جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کا انتظامیہ پر الیکشن مہم میں جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا الزام ، ای سی کو مکتوب روانہ
سری نگر، جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور بارہمولہ لوک سبھا سیٹ کے امیدوار عمر عبداللہ نے پارٹی کو پولیس کی طرف سے شمالی کشمیرمیں 9سے18 مئی تک مہم ری شیڈول کرنے کو کہے جانے پر چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا کو ایک مکتوب بھیجا ہے۔
عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بارہمولہ لوک سبھا کی20مئی کو ہونے والی پولنگ سے قبل نیشنل کانفرنس کی مہم میں جان بوجھ کر رکاوٹ کھڑا کر رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اور بارہ مولہ لوک سبھا سیٹ کے امیدوار عمر عبداللہ نے پارٹی کو شمالی کشمیر میں 9مئی سے 18مئی تک مہم ری شیڈول کرنے کو کہے جانے پر چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا کو ایک مکتوب بھیجا ہے۔
عمر نے جموں و کشمیر انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ 20 مئی کو ہونے والے بارہمولہ لوک سبھا سیٹ کے انتخابات سے پہلے نیشنل کانفرنس کی مہم کو جان بوجھ کر ناکام بنا رہی ہے۔
ای سی آئی کو لکھے ایک خط میں عمر نے کہا :’جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس نے بارہ مولہ کے مختلف علاقوں میں سیاسی ریلیوں کے انعقاد کی اجازت کی درخواست دی تھی جسے منظور کر لیا گیا تھا۔ تاہم ایس پی سوپور نے مہم کو ری شیڈول کرنے کو کہا ہے۔
‘عمر عبداللہ نے کہاکہ انتخابی ریلیوں اور جلسوں کو دوبارہ شیڈول کرنے کے پیچھے پارٹی کی سیاسی مہم کو پٹری سے اتارنا مقصود ہے۔
عمر عبداللہ نے الزام لگایا کہ اس آرڈر کے پیچھے دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں نیشنل کانفرنس کو سیاسی طورپر نقصان پہنچانا ہے۔ان کے مطابق یہ امتیازی کارروائی جمہوریت اور انتخابی میدان میں منصفانہ مقابلے کے اصولوں پر براہ راست حملہ ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ سیاسی پارٹیوں کو انتظامیہ کی طرف سے بلا روک ٹوک جلسے جلوس کرنے کی اجازت ہے لیکن نیشنل کانفرنس کو مسلسل رکاوٹوں اور ہراسانی کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔
عمر عبداللہ نے خط میں مزید لکھا :’انتخابی قوانین اور الیکشن ضابط اخلاق کے مطابق انتظامیہ کو جلسے جلوس منعقد کرنے کی خاطر پیشگی اجازت ضروری ہے تاکہ سیکورٹی ایجنسیاں ضروری انتظامات کرسکیں۔‘انہوں نے مزید بتایا کہ تقریبات کے لئے پیشگی اجازت مانگنے اور منظور کئے جانے کے بعد پولیس کے پاس تقریبات کی اجازت سے انکار کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
عمر نے کمیشن سے درخواست کی کہ وہ مذکورہ معاملے کا فوری نوٹس لے اور ایس پی سوپور کو ضروری ہدایات جاری کریں تاکہ نیشنل کانفرنس اپنی چناوی مہم جاری رکھ سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ معاملے کو فوری اور تیزی سے حل کرنے میں ناکامی صرف انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور جمہوریت کی اقدار کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ادارے پر عوامی اعتماد کو ختم کرنے کا کام کرے گی۔
عمر عبداللہ نے سماجی رابط سائٹ ایکس پر خط شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پورے شمالی کشمیر میں ان کی مہم کو لوگوں کی جانب سے زبردست رد عمل مل رہا ہے اس سے مخالفین بے چین ہو گئے ہیں۔ دریں اثنا پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد غنی لون نے کہاکہ ان کی پارٹی سے بھی پروگراموں کو دوبارہ ری شیڈول کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ در حقیقت نیشنل کانفرنس اور پیپلز کانفرنس دونوں کو مطلع کیا گیا کہ پروگراموں کو دوبارہ ترتیب دیا جائے۔انہوں نے عمر پر طنز کرتے ہوئے ایکس پر لکھا :’حیرت میں ہوں کہ عمر عبداللہ نے پورا آرڈر نہیں پڑھا ہے۔‘
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
