ہندوستان
لوک سبھا کے ساتویں اور آخری مرحلے کی انتخابی مہم ختم، ووٹنگ یکم جون کو ہوگی
نئی دہلی، 18 ویں لوک سبھا انتخابات کے لئے تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والی انتخابی مہم جمعرات کی شام 6 بجے ختم ہو گئی۔ شدید گرمی اور ایک دوسرے کے خلاف سیاسی جماعتوں کے تند و تیز بیانات اور شوروغل سے بھری ہوئی انتخابی مہم آج تھم گئی ۔
ان انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے میں ہفتہ کو 57 پارلیمانی نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوگی جس میں آٹھ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام چنڈی گڑھ شامل ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اوڈیشہ اسمبلی کے چوتھے اور آخری مرحلے میں 42 سیٹوں کے لیے ایک ہی دن ووٹنگ ہوگی۔ ضابطے کے مطابق ان سیٹوں پر انتخابی مہم پولنگ سے 48 گھنٹے قبل آج شام 6 بجے ختم ہو گئی۔
انتخابی مہم میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کی زیر قیادت حکمران اتحاد نے اقربا پروری، خوشامد پسندی اور بدعنوانی پر کانگریس اور دیگر جماعتوں پر مشتمل انڈیا اتحاد پر حملہ کیا۔ اپوزیشن نے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت پر انتخابی بانڈز میں بدعنوانی، مذہبی تقسیم کی سیاست اور اپوزیشن لیڈروں کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ آئین کو تبدیل کرنے کے منصوبوں کا الزام لگایا۔
عام انتخابات کے ساتویں مرحلے کے لیے حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) اور اپوزیشن انڈیا اتحاد کے اسٹار پرچارکوں کے علاوہ ان کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے عوامی جلسوں اور روڈ شوز وغیرہ کے ذریعے اپنے امیدواروں کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے انتظامات کے مطابق ووٹنگ کی مدت ختم ہونے سے 48 گھنٹے قبل عوامی مہم روک دی جاتی ہے۔ اس کے بعد امیدوار اور ان کے حامی ذاتی سطح پر رابطہ کر کے ووٹرز کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔
آج آخری مرحلے میں انتخابی مہم ختم ہونے سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے پنجاب کے ہوشیا پور میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ آج کل ملک کے لوگ انڈیا اتحاد سے آئین، آئین کے نعرے سن رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمرجنسی کے دوران آئین کا گلا گھونٹا۔ 1984 کے فسادات میں جب سکھوں کو گلے میں ٹائر باندھ کر جلایا جا رہا تھا تو انہوں نے آئین کا خیال نہیں کیا۔
دریں اثنا، وزیر اعظم آج شام کنیا کماری کا دورہ کریں گے اور کنیا کماری میں مشہور وویکانند راک میموریل میں دو دن (48 گھنٹے) دھیان لگائیں گے۔ ان کے قیام کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
ساتویں مرحلے میں 57 لوک سبھا سیٹوں پر 904 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ اس مرحلے میں مرکز کے زیر انتظام علاقے چنڈی گڑھ کی ایک سیٹ کے لیے ووٹنگ ہوگی۔ اس کے علاوہ اوڈیشہ اسمبلی کی کل 147 سیٹوں کے انتخابات کے آخری مرحلے میں 42 سیٹوں پر حکمران بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)، بی جے پی اور کانگریس کے درمیان مقابلہ ہے۔ ریاستی اسمبلی انتخابات کے پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے میں 13 مئی کو 28، 20 مئی کو 35 اور 25 مئی کو 42 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی۔
