جموں و کشمیر
وزیر اعظم نریندرمودی کے دورہ سری نگر کے پیش نظر سیکورٹی کے فقید المثال انتظامات
سری نگر، وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کشمیر کے پیش نظر سری نگر میں سیکورٹی کے فقید المثال انتظامات کئے گئے ہیں۔
سری نگر کی سبھی اہم شاہراوں پر موبائیل چیک پوائنٹس قائم کئے گئے جہاں پر راہگیروں اور مسافروں کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہیں جبکہ مشکوک نظر آنے والے افراد کے موبائیل فون بھی چیک کئے جارہے ہیں۔
’ایس کے آئی سی سی ‘کو پوری طرح سے سیل کیا گیا جبکہ اردگر دعلاقوں پر ڈرون کے ذریعے نظر گزر رکھی جارہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جموں وکشمیر کی گرمائی راجدھانی سری نگر میں بدھ کے روز سیکورٹی فورسز نے راہگیروں، موٹر سائیکل سواروں کی تلاشی لی جس دوران ان کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے جارہے تھے۔
ذرائع کے مطابق سماج دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی خاطر شہر سری نگر میں سیکورٹی انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بدھ کے روز شہر کے کئی علاقوں میں ناکہ چیکنگ کے دوران مسافروں، راہگیروں اور سکوٹی سواروں کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی اور ان کے شناختی کارڈ چیک کئے جارہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پورے شہر میں سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کیا گیا جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مشکوک افراد پر نظر گزر رکھی جارہی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ شہر سری نگر میں سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونزکے ذریعے لوگوں پر نظر گزر رکھی جارہی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لا کر راہگیروں اور گاڑیوں کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کی خاطر سری نگر شہر میں اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا جبکہ رات کے دوران فورسز کا گشت بھی بڑھایا گیا ہے۔
پولیس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ دورے کے پیش نظر شہر میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔
ان کے مطابق شہر میں جگہ جگہ خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں جہاں پر ہر آنے جانے والے کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایاکہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سیکورٹی فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی اور کسی بھی گاڑی کو بغیر تلاشی کے سری نگر کے حدود میں جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہیں۔
ادھروزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے پیش نظر فقید المثال سیکورٹی بندوبست کے بیچ سری نگر کی قابل دید زیبائش و آرائش کی گئی ہے۔
وزیر اعظم کے استقبال کے لئے شہر کو ہورڈنگز سے آراستہ و پیراستہ کیا گیا ہے اور سڑکوں کے آر پار دیواروں اور درختوں پر قومی پرچم اور بی جے پی کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔
دریں اثنا مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہاکہ وزیر اعظم 21جون کو سری نگر میں یوگا ڈے میں شرکت کریں گے جس میں نو ہزار کے قریب لوگوں کی شرکت کا امکان ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ جموں وکشمیر کے بیس اضلاع کو ورچولی اس پروگرام کے ساتھ جوڑا جائے گا۔
ان کامزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے سری نگر دورے کے پیش نظر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں اور تمام تر تیاریوں کو آخری شکل بھی دی گئی ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
