جموں و کشمیر
جموں وکشمیر اسمبلی الیکشن: پہلے مرحلے کے 8 نمایاں امید واروں کے مختصر خاکے
سری نگر، جموں و کشمیر میں ایک دہائی کے طویل عرصے کے بعد اگلے ماہ سے شروع ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لئے سیاسی سرگرمیاں ہر گذرتے دن کے ساتھ زور پکڑ رہی ہیں۔
تین مرحلوں پر محیط ان انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے وادی کشمیر سے کل 183 امید واروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرکے اپنی قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا ہے۔
وادی کشمیر میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے لئے 18 ستمبر کو 16 اسمبلی حلقوں کی پولنگ ہوگی اور اس مرحلے میں جو نمایاں امید وار اپنی قسمت آز مائی کر رہے ہیں ان میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری غلام احمد میر، پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی صاحبزادی التجا مفتی، سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی،نیشنل کانفرنس کی سینئر لیڈر سکینہ یتو، نیشنل کانفرنس کے ہی سینئر لیڈر اور سابق رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی، پی ڈی پی کے نوجوان لیڈر وحید پرہ، بی جے پی کے صوفی یوسف،کالعدم جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ طلعت مجید خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
مذکورہ بالا امیدواروں کا اجمالی خاکہ یوں ہے۔
غلام احمد میر: وہ کانگریس سے وابستہ ایک سینئر لیڈر ہیں اور جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ڈورو حلقہ انتخاب سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔
غلام احمد میر کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔
انہوں نے ڈورو حلقہ انتخاب سے دو بار کامیابی کا جھنڈا گاڑا تاہم سال 2014 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں پی ڈی پی کے امید وار نے ہرا دیا۔ اس حلقے پر کانگریس کا اچھا سپورٹ ہونے کے پیش نظر غلام احمد میر کو ایک مضبوط امید وار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
التجا مفتی: التجا مفتی پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی ہیں اور وہ پہلی بار سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کر رہی ہیں۔
وہ مفتی خاندان کا گڑھ مانے جانے والے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے سری گفوارہ – بجبہاڑہ حلقہ انتخاب سے بحیثت امید وار میدان میں اتری ہیں۔
التجا مفتی پی ڈی پی کی میڈیا ایڈوائزر ہیں اور اپنی والدہ محبوبہ مفتی کے سوشل میڈیا اکاوئنٹس کو چلاتی ہیں۔
سال 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد وہ اس فیصلے کے خلاف اپنے دو ٹوک بیانات کے سبب منظر عام پر آگئیں۔ انہوں نے پارلیمانی انتخابات کے دوران اپنی والدہ کے لئے وسیع پیمانے پر انتخابی مہم چلائی تاہم وہ ثمر آور ثابت نہ ہوسکی۔
التجا مفتی کو ایک انتہائی متحرک و فعال نوجوان لیڈر کے طور پر مانا جا رہا ہے۔ ان کا مقابلہ نیشنل کانفرنس کے بشیر احمد ویری اور بی جے پی کے صوفی یوسف سے ہوگا۔
محمد یوسف تاریگامی: محمد یوسف تاریگامی سی پی آئی (ایم) سے وابستہ ایک سینئر لیڈر ہیں اور اپنے روایتی حلقہ انتخاب کولگام سے ایک بار پھر اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں جس پر وہ کئی بار کامیابی کا جھنڈا گاڑ چکے ہیں۔
جموں وکشمیر میں اگلے ماہ ہونے والے انتخابات میں وہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس الائنس کا ایک حصہ ہیں جس کو حال ہی میں عملی شکل دی گئی۔
