جموں و کشمیر
جموں خطے میں ہوئے حالیہ حملے حکومت کی ناکامی اور بھاجپا کے فریبی بیانیہ کی نفی کرتے ہیں: آغا روح اللہ
سری نگر،جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے ہفتے کے روز کہاکہ دفعہ370کی منسوخی سے نہ ملی ٹنسی پر کوئی اثر پڑا ہے اور نہ ہی اس دفعہ کا ملی ٹینسی کیساتھ کوئی واسطہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ خطہ جموں میں گذشتہ دنوں ہوئے حملے بھاجپا کے اُس بیانیہ کی نفی کرتے ہیں جو یہ لوگ دفعہ370کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر میں امن و امان لانے سے متعلق کرتے آرہے ہیں اور یہ حملے بی جے پی حکومت کی ناکامی کی بھی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے آج پلوامہ نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔
انہوں نے کہ 2024کے عام انتخابات میں حکومت سے زیادہ لوگوں نے اپوزیشن کو منڈیٹ دیا ہے اور اس طرح سے بی جے پی کی من مانی اور تاناشاہی کو کمزور کیا گیا ہے۔آج بی جے پی حکومت بنائے رکھنے کیلئے محتاج ہے، اس کا ثر نہ صرف حکومت کے کام کاج پر پڑے گا بلکہ آنے والے وقت میں اپوزیشن اور زیادہ مضبوط ہوگی اور اس سے ہمیں اُمید ملتی ہے کہ ہم مضبوط اپوزیشن کی حمایت سے جموں و کشمیر کے عوام کی بات زور دار انداز میں کرسکتے ہیں۔
جموں خطے میں ہوئے حالیہ حملوں کے بعد اسمبلی انتخابات موخر ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آغا روح اللہ نے کہا کہ ”بدقسمتی یہ ہے کہ یہ حملے ہوئے، جو نہیں ہونے چاہئیں تھے، اب ان حملوں کو بہانہ بنا کر ایک ہوا بنائی جارہی ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری حقوق سے دور رکھا جائے۔
انہوں نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ چند ہفتے قبل ہی لوک سبھا الیکشن جموں وکشمیر کے عوام نے ایک بے مثال انداز میں یہ بات بتائی کہ ہ اپنے جمہوری اداروں کو اپنے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، وہ اپنے فیصلے اپنے ہاتھوں میں دیکھنا چاہتے ہیں اور اس ریاست کی انتظامیہ کو بھی اپنے ہاتھوں میں چاہتے ہیں، ان واقعات کا بہانہ بنا کر اگر حکومت ہند جموں وکشمیر کے عوام کو جمہوری حقوق سے محروم رکھنا چاہتی ہے تو یہ یہاں کے عوام کیساتھ ایک بہت بڑی ناانصافی ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری اقدار کا قتل ہوگا۔
ایک اور سوال کے جواب میں آغا روح اللہ نے مصنفہ اروندھتی رائے اور ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ چلانے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رائے کو دبانے اور اظہارِ رائے کو مجرمانہ بنانے کے لئے انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال غیر آئینی اور جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
آغا روح اللہ نے اس موقعے پر تمام ووٹروں کو شکریہ ادا کیا اور پارٹی کارکنوں اور عہدیداران کی محنت اور لگن کیلئے انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پلوامہ کے این سی لیڈروں سے درخواست کی کہ وہ ان افراد کی فہرست فراہم کریں جنہیں قید کیا گیا ہے تاکہ وہ ان کا مسئلہ پارلیمنٹ میں اُٹھا کر ان کی رہائی کیلئے جدوجہد کرسکیں۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoای او ڈبلیو کشمیر نے فرضی ملازمت فراڈ کیس میں عادی مجرم کے خلاف فردِ جرم عائد کردی
