ہندوستان
جموں و کشمیر اور ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کا اعلان، انتخابی عمل 6 اکتوبر تک مکمل
نئی دہلی، الیکشن کمیشن نے جمعہ کو جموں و کشمیر اور ہریانہ اسمبلیوں کے انتخابی شیڈول کا اعلان کیا، جس میں کشمیر میں تین مرحلوں میں 18 ستمبر ، 25 ستمبر اور یکم اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے، جب کہ ہریانہ میں یکم اکتوبر کو ریاست کی تمام سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دونوں ریاستی اسمبلیوں کے ووٹوں کی گنتی 4 اکتوبر کو ہوگی۔
چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار، الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور ڈاکٹر سکھبیر سنگھ سندھو نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جموں و کشمیر میں انتخابی مدت کو لوک سبھا انتخابات سے کم رکھا گیا ہے۔ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں لوک سبھا کے انتخابات پانچ مرحلوں میں کرائے گئے تھے ۔
مسٹر کمار نے کہا کہ 90 رکنی جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 24 نشستوں کے لیے 20 اگست کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، یعنی امرناتھ جی یاترا کے اختتام کے اگلے دن اور کاغذات نامزدگی 27 اگست تک داخل کیے جاسکتے ہیں۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 28 اگست کو ہوگی اور کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 30 اگست ہوگی۔ جموں و کشمیر میں جنرل زمرہ کے لیے 74 نشستیں، درج فہرست ذات کے لیے سات اور درج فہرست قبائل کے لیے نو نشستیں محفوظ ہیں۔ جموں و کشمیر میں 5 اگست، 2019 کو، آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے اسے مرکز کے زیر انتظام دو علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ میں دوبارہ منظم کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے ریاست میں سال 2014 میں آخری بار اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں جموں و کشمیر کی 26 نشستوں کے لیے 25 ستمبر کو انتخابات ہوں گے جس کے لیے 29 اگست کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں 5 ستمبر تک کاغذات نامزدگی داخل کیے جاسکتے ہیں، 6 ستمبر کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال ہوگی اور کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 9 ستمبر ہوگی۔
تیسرے اور آخری مرحلے میں یکم اکتوبر کو 40 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس کا نوٹیفکیشن 5 ستمبر کو جاری کیا جائے گا اور نامزدگی 12 ستمبر تک کی جا سکے گی۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 13 ستمبر کو ہوگی اور کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 17 ستمبر ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں حتمی ووٹر لسٹ 20 اگست کو شائع کی جائے گی۔ جموں و کشمیر میں 87 لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے لیے 11838 پولنگ اسٹیشن بنائے جائیں گے۔ پہلے مرحلے میں پلوامہ، سومپیاں، کولگام، اننت ناگ، رام بن، ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع کی سیٹوں پر انتخابات ہوں گے۔ دوسرے مرحلے میں پونچھ، راجوری، بڈگام، سری نگر، گاندربل اور ریاسی اضلاع میں ووٹنگ ہوگی۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں ہماچل اور پنجاب کی سرحد سے متصل کٹھوعہ ضلع کے ساتھ ساتھ ادھم پور، سامبا اور جموں اضلاع اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ کی سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔
مسٹر کمار نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے جموں و کشمیر کے حالیہ دورے کے دوران لوگوں میں ان انتخابات کے لیے جوش و خروش دیکھا گیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ لوک سبھا انتخابات کی طرح یہ انتخابات بھی ‘بلیٹ کے بعد بیلٹ’ کی جیت ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی تجویز پر کمیشن نے تمام امیدواروں کو یکساں طور پر مناسب سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ہریانہ کی 90 رکنی اسمبلی کے لیے ایک ہی مرحلے میں یکم اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی۔ اس کا نوٹیفکیشن 5 ستمبر کو جاری کیا جائے گا اور 12 ستمبر تک کاغذات نامزدگی داخل کیے جا سکیں گے۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 13 ستمبر کو ہوگی اور 16 ستمبر تک نام واپس لیے جاسکتے ہیں۔ اسمبلی میں جنرل زمرہ کے لیے 73 اور درج فہرست ذات کے لیے 17 نشستیں محفوظ ہیں۔ موجودہ اسمبلی کی مدت 3 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہریانہ میں ووٹر لسٹ کو 27 اگست تک حتمی شکل دی جائے گی۔ ریاست میں دو کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے لیے 20 ہزار 627 پولنگ اسٹیشن بنائے جائیں گے۔ ہریانہ میں پہلی بار کثیر منزلہ رہائشی سوسائٹیوں میں بھی پولنگ مراکز قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مقامات پر 100 فیصد پولنگ اسٹیشنوں کی سی سی ٹی وی کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔
مسٹر کمار نے کہا کہ دونوں ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی ایک ساتھ 4 اکتوبر کو ہوگی اور انتخابی عمل 6 اکتوبر تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی اور مرکزی انفورسمنٹ ایجنسیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر اور ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کو شراب، منشیات اور دیگر لالچوں سے پاک رکھنے کے لیے پوری طرح چوکس رہیں۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
