جموں و کشمیر
نقلی ادویات کا کنٹرول، کینسر کا علاج سستا اور سکمز کی خودمختاری کی بحالی لازمی: میاں الطا ف احمد
سری نگر، جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان برائے اننت ناگ راجوری حلقہ انتخاب میاں الطاف احمد لاوری نے لوک سبھا میں جموں وکشمیر کے ہیلتھ سیکٹر کو درپیش چیلنجوں کو اُجاگر کرتے ہوئے حکومت سے اس جانب فوری توجہ مرکوز کرانے کا مطالبہ کیا۔
رواں بجٹ اجلاس کے دوران ہیلتھ اور میڈیکل ایجوکیشن کے گرانٹس کی بحث میں حصہ لیتے ہوئے این سی رکن پارلیمان نے نقلی ادویات کو کنٹرول کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی نقلی ادویات کا مسئلہ ہوگا لیکن جموں وکشمیر کے لوگ اس وجہ سے بہت زیادہ پریشانیوں میں مبتلا ہیں،جب تک حکومت ہند ریاستی حکومتوں سے مل کر اس سلسلے میں کوئی صاف پالیسی نہیں اختیار نہیں کرے گی اس پر کنٹرول نہیں ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا ”حکومت جتنا بھی پیسہ صرف کرے، ہسپتالوں میں مشینری اور آلات خریدے ، لیکن یہ اُس وقت تک کسی کام کے نہیں جب تک نہ دوائیاں کے معیار کی حقیقی جانچ نہ کی جائے اور نقلی ادویات کے ملوثین کیخلاف کارروائی نہ کی جائے۔“
انہوں نے اس طرح ٹیسٹینگ لیبارٹریز کے معیار کی بھی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکومت سے کینسر کے علاج کو سستا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے رکن پارلیمان نے کہا کہ کینسر کی بیماری بہت زیادہ پھیل رہی، اس کے علاج میں بہت زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے، وہ لوگ بہت قسمت والے ہوتے ہیں جو اس میں بچ پاتے ہیں، ورنہ یہ بیماری ایسی ہے کہ جان بھی چلی جاتی ہے اور گھر میں جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی یہ بیماری اپنے ساتھ لے کر جاری ہے، اس لئے بہت ضروری ہے حکومت کینسر کے علاج کا خرچہ کم سے کم کرنے کیلئے اقدامات کرے۔ اس کی دوائیوں کو مزید سستا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ شوگر کی بیماری بھی اس وقت بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور ایک وبائی صورت اختیار کرنے کے قریب ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے ادارے اس پر ریسرچ کریں اور اسے کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں اور بین الاقوامی اداروں کیساتھ مل کر اس کے جدید علاج کی راہیں تلاش کی جائیں۔
شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) کی خود مختاری چھیننے کا معاملہ اُٹھاتے ہوئے میاں الطاف احمد نے کہا کہ “ہم جموں میں ایمز کا خیرمقدم کرتے ہیں، حکومت نے شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی خودمختاری چھین لی ہے۔
آرٹیکل 370 کی منسوخی بی جے پی کے ایجنڈے کا حصہ تھا لیکن SKIMS کی خودمختاری کو ختم نہیں کرنا تھا، لیکن اسے بھی نہیں بخشا گیا۔ اس وقت انسٹی ٹیوٹ کو علاج ،مریضوں کی دیکھ بھال اور ہسپتال کے انتظام میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پونچھ راجوری اور اننت ناگ میں دو میڈیکل کالج مکمل طور پر کام نہیں کر رہے ہیں۔ اننت ناگ میڈیکل کالج میں، ایم آر آئی کی کوئی سہولت نہیں ہے،ان میڈیکل کالجوں میں صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات کو مضبوط اور بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ میں وزیر صحت نڈا جی سے ذاتی طور پر مداخلت کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔
بے روزگار ڈینٹل ڈاکٹرں کا معاملہ اُٹھاتے ہوئے میاں الطاف احمد نے کہا کہ ڈینٹل ڈاکٹر بڑی تعداد میں بے کارہیں جبکہ دوسری جانب اسامیاں خالی ہیں، جموں وکشمیر میں یہ ڈاکٹر عمر کی حد پار کررہے ہیں، ضروری ہے کہ ان خالی اسامیوں کو پُر کیا جائے اور بے روزگار ڈاکٹروں کو روزگار فراہم کیا جائے۔
میاں الطاف احمد نے ایک اور معاملہ اُٹھاتے ہوئے کہا کہ دور دارز اور سرحدی علاقوں سے معالج سلیکٹ ہوتے ہیں لیکن وہاں ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے ہیں، حکومت کو ایسے قوائد و ضوابط بنانے چاہئیں جس کے تحت ہر ایک ڈاکٹر کو 4سے پانچ سال اپنے آبائی علاقے میں ڈیوٹی دینا لازمی بن جائے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
