ہندوستان
کوئلے کے استعمال کو ختم کرنے کے سبب پسماندہ آبادی سنگین مسائل سے دوچار:این ایف آئی کی تحقیقاتی رپورٹ
نئی دہلی ، نیشنل فاؤنڈیشن فار انڈیا (این ایف آئی) کی ایک ہمہ گیراور جامع تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کوئلے کے استعمال کو ختم کرنے کا عمل نے پسماندہ آبادی کو سنگین مسائل سے دو چار کردیا ہے۔یہ بات یہاں ایک پروگرام میں جاری ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
ساتھ ہی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ان کمیونٹیز کو کوئلے کی منتقلی کے سماجی و اقتصادی برے اثرات سے بچانے کے لیے خصوصی کمیونٹی پر مبنی پالیسیوں اور مضبوط ادارہ جاتی میکانزم کی ضرورت ہے۔
اس مطالعہ میں شامل چھتیس گڑھ ، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے 1209 خاندانوں میں سے 41.5% خاندان دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) ، 23% درج فہرست قبائل (ایس ٹی ) اور 17% درج فہرست ذاتوں (ایس سی) سے تعلق رکھتے ہیں ، جبکہ صرف 15.5% خاندان۔ جنرل کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں۔ آبادی کے بڑے حصے ، خاص طور پر ایس سی ، ایس ٹی اور او بی سی ، کو تعلیم تک محدود رسائی پائی گئی ، جن میں سے اکثر کے پاس صرف پرائمری تعلیم تھی یا وہ خواندہ بھی نہیں تھے۔
” ایٹ دی کراس روڈ: مارجنلائزڈ کمیونٹیز اینڈ دی جسٹ ٹرانزیشن ڈائیلما ” کے عنوان سے مطالعہ کی رپورٹ ایب ایف آئی کی طرف سے ہندوستان میں کوئلے کی منتقلی کے سماجی-اقتصادی اثرات پر 2021 کے مطالعے کا نتیجہ ہے۔ اس مطالعہ میں تین ہندوستانی ریاستوں – چھتیس گڑھ ، جھارکھنڈ اور اڈیشہ کے دو اضلاع شامل تھے ۔ ان اضلاع میں 1209 گھرانوں کا سروے کیا گیا اور 20 فوکس گروپ ڈسکشن کئے گئے۔
اس مطالعہ میں ایس سی ، ایس ٹی اور پسماندہ کمیونٹیز کا وسیع پیمانے پر احاطہ کیا گیا ، جن میں تعلیم اور صحت کی سطح کم ہے ۔
صحت کے خدشات: کوئلے کی کان کنی سے ہونے والی آلودگی کے طویل مدتی نمائش کی وجہ سے مقامی آبادی میں سانس اور جلد کی بیماریاں بڑے پیمانے پر پائی گئیں۔ فوکس گروپ ڈسکشنز میں کم از کم 75% شرکاء نے دائمی برونکائٹس ، دمہ اور جلد کے مختلف مسائل کی اطلاع دی۔
کوئلے پر معاشی اثر/معاشی انحصار: کوئلے کے استعمال کو ختم کرنے کے نتیجے میں کوئلے پر منحصر علاقوں میں بڑی تعداد میں ملازمتوں اور معاشی چیلنجز کے خاتمے کا امکان ہے۔ اس کا نہ صرف کوئلے کی کان کنوں اور کارکنوں پر براہ راست اثر پڑے گا بلکہ وسیع تر مقامی معیشت پر بھی اثر پڑے گا۔
ذات پر مبنی عدم مساوات: پسماندہ کمیونٹیز جیسے کہ درج فہرست ذاتوں ، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے ساتھ وسائل اور مواقع تک رسائی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے ۔
رپورٹ میں کوئلے کی منصفانہ منتقلی کے حصول کے لیے بہت سے چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے ، بشمول ان کارکنوں کے لیے مہارت کی تربیت کی ضرورت جو عام طور پر کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور متبادل ذریعہ معاش کی کمی۔ رپورٹ میں مخصوص کمیونٹی پر مبنی پالیسیوں ، مضبوط ادارہ جاتی میکانزم اور سرکاری محکموں کے درمیان مربوط کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ مطالعہ ان کمیونٹیز کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک ممکنہ فریم ورک بھی پیش کرتا ہے:
متبادل ذریعہ معاش: نئے اقتصادی مواقع پیدا کرنے پر زور جو کوئلے پر مبنی نہیں ہیں۔
ماحولیاتی صحت کو بہتر بنانا: کوئلے کی کان کنی کے صحت کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ماحولیاتی صحت کے اقدامات کو فروغ دینا۔
جامع پالیسیاں: اس بات کو یقینی بنانا کہ کوئلے کی منتقلی کی پالیسیاں شامل ہوں اور پسماندہ کمیونٹیز کی ضروریات کو مدنظر رکھیں۔
مطالعہ کی شریک مصنف اور این ایف آئی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ پوجا گپتا نے کہا ، ” مختلف اضلاع میں سماجی اور اقتصادی عدم مساوات واضح طور پر نظر آتی ہیں، ان اضلاع میں لوگوں کی آمدنی کی سطح مختلف ہے اور ان کی اجرت غیر قانونی ہے۔
دھنباد (جھارکھنڈ) اور کوریا (چھتیس گڑھ) میں لوگوں کی آمدنی زیادہ متنوع صنعتی اضلاع جیسے انگول (اڈیشہ) کے مقابلے میں کم ہے، دورے کے دوران معلوم ہوا کہ لوگوں کی بنیادی فلاحی اسکیموں تک رسائی بہت کم ہے ۔ یہ کمیونٹیز زیادہ کمزور ہیں یہ بھی پایا گیا کہ انتظامی غفلت ، ناکافی خدمات کی وجہ سے ان میں بڑے پالیسی اور ادارہ جاتی چیلنجز ہیں، انہوں نے کہا کہ ” واضح منصوبہ بندی کے بغیر ، بند صنعتوں میں کام کرنے والے کارکن اچانک بے روزگار ہو سکتے ہیں اور ان کی رسائی ممکن نہیں ہے ۔ مناسب مدد یا متبادل روزگار کے مواقع کے لیے۔” ایسے حالات میں متاثرہ کمیونٹیز کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔”
این ایف آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بیراج پٹنائک نے کہا ، ” مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ پسماندہ کمیونٹیز پر کوئلے کی منتقلی کے سماجی-اقتصادی اثرات تعلیم اور معاش کے مواقع میں ذات پات کی بنیاد پر موجود ہیں۔ کمیونٹی کے لیے مخصوص پالیسیوں اور اس سے نمٹنے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی میکانزم کے لیے۔ پٹنائک نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ یہ رپورٹ کوئلے کی منصفانہ منتقلی کو یقینی بنانے کے لیے نتیجہ خیز بات چیت کا باعث بنے گی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کی ترغیب دے گی کہ کمزور آبادیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے کیونکہ وہ ایک صاف اور پائیدار مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
دنیا5 days agoنئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
