچی ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ خصوصی پوزیشن کے خاتمے کیلئے جو جماعتیں قصوروار ہیں وہ آج پھر سے آپ کے ہمدربن بیٹھے ہیں اور آپ سے ووٹ طلب کررہے لیکن درپردہ طور پر وہ آج بھی بھاجپا کیساتھ برابر ملے ہوئے ہیں۔ عوام کو ان جماعتوں اور عناصر کے اداروں اور ناپاک عزائم کو سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا ، اب غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، اگر ہم نے اب بھی غلطیاں دہرائیں تو آنے والی نسلیں ہمیں کسی بھی صورت میں معاف نہیں کریں گی۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ دفعہ370کے کے خاتمے وقت ہم سے کہا گیا تھا کہ ہزاروں نوکریاں دی جائیں گی لیکن کسی کو روز نہیں ملا، اگر کوبھرتی ہوئی تو وہ غیر مقامی لوگوں کی بھرتی ہوئی۔
جموں و کشمیر کے پشتینی باشندوں کو ہر سطح پر نظرانداز کیا جارہاہے۔ ہمارے سینکڑوں بچے آج بھی باہری جیلوں میں زیر عتاب ہیں، بیشتر کے والدین کے پاس اتنا گزارا نہیں کہ وہ اپنے بچوں سے ملاقات کیلئے باہر جائیں، اور حکمران یہاں سب کچھ ٹھیک ہونے کے دعوے کرتے پھر رہے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر میں حالات اتنے ہی ٹھیک ہیں تو آئے روز حملے کیوں ہورہے ہیں؟ اگر حالات اتنے ہی ٹھیک ہیں تو پھر جی 20کے مہمانوں کو گلمرگ اور داچھی گام سیر کرانے کا پروگرام کیوں منسوخ کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ بھاجپا حکومت زبانی جمع خرچ سے ملک اور دنیا کے عوام کو گمراہ کررہے ہیں لیکن جموںوکشمیر کے زمینی حقائق ان دعوﺅں سے کوسوں دور ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نیشنل کانفرنس کو پارلیمانی انتخابات میں کامیاب بنا کر ملک اور دنیا کو یہ پیغام بھیجیں ہم نے 5اگست2019کے فیصلے قبول نہیں کئے ہیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
