جموں و کشمیر
کانگریس محبت کی دکان پر نفرت کا سامان بیچ رہی ہے:وزیر اعظم مودی
جموںوزیر اعظم نریندر مودی نے نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور کانگریس کوپاکستانی ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کاالزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ زمین پر کوئی طاقت دفعہ 370کو بحال نہیں کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کانگریس ، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے جموں وکشمیر میں سیاسی دکان چلانے کے لئے دہائیوں تک نفرت کا سامان بیچا ۔
وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ تینوں خاندانوں نے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ وبرباد کیا ہے۔
ان باتوں کا اظہار وزیر اعظم نے کٹرا جموں میں چناوی ریلی سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے انتخابی منشور میں دفعہ 370کی بحالی کا وعدہ کیا ہے لیکن میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا کی کوئی طاقت اس قانون کو بحال نہیں کرسکتی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا :’اس قانون کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کیا گیا اور کوئی سیاسی جماعت اس کو یہاں پر دوبارہ لاگو نہیں کرسکتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کانگریس ، این سی اتحاد کی وکالت کرتے ہوئے دفعہ 370اور 35اے کی بحالی کے حوالے سے دونوں پارٹیوں کے موقف کی تائید کی۔
انہوں نے کہاکہ پاکستانی وزیر دفاع کے اس بیان سے عیاں ہے کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس پاکستان کے ایجنڈے کو یہاں پر نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے کہا :’کانگریس نے مہاراجہ ہری سنگھ کو بدنام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی حکومت تھی جس نے دہلی سے کٹرا تک وندے بھارت ایکسپریس ٹرین شروع کی۔ مودی نے کہا کہ کٹرا اور ریاسی کے ریلوے اسٹیشنوں میں مزید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پکل ڈول ، رتیلے اور کیرو پارور پروجیکٹوں پر کام جاری ہے اور ان پروجیکٹوں سے یہاں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقعے فراہم ہونگے۔
ان کے مطابق ادھمپور میں ایک نئے میڈیکل کالج کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے ۔
نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہاکہ ان تین خاندانوں نے جموں وکشمیر کے لوگوں کو کافی زخم دئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ریاسی اور کٹھوعہ اضلاع کے ساتھ ان تینوں جماعتوں نے سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھا ۔
کانگریس کو نکسل سوچ رکھنے والی جماعت قرار دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہاکہ اسی نکسل سوچ کے تحت کانگریس نے ڈوگرہ کے خلاف بیان بازی کی۔
ان کے مطابق یہ کانگریس پارٹی ہی ہے جس نے ملک بھر میں بد عنوانی اور رشوت خوری کو فروغ دیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کانگریس محبت کی دکان پر نفرت کا سامان بیچتی ہے اور لوگوں کو اس پارٹی سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ نئے جموں وکشمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کی خاطر بی جے پی امید واروں کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں ۔
نریندر مودی نے کہا کہ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ جموں وکشمیر کے نوجوان ہندوستان کی جمہوریت کو کس طرح مضبوط کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا:’اس کے لئے میں جموں و کشمیر کے لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں’۔
عبداللہ،مفتی اور گاندھی خاندانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا: ‘یہی تین خاندان جموں وکشمیر کو چلانے کے ذمہ دار تھے،ان خاندانوں نے جموں وکشمیر کے لوگوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کی ہے’۔
یو این آئی – ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
