جموں و کشمیر
کوئی بھی طاقت دفعہ370 کو بحال نہیں کر سکتی ہے: امیت شاہ
جموں، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت دفعہ370 کو بحال نہیں کر سکتی ہے انہوں نے کہا کہ نریندرمودی کی قیادت والی مرکزی سرکار دہشت گردی کو گہرا دفن کرنے کے بعد ہی دم لے گی ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں پہلی بار دفعہ 370 اور الگ جھنڈے کے بغیر اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں وزیر داخلہ نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو چننی میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ’جموں وکشمیر میں پہلی بار ایسے چنائو ہو رہے ہیں کہ جب نہ دفعہ370 ہے اور نہ الگ جھنڈا ہے، ہمارے شیاما پر ساد جی نے کہا تھا کہ دو پردھان، دو نشان اور دو ودھان نہیں چل سکتے ہیں جس کے لئے انیوں نے اپنی جان دے دی اور مودی جی نے پانچ اگست 2019 کو دو پردھان، دو نشان ختم کر دئے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’نیشنل کانفرنس اور راہل گاندھی کہتے ہیں کہ ہم دفعہ370 کو واپس لائیں گے کشمیر کا جھنڈا واپس لائیں گے میں کہتا ہوں کہ اب کسی کی طاقت نہیں ہے کہ وہ دفعہ 370 کو بحال کر سکے‘۔
کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے امیت شاہ نے کہا: ’ان جماعتوں نے چالیس برسوں کے دوران جموں وکشمیر کو تباہ کیا چالیس برسوں تک یہاں دہشت گردی رہی، چالیس ہزار لوگ مارے گئے،ہر روز گولیاں چلتی تھیں بم دھماکے ہوتے تھے اور ان چالیس برسوں کے دوران تین ہزار دن کرفیو رہا لیکن جب مودی جی کی سرکار آئی تو نہ پتھر بازی ہوتی ہے تو بم دھماکے ہوتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا: ’جموں وکشمیر میں ایک بار پھر دہشت گردی کو واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،میں عمر صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کی جو مرضی ہو لیکن ہم دہشت گردی کو گہرا دفن کریں گے اور کسی طاقت نہیں کہ وہ یہاں دوبارہ دہشت گردی کو زندہ کر سکے‘۔
ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’میں نے جب دفعہ370 ہٹایا تو اسی وقت پارلیمنٹ میں ریاستی درجے کی بحالی کا وعدہ کیا جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ صرف پارلیمنٹ میں واپس دیا جائے گا‘۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو ریاستی درجہ ضرور واپس ملے گا لیکن اس کا دینا والا صرف نریندرمودی ہوں گے۔
عبداللہ، مفتی اور گاندھی خاندانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا: ’ان خاندانوں نے70 برسوں تک حکومت کی اور اب جموں وکشمیر میں جمہوریت لانے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان خاندانوں نے یہاں جمہوریت کو باندھ کے رکھا تھا جب مودی جی سرکار بنی تو یہاں پنچ سر پنچ بنے بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی انتخابات ہوئے جو پہلے نہیں ہو رہے تھے‘۔
انہوں نے کہا: ’نیشنل کانفرنس اور کانگریس پتھر بازوں اور دہشت گردوں کو رہا کرانا چاہتے ہیں کسی کو چھوڑنے کا کام عمر صاحب کا نہیں ہے بلکہ عدالت کا ہے، ہم نے ایسے قوانین لگا دئے ہیں کہ کوئی پتھر لگانے کی ہمت نہیں کرسکتا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’ کسی زمانے میں وزیر داخلہ کو لالچوک جانے سے ڈر لگتا تھا لیکن آج وہاں کوئی بھی بغیر ڈر کے جا سکتا ہے اور آج لالچوک میں یوم جمہوریہ، محرم اور جنم اشٹمی بغیر خوف کے منائی جاتی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ پہلے لالچوک میں ترنگا پھیلانے کے لئے کوششیں کرنا پڑتی تھیں لیکن آج ہر گھر میں ترنگا لہرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے لوگوں سے کنول کے پھول کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جموں کے ساتھ جو 70 برسوں تک نا اںصافی ہوئی جس کو مودی جی نے پانچ برسوں میں ہی ختم کر دیا۔
یو این آئی- ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