ساتویں اور آخری مرحلے میں اتر پردیش کی 13 سیٹوں پر 144، پنجاب کی 13 سیٹوں پر 328، مغربی بنگال کی 9 سیٹوں پر 124، بہار کی آٹھ سیٹوں پر 134، اڈیشہ کی چھ سیٹوں پر 66، ہماچل پردیش کی چار سیٹوں پر 37 ، جھارکھنڈ کی تین نشستوں پر 52 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں اور مرکز کے زیر انتظام چنڈی گڑھ کی ایک سیٹ پر 19 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ سات مرحلوں میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے کے لیے ووٹنگ یکم جون کو ہوگی۔ نتائج 4 جون کو آئیں گے۔
اتر پردیش کی 13 سیٹوں کے نام جن پر یکم جون کو ووٹنگ ہوگی مہاراج گنج، گورکھپور، کشی نگر، دیوریا، بانس گاؤں، گھوسی، سلیم پور، بلیا، غازی پور، چندولی، وارانسی، مرزا پور اور رابرٹس گنج ہیں ۔
بہار کی جن سیٹوں پر آخری مرحلے میں ووٹنگ ہوگی وہ ہیں نالندہ، پٹنہ صاحب، پاٹلی پتر، اررا، بکسر، سہسرام، کرکت اور جہان آباد۔ پہاڑی ریاست ہماچل پردیش میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ریاست کی جن چار سیٹوں پر ووٹنگ ہو گی ان میں کانگڑا، منڈی، ہمیر پور اور شملہ شامل ہیں۔ اڈیشہ کی چھ پارلیمانی سیٹوں کے نام میور بھنج، بالاسور جاج پور، کیندرپارا، جگت سنگھ پور، بھدرک ہیں، جن پر آخری مرحلے میں ووٹنگ ہوگی۔ پنجاب کی جن 13 پارلیمانی نشستوں پر ووٹنگ ہو گی ان میں گورداس پور، امرتسر، کھڈور صاحب، جالندھر (محفوظ)، ہوشیار پور (محفوظ)، آنند پور صاحب، لدھیانہ، فتح گڑھ صاحب (محفوظ)، فرید کوٹ (محفوظ)، فیروز پور، بھٹنڈہ، سنگرور اور پٹیالہ سیٹ شامل ہیں۔
مغربی بنگال کی نو پارلیمانی نشستوں میں دمدم، باراسات، بشیرہاٹ، جے نگر، متھرا پور، ڈائمنڈ ہاربر، جادھو پور، جنوبی کولکاتہ ، نارتھ کولکاتہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ راج محل، دمکا، جھارکھنڈ کے گوڈا اور مرکز کے زیر انتظام چنڈی گڑھ کی سیٹوں پر بھی یکم جون کو ووٹنگ ہوگی۔
لوک سبھا انتخابات کے آخری مرحلے میں یکم جون کو ووٹنگ ہونی ہے۔ اس مرحلے میں وزیر اعظم نریندر مودی، بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت، انوراگ ٹھاکر، روی کشن، روی شنکر پرساد، سنجے ٹنڈن، کانگریس کے اکھلیش پرتاپ سنگھ، اجے رائے، ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی، پنجاب کے سابق وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی اور دیگر شامل ہیں۔ بھوجپوری فنکار پون سنگھ سمیت کئی مرکزی وزراء کی قسمت کا فیصلہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں بند ہوگا۔
انتخابات کے اس مرحلے کے لیے 57 نشستوں کے لیے کل 2105 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے تھے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد 954 امیدوار انتخابی میدان میں رہ گئے تھے اور کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد 904 امیدوار رہ گئے ہیں۔
لوک سبھا کی کل 543 سیٹوں میں سے 486 سیٹوں پر ووٹنگ کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 102 سیٹوں پر 66.14 فیصد، دوسرے مرحلے میں 88 سیٹوں پر 66.71 فیصد، تیسرے مرحلے میں 93 سیٹوں پر 65.68 فیصد، چوتھے میں 96 سیٹوں پر 67.71 فیصد، پانچویں میں 49 سیٹوں پر 62.20 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ اور چھٹے مرحلے میں 58 پارلیمانی نشستوں پر 63.37 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔
ساتویں اور آخری مرحلے میں یکم جون کو ووٹنگ ہوگی۔ انتخابی نتائج 4 جون کو آئیں گے۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ساتویں مرحلے میں 57 سیٹوں پر کل 65.29 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔ مغربی بنگال میں سب سے زیادہ 78.80 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ سب سے کم ٹرن آؤٹ 51.37 فیصد بہار میں ریکارڈ کیا گیا۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
