جموں و کشمیر
فرقہ پرست طاقتیں ملک کے آئین کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہیں: ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سری نگر،جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جمعے کے روز عوام سے اپیل کی کہ وہ پوری ہمت، حوصلہ اور جرات مندی کیساتھ اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرکے اُن جماعتوں اور عناصر کو مسترد کریں، جنہوں نے اس تاریخی ریاست کی خصوصی حیثیت سلب کی.انہوں نے کہاکہ پارلیمانی انتخابات میں انڈیا الائنس کے امیدواروں کی جیت یقینی ہے۔ان باتوں کا اظہارموصوف نے چرار شریف میں چناوی جلسے سے خطاب کے دوران کیا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ کشمیر دشمن عناصر کو شکست فاش کرکے موجودہ ظلم و ستم اور افسر شاہی نظام کیخلاف اپنا پیغام دینے کی اشد ضرورت ہے ۔جموں وکشمیر میں اُن طاقتوں کو مسترد کرنا ضروری بن گیا ہے جنہوں نے ملک کی اقلیتوں کا جینا دوبھر کردیاہے۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا کشمیر میں خود الیکشن نہیں لڑ رہی ہے لیکن اس وقت ایک منظم سازش کے تحت جوڑ ،توڑ اور دھونس و دباﺅ کی پالیسی اختیار کرکے نیشنل کانفرنس کیخلاف اپنی اے بی سی اور ڈی ٹیموں کی مدد ا عانت میں لگی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ووٹوں کو بانٹنے کیلئے لوگوں کو علاقائی، لسانی اور مذہب کے نام پر تقسیم کے علاوہ ووٹ کے بدلے نوٹ کا استعمال کرنے کے حربے بھی اپنائے جارہے ہیں اور اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے عوام کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
آج کا الیکشن ملک اور دنیا کو یہ پیغام دینے کا موقع ہے کہ 5اگست2019کو جموں و کشمیرکیساتھ جو کچھ ہوا یہاں کے عوام نے وہ قبول نہیں کیا ہے۔اُن کا کہناتھا کہ فرقہ پرست طاقتیں ملک کے آئین کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہیں، بی جے پی اور اس کی پراکسیوں کے عزائم اچھے نہیں ہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ لوگ تمام سازشوں اور حربوں کو وقت رہتے سمجھیں گے اور بھاجپا ، اے ٹیم، بی ٹیم اور سی ٹیم کو مسترد کرنے کیلئے اپنے گھروں سے نکل کر نیشنل کانفرنس کی کامیابی کو یقینی بنائیں گے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس وقت جموں وکشمیر کے عوام سخت ترین مشکلات اور مصائب سے دوچار ہیں، بے روزگاری عروج پر ہے، لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، سرکاری اور انتظامی سطح پر عوام کی کہیں شنوائی نہیں، ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی ناراضگی کا اظہار کریں۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا :’ آج مہنگائی عروج پر ہے، جو گیس سلینڈر 500 روپے کا تھا وہ آج 1100روپے تک پہنچ گیا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان چھو گئیں ہیں جبکہ بے روزگاری عروج پر ہے۔ بی جے پی نے کہا تھا کہ ہر سال 2کروڑ نوکریاں فراہم کی جائینگی ۔‘
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ سکریٹریٹ اور دیگر دفتروںمیں باہر کے افسران کو بٹھایا گیا ہے، جو یہاں کی تاریخی، لوگوں کے مزاج، جغرافیائی صورتحال اور دیگر معاملات سے بے خبر ہیں اور یہ افسران کشمیریوں کو غلام سمجھتے ہیں اور سرکاری دفتروں میں یہاں کے لوگوں کیساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس ہر سٹیج پر اس ناانصافی کیخلاف آواز اُٹھاتی آئی ہے اور مستقبل میں بھی یہاں کے عوام کی آواز کو زور دار نمائندگی دینے کیلئے نیشنل کانفرنس کے اُمیدواروں کی کامیابی یقینی بنانا یہاں کے عوام کی ذمہ داری ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
