جموں و کشمیر
جموں میں موسم کی قہر سامانیاں: بستیاں زیر آب ، 60 سالہ خاتون جاں بحق ، متعدد ڈھانچوں کو نقصان
جموںجموں صوبے میں تیز بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ کئی علاقوں میں پانی رہائشی مکانوں میں گھس آیا جس وجہ سے مکینوں کو مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔
راجوری کے خواس علاقے میں کچا مکان گرنے سے 60سالہ خاتون جاں بحق ہوئی جبکہ بارشوں کی وجہ سے متعدد ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچا ۔
اطلاعات کے مطابق محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے عین مطابق جموں صوبے میں تیز بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس وجہ سے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
جموں کے تالاب تلو علاقے میں کئی کالونیاں زیر آب آگئی ہیں جس وجہ سے مکینوں کو عبور و مرور میں دقتیں پیش آرہی ہیں۔
راجوری کے خواس علاقے میں تیز بارشوں کی وجہ سے رہائشی مکان زمین بوس ہونے سے 60سالہ خاتون ملبے کے نیچے زندہ دفن ہوئی۔ گر چہ مقامی لوگوں نے فوری طورپر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور خاتون کو باہر نکال کر ہسپتال پہنچایا تاہم وہاں پر وہ جانبر نہ ہو سکی۔ متوفیہ کی شناخت کاکو دیوی کے بطور کی گئی ہے۔
نامہ نگار نے بتایا کہ کٹھوعہ ضلع کے ڈونگا علاقے میں بادل پھٹنے کی وجہ سے ایک درجن کے قریب رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا تاہم اس دوران کسی کے ہلاک ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
جموں شہر کے نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور متعدد کالونیوں میں پانی گھس آیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرینج سسٹم ناکارہ ہونے کی وجہ سے پانی رہائشی مکانوں میں گھس آیا جس وجہ سے املاک کو نقصان پہنچا ہے۔
نامہ نگار کے مطابق جموں کے ڈوگرا چوک، کنال روڈ، بکرم چوک ، گاندھی نگر، شاستری نگر، گورکھا کالونی اور سنجے نگر میں تیز بارشوں کی وجہ سے پانی رہائشی مکانوں کے ساتھ ساتھ دکانوں میں بھی گھس آیا۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف سمارٹ سٹی پر کروڑوں روپیہ خرچ کئے جارہے ہیں تو دوسری جانب معمولی بارشوں کی وجہ سے جموں شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
انہوں نے کہاکہ دکانوں میں پانی گھسنے کی وجہ سے قیمتی اشیاءکو نقصان پہنچا ہے۔
نامہ نگار کے مطابق جموں صوبے کے ندی نالوں میں پانی کی سطح کافی بڑھ گئی ہے ، حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاوں اور ندی نالوں کے کناروں کے نزدیک جانے سے گریز کریں۔
حکام کے مطابق گر چہ ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے تاہم جموں صوبے میں سیلابی صورتحال کا کوئی امکان نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جموں کے راجوری میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 74ایم ایم بارشیں ریکارڈ کی گئی، جموں میں 48.5اور رام بن میں 17.5ایم ایم ریکارڈ ہوا۔
دریں اثنا محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایاکہ جموں صوبے میں 15اگست سے موسلا دار بارشوں کاامکان ہے جس کے نتیجے میں پہاڑی علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
