کھیل
ہندوستانی خواتین ٹیم نے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز جیت لی
چنئی، ہندوستانی خواتین ٹیم نے بلے بازوں اور گیند بازوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت پیر کو ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن جنوبی افریقہ کو 10 وکٹوں سے شکست دے کر واحد ٹیسٹ میچ کی سیریز جیت لی ہے۔
اس سے قبل ہندوستانی گیند بازوں نے فالو آن کھیلنے والی جنوبی افریقہ کو ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن دوسری اننگ میں 373 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد ہندوستان کو جیت کے لیے 37 رنز کا ہدف ملا تھا جسے ستیش شبھا ناٹ آؤٹ (13) اور شیفالی ورما ناٹ آؤٹ (24) کی مدد سے 9.2 اوورز میں حاصل کرکے میچ 10 وکٹوں سےجیت لیا۔
جنوبی افریقہ نے آج صبح کل کے دو وکٹ پر 232 رنز سے آگے کھیلنا شروع کیا، ابھی وہ اسکور میں 32 رنز کا اضافہ ہی کر پائی تھی کہ دیپتی شرما نے ماریزان کاپ (31) کو آؤٹ کر کے ہندوستان کو تیسری کامیابی دلائی۔ اسکور میں ابھی دو رنز کا اضافہ ہوا تھا جب اسنیہا رانا نے ڈیلمی ٹکر (0) کو پویلین بھیج دیا۔ اوپننگ بلے باز کپتان لورا وولفارٹ اور نادین ڈی کلرک نے اننگ کو سنبھالا۔ لورا وولفارٹ (122) رن بناکر آؤٹ ہوئیں۔ نادین ڈی کلرک (61)، سینالو جافتا (15)، اینری ڈرکسن (5)، ٹومی سیخوخونے (6) اور مساباتا کلاس (2) رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئیں۔ ہندوستانی بولنگ نے جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم کو دوسری اننگ میں 373 رنزپر سمیٹ دیا۔
ہندوستان کی جانب سے اسنیہ رانا، دیپتی شرما اور راجیشوری گائیکواڑ نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ پوجا وستراکر، شیفالی ورما اور ہرمن پریت کور کو ایک ایک وکٹ ملا۔
اس سے قبل میچ کے تیسرے روز سنی لوئس (109) کی سنچری اور کپتان لورا وولفارٹ ناٹ آؤٹ (93) رنوں کی اننگز کی بدولت جنوبی افریقہ نے پہلی اننگ میں 337 رنز سے پیچھے رہنے کے بعد کھیل ختم ہونے تک دو وکٹ پر 232 رنز بنالئے تھے۔ فالو آن کھیلنے والی جنوبی افریقہ کی دوسری اننگ کا آغاز بھی اچھا نہیں رہا، اینیکا بوش (9) کا وکٹ گنوانے کے بعد مشکل میں پڑ گئی تھی۔ ایسے وقت میں سن لوئس اور کپتان لورا وولفارٹ نے اننگ کو سنبھالا۔ دوسرے وکٹ کے طور پرسن لوئس 109 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئیں۔ دن کا کھیل ختم ہونے تک جنوبی افریقہ نے دو وکٹوں پر 232 رنز بنا لیے ہیں، حالانکہ وہ اب بھی 105 رنز پیچھے ہے۔ کپتان لورا وولفارٹ ناٹ آؤٹ (93) اور ماریزان کاپ (15) رن بناکر کریز پر موجود ہیں۔ ہندوستان کی جانب سے دوسری اننگ میں دیپتی شرما اور ہرمیت کور نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل اسنیہ رانا (آٹھ وکٹ) کے شاندار اسپیل کی بدولت ہندوستانی خواتین ٹیم نے بلے بازی کے لئے مفید چیپاک کی فلیٹ پچ پر مہمان جنوبی افریقہ کو اتوار کو اننگ میں 266 رن پر ڈھیر کرکے 337 رنز کی برتری حاصل کرلی ہے۔
صبح، جنوبی افریقہ نے پہلی اننگ میں چار وکٹوں پر 236 رنز کے کل کے اسکور سے آگے کھیلنا شروع کیا۔ ماریزان کاپ (69) اور نادین ڈی کلرک (27) نے اننگ کو آگے بڑھایا۔ اسنیہا رانا نے ابتدائی اسپیل میں ماریزان کاپ (74) کو بولڈ کرکے جنوبی افریقی جوڑی کو توڑا۔ اس کے بعد تو جنوبی افریقی ٹیم صرف 30 رنز کا اضافہ کرکے تاش کے پتوں کی طرح بکھرہوگئی۔ نادین ڈی کلرک (39)، سینالو جافتا (0)، اینری ڈرکسن (5)، مساباتا کلاس (1) اور نونکولیکو ملابا (2) رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئیں۔ جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 266 رنز پر سمٹ گئی۔ ہندوستان کو پہلی اننگ میں بنائے گئے (چھ وکٹوں پر 603 اننگ ڈکلیئر) کے اسکور کی بنیاد پر 337 رنز کی برتری حاصل ہے۔
ہندوستان کی جانب سے اسنیہ رانا نے 25.3 اوور میں 77 رنز دے کر آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔ دیپتی شرما کو 21 اوورز میں 47 رن دے کر دو وکٹ ملے۔
