ہندوستان
‘‘سبز ہائیڈروجن دنیا کے توانائی کے منظر نامے میں ایک امید افزا اضافے کے طور پر ابھر رہا ہے’’:وزیر اعظم
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ویڈیو پیغام کے ذریعہ ‘سبز ہائیڈروجن ’ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کیا وزیر اعظم نے سبز ہائیڈروجن پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس میں تمام معززین کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے اپنے خطاب کا آغاز کیا اور کہا کہ دنیا ایک اہم تبدیلی سے گزر رہی ہے انہوں نے اس بڑھتے ہوئے احساس پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف مستقبل کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات ابھی محسوس کیے جارہے ہیں۔’’مسٹر مودی نے کہاکہ‘‘اس پرکارروائی کی فوری ضرورت ہے’’۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی منتقلی اور پائیداری عالمی پالیسی گفتگو میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
ایک صاف ستھرا اور سرسبز سیارہ بنانے کے تئیں قوم کے عزم کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ ہندوستان سبز توانائی پر پیرس کے وعدوں کو پورا کرنے والے پہلے جی 20 ممالک میں شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وعدے 2030 کے ہدف سے 9 سال پہلے پورے ہو گئے تھے۔ گزشتہ 10 برسوں میں ہونے والی پیشرفت پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی نصب شدہ غیرفوسل ایندھن کی صلاحیت میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ہوا ہے اور شمسی توانائی کی صلاحیت 3,000 فیصدسے زیادہ ہو گئی ہے۔ جناب مودی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کامیابیوں پرہم آرام سے بیٹھے نہیں ہیں اور ملک کی توجہ نئے اور اختراعی شعبوں کو دیکھتے ہوئے موجودہ حل کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، یہ کہتے ہوئے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سبز ہائیڈروجن کی اہمیت سامنے آچکی ہے۔
‘‘سبز ہائیڈروجن دنیا کے توانائی کے منظر نامے میں ایک امید افزا اضافے کے طور پر ابھر رہی ہے’’۔
وزیر اعظم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان صنعتوں کو ڈیکاربونائز کرنے میں مدد دے سکتا ہے جن کی برقی کاری مشکل ہے۔ انہوں نے ریفائنریز، کھاد، اسٹیل، ہیوی ڈیوٹی ٹرانسپورٹیشن اور کئی دوسرے شعبوں کی مثالیں دیں جو اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ وزیراعظم جناب نریندر مودی نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ سبز ہائیڈروجن کو اضافی قابل تجدید توانائی کے ذخیرہ کے حل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 2023 میں شروع کیے گئے نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے،وزیر اعظم نے ہندوستان کوسبز ہائیڈروجن کی پیداوار،استعمال اور برآمد کا عالمی مرکزبنانےکے ہدف کا خاکہ پیش کیا۔وزیراعظم جناب نریندر مودی نے کہا‘‘نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن اختراع، بنیادی ڈھانچہ، صنعت اور سرمایہ کاری کو ترغیب دے رہا ہے’’۔ انہوں نے جدید تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری، صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری اور ڈومین کے اسٹارٹ اپس اور کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے گرین جابس ایکو سسٹم کی ترقی کے لیے بڑی صلاحیتوں کو بھی اجاگرکیا اور اس شعبے میں ملک کے نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کی ترقی کے لیے حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔
موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کی منتقلی کے عالمی خدشات کاذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایسے خدشات کے جوابات بھی عالمی ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ڈی کاربنائزیشن پر سبز ہائیڈروجن کے اثرات کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کی اہم ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پیداوار میں اضافہ، لاگت کو کم کرنا اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرباہمی تعاون کے ذریعہ تیزی سے ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تحقیق اور اختراع میں مشترکہ سرمایہ کاری کی ضرورت کا بھی ذکر کیا۔ ستمبر 2023 میں ہندوستان میں منعقدہ جی20 سربراہی اجلاس کاذکر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے سبز ہائیڈروجن پر خصوصی توجہ کو اجاگر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نئی دہلی جی-20 رہنماؤں کے اعلامیہ میں ہائیڈروجن کے بارے میں پانچ اعلیٰ سطحی رضاکارانہ اصولوں کو اپنایا گیا ہے جو کہ ہائیڈروجن کے متحدروڈ میپ کی تخلیق میں مدد کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا،‘‘ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے، جو فیصلے ہم اس وقت کررہے ہیں وہ ہماری آنے والی نسلوں کی زندگیوں کا فیصلہ کریں گے’’۔
وزیر اعظم مودی نے آج سبز ہائیڈروجن شعبے کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع تر عالمی تعاون پر زور دیا اور ڈومین ماہرین اور سائنسی برادری پر رہنمائی کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے سبز ہائیڈروجن انڈسٹری کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی مہارت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، ‘‘اس طرح کے ایک اہم شعبے میں، ڈومین کے ماہرین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ رہنمائی کریں اور مل کر کام کریں۔’’ وزیر اعظم نے سائنس دانوں اور اختراع کاروں کو عوامی پالیسی میں تبدیلیوں کو تجویز کرنے کی بھی ترغیب دی،جس سے کہ اس شعبے کو مزید مدد ملے گی۔ جناب مودی نے عالمی سائنسی برادری کے سامنے اہم سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا،‘‘کیا ہم سبز ہائیڈروجن کی پیداوار میں الیکٹرولائزرز اور دیگر اجزاء کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں؟ کیا ہم پیداوار کے لیے سمندرکے پانی اور میونسپل کے فضلہ کے پانی کے استعمال کے طریقے کو تلاش کر سکتے ہیں؟’’ انہوں نے ان چیلنجوں سے نمٹنے کی ضرورت، خاص طور پر پبلک ٹرانسپورٹ، شپنگ اور اندرون ملک آبی گزرگاہوں کے لیےسبز ہائیڈروجن کے استعمال پر روشنی ڈالی۔ وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ‘‘گرین ہائیڈروجن پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس جیسے فورمز ان مسائل پرپوری دنیا میں بامعنی تبادلے کو آگے بڑھائیں گے’’۔
چیلنجوں پر قابو پانے کی انسانی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا، ‘‘ہر بار، ہم نے اجتماعی اور اختراعی حل کے ذریعہ مشکلات پر قابو پایا’’۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اجتماعی عمل اور اختراع کا وہی جذبہ دنیا کو ایک پائیدار مستقبل کی طرف رہنمائی کرے گا۔ گرین ہائیڈروجن کی ترقی اور تعیناتی کو تیز کرنے کے لیے عالمی کوششوں پر زور دیتے ہوئے جناب مودی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا، ‘‘ہم جب ایک ساتھ ہوں تو ہم کچھ بھی حاصل کر سکتے ہیں’’۔ خطاب کے اختتام پر، وزیر اعظم نے گرین ہائیڈروجن پر دوسری بین الاقوامی کانفرنس کے تمام شرکاء کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایک سرسبز اور زیادہ پائیدار دنیا کی تعمیر میں تعاون کی ضرورت کو تقویت دیتے ہوئے کہا‘‘آئیے ہم گرین ہائیڈروجن کی ترقی اور تعیناتی کو تیز کرنے کے لیے مل کر کام کریں’’۔
یو این آئی ۔ ع خ -م ا
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