تاریگامی دفعہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) جس کو کشمیر کی بعض سیاسی جماعتوں نے دفعہ 370 کی بحالی کے لئے مشترکہ طور پر جد و جہد کرنے کی غرض سے معرض وجود میں لایا گیا تھا، کے بنیادی معماروں میں سے ہیں اور وہ اس کے ترجمان بھی تھے تاہم اس الائنس کی عمارت لوک سبھا انتخابات کے قبل ہی زمین بوس ہوگئی۔
سکینہ یتو: سکینہ یتو نیشنل کانفرنس سے وابستہ ایک سینئر لیڈر ہیں اور جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی دمہالہانجی پورہ اسمبلی نشست سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔
سال 2014 کے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی کے امید وار سے ہارنے سے قبل وہ اس حلقے جس کو اسمبلی حلقوں کی سرنو حد بندی سے قبل نور آباد اسمبلی حلقے سے موسوم تھا، پر قابض تھیں۔
سابق وزیر سکینہ یتو کے والد ولی محمد یتو نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں جنہیں سال 1995 میں جموں میں نا معلوم اسلحہ برادروں نے گولی مار کرابدی نیند سلا دیا۔
سکینی یتو کا مقابلہ پی ڈی پی کے امید وار گلزار احمد کے ساتھ ہوگا تاہم انہیں اس حلقے کے لئے مضبوط ترین دعویدار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جسٹس (ر) حسنین مسعودی: نیشنل کانفرنس سے وابستہ سابق رکن پارلیمان حسنین مسعودی کا تعلق جنوبی کشمیر سے ہے اور وہ جنوبی کشمیر کے پانپور اسمبلی حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے سال 2019 میں نیشنل کانفرنس کے منڈیٹ پر لوک سبھا انتخابات میں بحیثت ایک امید وار حسہ لے کر اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز کیا۔
جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے سابق جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے اکتوبر 2015 میں فیصلہ دیا تھا کہ دفعہ 370 جو جموں وکشمیر کو ریاستی درجہ دیتا ہے، مستقل ہے۔ پانپور اسمبلی حلقہ انتخاب پر ان کا مقابلہ پی ڈی پی کے ظہور احمد میر کے ساتھ ہوگا۔
وحید پرہ: وحید پرہ پی ڈی پی سے ایک ممتاز نوجوان لیڈر ہیں اور وہ جنوبی کشمیر کی پلوامہ اسمبلی نشست سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے لوک سبھا انتخابات 2024 میں سری نگر حلقہ انتخاب سے بحیثیت امید وار الیکشن لڑے تاہم انہیں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ جیل میں رہ کر ہی ڈی ڈی سی ممبر بن گئے۔وحید پر ہ کو جنوبی کشمیر میں نوجوانوں کے ساتھ قریبی روابط ہونے پر جانا جاتا ہے۔
پلوامہ حلقے پر ان کا مقابلہ نیشنل کانفرنس لیڈر محمد خلیل بانڈ کے ساتھ ہوگا جو پی ڈی پی کے بانی ممبروں میں سے ہیں اور وہ سال 2019 میں نیشنل کانفرنس میں شامل ہوئے۔صوفی یوسف: صوفی یوسف کا شمار کشمیر میں بی جے پی کے دیرینہ لیڈروں میں ہوتا ہے۔
وہ سری گفوارہ – بجبہاڑہ اسمبلے حلقے سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔انہوں نے اس سے قبل بھی اسمبلی انتخابات میں بحیثیت امیدوار حصہ لیا ہے لیکن ابھی تک کبھی کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے۔طلعت مجید: طلعت مجید کالعدم جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ چار امید واروں میں سے ایک امید وار ہیں جنہیں جنوبی کشمیر میں آزاد امید واروں کے طور پر کھڑا کیا گیا ہے۔
وہ زائد از 35 برسوں کے بعد پہلی بار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ طلعت مجید سال 2002 سے 2014 تک جماعت اسلامی کے رکن رہ چکے ہیں۔ انہوں نے پلوامہ حلقے سے کاغذات نامزدگی جمع کئے ہیں۔ وہجماعت اسلامی کے پہلے لیڈر ہیں جنہوں مین اسٹریم سیاست کی طرف رخ کرکے الطاف بخاری کی سربراہی والی جموں وکشمیر اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