اس سے قبل شیفالی ورما (205) کی تاریخی ڈبل سنچری اور اسمرتی مندھانا (149) کی سنچری اننگز کی مدد سے ہندوستان نے چھ وکٹوں پر 603 رنز پر اننگ ڈکلیئر کردی تھی۔ ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں ہندوستانی خواتین ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ شیفالی ورما اور اسمرتی مندھانا کی اوپننگ جوڑی نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان کے چاروں طرف شاٹس لگاتے ہوئے پہلے وکٹ کے لیے 292 رنز کی ریکارڈ شراکت قائم کی۔ 52ویں اوور میں ڈیلمی ٹکر نے اسمرتی مندھانا کو آؤٹ کر کے اس شراکت کو توڑا۔ اسمرتی نے 161 گیندوں میں 27 چوکوں اور ایک چھکا کی مدد سے 149 رنز بنائے۔ مندھانا کے بعد بلے بازی کے لیے آئیں ستیش شبھا (15) رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئیں۔ 75ویں اوور میں رن لینے کی کوشش میں شیفالی ورما بدقسمتی سے رن آؤٹ ہو گئیں۔ انہوں نے 197 گیندوں پر 23 چوکے اور آٹھ چھکے لگاتے ہوئے 205 رنز کی تاریخی اننگ کھیلی۔ جمائمہ روڈریگز (55) 55 رن بناکر آؤٹ ہوئیں۔ کپتان ہرمن پریت کور (69) اور ریچا گھوش (86) رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئیں۔
جنوبی افریقہ کی جانب سے ڈیلمی ٹکر نے دو وکٹیں حاصل کیں۔ نادین ڈی کلرک، ٹومی سیخوخونے، نونکولولیکو ملابا نے ایک ایک بلے باز کو آؤٹ کیا۔
یواین آئی۔الف الف
کھیل
قومی یومِ کھیل پر جموں و کشمیر کی کھیل برادری نے میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا
جموں، جموں و کشمیر کے کھلاڑیوں، سابق کھلاڑیوں، کوچز اور کھیلوں سے وابستہ دیگر افراد نے ہفتہ کے روز قومی یومِ کھیل کے موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے عظیم ہاکی کھلاڑی میجر دھیان چند کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
قومی یومِ کھیل ہر سال 29 اگست کو میجر دھیان چند کی یومِ پیدائش کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ وہ ہندوستان کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں اور ہندوستانی ہاکی کے لیے ان کی خدمات نسلوں کے لیے آج بھی تحریک کا ذریعہ ہیں۔
جموں و کشمیر کی کھیل شخصیات نے اس موقع پر ایک صحت مند اور نظم و ضبط والی معاشرہ تشکیل دینے میں کھیلوں کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے مزید تعاون اور مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، کوچنگ کی بہتر سہولیات فراہم کرنے اور نوجوانوں کی مختلف کھیلوں میں زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کئی سابق کھلاڑیوں اور کوچز نے کہا کہ قومی یومِ کھیل کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو تسلیم کرنے اور نئی نسل کو لگن اور عزم کے ساتھ کھیلوں کو اپنانے کی ترغیب دینے کا ایک اہم موقع ہے۔
دریں اثنا، اس موقع کی مناسبت سے جموں و کشمیر اسپورٹس کونسل، محکمہ یوتھ سروسز اینڈ اسپورٹس، مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور کھیلوں کی متعدد انجمنوں کی جانب سے کئی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
نئی تشکیل دی گئی جموں اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے بھی اس موقع پر کھیل برادری کو مبارکباد پیش کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
کھیل
میسی کی شکست کے باوجود اسکالونی کو ٹیم پر فخر
نیویارک، ارجنٹینا کے مینیجر لیونل اسکالونی نے اعتراف کیا کہ اسپین ورلڈ کپ جیتنے کا حقدار تھا، لیکن ہار کے باوجود انہیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔
دفاعی چیمپئن نے اپنے پچھلے چاروں ناک آؤٹ میچوں میں سے ہر ایک کو جیتنے کے لیے آخری لمحات میں گول کیے تھے، لیکن نیو جرسی اسٹیڈیم میں ایک اور ڈرامائی کھیل سے بچنے میں ناکام رہے۔
