ہندوستان
دستور اور جمہوریت کو بچانے میں مسلمانوں کا کلیدی کردار
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ)کی جنرل باڈی کا اجلاس،ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں صدر منتخب
نئی دہلی، مسلمانان ہند کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ)کی جنرل باڈی کا اجلاس گزشتہ روز یہاں نیوہورائزن اسکول، حضرت نظام الدین نئی دہلی میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے مشاورت کے سرکردہ ممبران اور عہدیداران شریک ہوئے۔ اس اجلاس کے دوران ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں کواتفاق رائے سے دوسال کے لیے مشاورت کا صدر منتخب کیا گیااور انھیں یہ اختیار دیا گیا کہ وہ باہمی مشورے سے مشاورت کے دستور میں مناسب تیار کرائیں جسے اگلی جنرل باڈی کے اجلاس میں منظورکرایا جائے گا۔
اس اجلاس کے دوران اہم ملی امور پر غوروخوض ہوا اورجوقراردادیں پاس کی گئیں، ان میں کہا گیا ہے کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی جنرل باڈی گزشتہ عام انتخابات کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے رائے دہندگان کو مبارکباد دیتی ہے جنھوں نے نفرت کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔ ان نتائج سے واضح ہوگیا ہے کہ ملک میں اب بھی سیکولر لوگوں کی اکثریت ہے اور دستور کی برتری قایم ہے۔انتخابات کے دوران ملک میں دستور اور جمہوریت کوبچانے میں مسلمانوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے،لہذا سیکولر جماعتیں مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں واضح موقف اختیار کریں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ نفرت پھیلانے والوں کو تمام کوششوں کے باوجود صرف چالیس فیصد ووٹ ملے ہیں اور ساٹھ فیصد رائے دہندگان نے نفرت کی سیاست کو مسترد کردیا ہے۔
آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ)اس موقع پر سیکولر سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات کو چھوڑکر ملک و قوم کے وسیع مفادات کے لئے اپنا اتحاد قایم رکھیں اور ملک کو دوبارہ حقیقی جمہوریت کی طرف واپس لائیں۔ایک دیگر قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مشاورت مسلمانوں کو قومی دھارے سے الگ کرنے کے ایجنڈے کی سخت مذمت کرتی ہے اور مسلمانوں کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ ملک وملت کے مفاد میں نفرت کی سیاست کو کامیاب نہ ہونے دیں۔
مشاورت گز شتہ دس سال کے دوران مسلمانوں کو سیاسی طورپر صفر بنانے کی اور انھیں حاشیہ پر رکھنے کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔ گؤکشی، لوجہاد،تبدیلی مذہب وغیرہ جیسے فرضی مسائل کھڑا کرکے ان کی ماب لنچنگ ہوئی ہے،جسے مسلمانوں نے صبر وتحمل سے برداشت کیا ہے اور انتقامی کارروائی سے گریزکیا تاکہ انتظامی مشینری کو مسلمانوں پر مزید ظلم کرنے کا موقع نہ ملے۔ لیکن اتنا کافی نہیں ہے، مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے، قرآن سے تعلق جوڑنے کے ساتھ ساتھ وہ تمام وسائل اپنائیں جو قوموں کی مادی ترقی کے لیے ضروری ہیں، جن میں تعلیمی ترقی اور تجارت سرفہرست ہیں۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے ظلم وستم کو روکنے کے لیے قانونی راستے اپنائیں اور انصاف کے حصول تک قانونی جدوجہد اور مظلومین کے خاندانوں کی کفالت پرتوجہ مرکوز رکھیں۔
جنرل باڈی کے اجلاس میں غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی کی مذمت کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں مسلم ملکوں کی مجرمانہ خاموشی کی بھی مذمت کی گئی ہے۔مشاورت نے ملک کے انصاف پسند عوام سے بھی اپیل کی ہے اس نسل کشی اور فلسطین پر سالہاسال سے جاری اسرائیلی قبضے کی مذمت کریں، ان کے خلاف بولیں اور احتجاج کریں۔ قرار داد میں کہا گیاکہ مشرق وسطیٰ کے بحران کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب فلسطینیوں کو اپنے ملک میں آزادی اور سیاسی خودمختاری سے رہنے کا موقع ملے گا۔حکومت ہند سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ غزہ میں نسل کشی رکوانے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کرے۔ اس معاملے میں اقوام متحدہ کےمختلف اداروں کے کردار کی بھی تعریف کی گئی ہے۔
میٹنگ کے اہم شرکاء میں سابق ممبر راجیہ سبھا محمدادیب،عبدالخالق (سابق ایم پی آسام)، خواجہ محمدشاہد، ڈاکٹر بصیراحمد خاں،عبدالعزیز(کلکتہ)،محترمہ عظمیٰ ناہید (ممبئی)،ڈاکٹر ظفرالاسلام خاں، مفتی عطاء الرحمن قاسمی، معصوم مرادآبادی، پروفیسر محمدسلیمان (کانپور)،کمال فاروقی، محمدوزیرانصاری (آئی پی ایس ریٹائرڈ) ،ڈاکٹر سید مہرالحسن (بھوپال)،قاضی زین الساجدین (شہر قاضی میرٹھ)، پروفیسرعرشی خان(علی گڑھ)،ڈاکٹر کوثرعثمان ، ایڈوکیٹ ندیم صدیقی(لکھنؤ)،حسیب احمد (سابق ممبر سیکریٹری این سی ٹی ای)، عبدالباطن کھاندیکر (ایم ایل اے آسام)، شبیہ احمد، محمد ندیم صدیقی، ابرار احمد مکی، شاہد شریف شیخ، اخلاق حسین چشتی، حافظ منظور علی خان، محمد اقبال الظفر، سعودالحسن ندوی(غازی پور)،ایڈوکیٹ سکندرحیات خاں،محمدجمیل الرحمن (ممبراسمبلی مالیرکوٹلہ) سید تحسین احمد، محمد شمس الضحیٰ،ڈاکٹر سید احمد خاں،فیروز خاں غازی ایڈوکیٹ، سہیل انجم اور ڈاکٹر جاوید احمد کے نام قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے ممبران زوم سے بھی اس میٹنگ سے جڑے۔
یواین آئی۔ ایف اے
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
دنیا5 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