میچ کے بعد اسکالونی نے کہا، “مجھے دکھ ہو رہا ہے۔ کوئی اس بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے، لیکن یہ اس کے لائق نہیں ہے۔ میں بس ان کھلاڑیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو ایک بار پھر ہمیں فائنل میں لے گئے۔ وہ (اسپین) بہتر تھے، یہ سچ ہے، لیکن میرے کھلاڑیوں نے جو کچھ حاصل کیا، اس کی زبردست یادیں میرے پاس رہیں گی۔ ہم جیت میں عظیم ہیں اور ہار میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ آج رات، ہم دکھاتے ہیں کہ ہم ہارنا جانتے ہیں۔
ہم ہار گئے اور ہم نے اسے قبول کر لیا۔”
یواین آئی۔الف الف
کھیل
طویل علالت کے بعد شہپور زادران انتقال کر گئے
نئی دہلی، افغانستان کے سابق فاسٹ گیندباز شہپور زادران 39ویں سالگرہ سے ایک روز قبل طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کئی ماہ سے دہلی کے ایک اسپتال میں نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لمفوہسٹیوسائٹوسس (ایچ ایل ایچ) کے باعث زیر علاج تھے۔
ان کے انتقال کی تصدیق ان کے چھوٹے بھائی غمئی زادران نے کی، جو جنوری میں علاج کے لیے دہلی منتقل کیے جانے کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ تھے۔ شہپور زادران ایچ ایل ایچ کی شدید نوعیت میں مبتلا تھے، جو ایک نایاب بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
2000 اور 2010 کی دہائی میں افغانستان کرکٹ کے عروج کے دوران شہپور زادران نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ چھ فٹ دو انچ قد کے شہپور زادران اپنے طویل رن اپ اور لہراتے بالوں کے ساتھ گیندبازی کے لیے مشہور تھے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ملک میں کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔ انہوں نے 2009 سے 2020 کے درمیان 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے اور مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔
2015 کے ایک روزہ ورلڈ کپ میں انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 وکٹیں حاصل کیں اور افغانستان کے سب سے کامیاب گیندباز رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے 2010 سے 2016 کے درمیان چار ٹی20 ورلڈ کپ کھیلے، جن میں نو میچوں میں نو وکٹیں حاصل کیں۔
شہپور زادران کی علالت کے دوران راشد خان، سابق کپتان اصغر افغان اور دیگر کئی نمایاں کرکٹرز مسلسل ان کے رابطے میں رہے۔
افغانستان کرکٹ بورڈ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ شہپور زادران نے اپنے پورے کریئر میں عزت، حوصلے اور فخر کے ساتھ افغانستان کرکٹ کی خدمت کی اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بورڈ نے کہا کہ وہ نوجوان افغان کرکٹرز اور دنیا بھر کے شائقین کے لیے ایک تحریک تھے، جبکہ ان کی جرات، عزم اور کھیل سے محبت نے نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کا حوصلہ دیا۔
بیان میں شہپور زادران کے اہل خانہ، دوستوں، سابق ساتھیوں اور افغانستان کرکٹ برادری سے بھی گہرے تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
شہپور زادران افغانستان کے صوبہ لوگر میں پیدا ہوئے، تاہم جنگ کے باعث ان کا خاندان پشاور منتقل ہوگیا، جہاں انہوں نے نیاز اسٹیڈیم اور جمخانہ میں کرکٹ سیکھی۔ ابتدا میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے اور شعیب اختر ان کے آئیڈیل تھے، لیکن بعد میں سابق کرکٹر اقبال سکندر کی ترغیب پر افغانستان واپس آ گئے۔
انہوں نے اگست 2009 میں نیدرلینڈز کے خلاف ایک روزہ میچ سے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا اور 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو ان کے ون ڈے کریئر کی بہترین بولنگ رہی۔ فروری 2010 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی20 بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا، جبکہ اس فارمیٹ میں ان کی بہترین بولنگ 2018 میں دہرادون میں بنگلہ دیش کے خلاف 40 رنز دے کر 3 وکٹیں تھی۔
یو این آئی۔ م س
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
