جموں و کشمیر
بی جے پی درپردہ آزاد امیدواروں کی حمایت کر رہی ہے :عمر عبداللہ
سری نگرجموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر ،وسطی کشمیر ، خطہ چناب و پیرپنچال کا الیکشن مکمل ہوگیا ہے اور زمینی سطح سے سامنے آرہی رپورٹوں کے مطابق نیشنل کانفرنس نے دونوں مرحلوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ تیسرے مرحلے کیلئے شمالی کشمیر کے ووٹروں کو بھی سوجھ بوجھ اور بالغ النظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور فریبی و جذباتی نعرے لگانے والوں کو یکسر مسترد کرکے ایسے نمائندوں کو سامنے لانا ہوگاجو پارلیمنٹ میں نہ سہی لیکن اسمبلی میں ہی یہاں کے لوگوں کی آواز بن کر نمائندگی کرسکیں۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے اوڑی ، ترہگام اور سونا واری میں چناوی ریلیوں سے خطاب کے دوران کیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جنوبی کشمیر میں پارلیمانی انتخابات میں اس لئے ووٹ ڈالے کیونکہ ایک شخص کو رہا کرنے کی باتیں ہورہی تھیں، حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے تو اپنے ووٹ ڈالے لیکن وہ شخص رہا نہیں ہوا، اُسے صرف چند دن کیلئے چھوڑا گیا ہے تاکہ وہ یہاں ووٹوں کو تقسیم کرکے بھاجپا کے خاکوں میں رنگ بھرے سکے۔
انہوں نے کہاکہ آج آپ (شمالی کشمیر کے لوگ) آغا سید روح اللہ صاحب کی پارلیمنٹ میں تقریروں سے اپنا دل بہلا رہے ہیں کیونکہ آپ کا اپنا نمائندہ وہاں پر آپ کی آواز بلند کرنے سے قاصر ہے۔
این سی نائب صدر نے کہاکہ اسمبلی الیکشن کی صورت میں آپ کو ایک اور موقعہ ملا ہے، اس بار آپ کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ کہیں آپ کی آواز پھر سے نہ دب کر رہ جائے، اس بار آپ کو اپنے ووٹوں کا صحیح استعمال کرنا ہوگا، پارلیمنٹ میں نہ سہی کم از کم وہ نمائندے چُنئے جو سرینگر اور جموں میں قائم اسمبلیوں میں آپ کی آواز بلند کرسکیں اور آپ کے روز مرہ کے مسائل و مشکلات حل کرنے کیلئے آپ کیلئے دستیاب ہوں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی کشمیر کے ووٹوں اور منڈیٹ کو تقسیم کرکے ایسی اسمبلی بنانا چاہتی ہے جہاں سے وہ 5اگست 2019کے فیصلوں کو جواز بخش سکے اور اُن فیصلوں پر مہر لگا سکیں جن کے ذریعے ہم اپنی زمینوں کے حقوق سے محروم ہوئے، جن کے ذریعے ہمارے نوجوان نوکریوں کے حق سے محروم ہوگئے، جن کے ذریعے یہاں کے عوام اپنے دریاﺅں، پہاڑوں اور جنگلات کے حقوق سے محروم ہوگئے۔
انہوں نے کہاکہ بھاجپا نے یہاں کے لوگوں کو دکھ دئے، یہاں کے لوگوں کو تقسیم کرنے کی مذموم کوششیں کی، یہاں کے لوگوں کو ہر قسم کی پریشانیوں میں مبتلا کردیا، بڑے بڑے وعدے اور اعلانات تو کئے لیکن زمینی سطح پر عوام کُش پالیسی اختیار رواں رکھی۔
عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ آج 5اگست2019کو چھینے گئے 5سال سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے ، کس نوجوان کو روزگار کا آرڈر ملا؟ کس علاقے میں نیا کارخانہ لگا؟ کس جگہ پر سرمایہ کاری ہوئی؟ کس شعبے میں یہاں کے عوام کو راحت ملی؟ ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشکلات اور پریشانیوں کے سوا یہاں کے عوام نے کچھ نہیں دیکھا، یہاں کے عوام کو ہر لحاظ سے دبایا گیا، اور یہاں کے عوام کی آواز کو تقسیم کرنے کیلئے تمام مذموم حربے اپنائے گئے۔
این سی نائب صدر نے اجتماعات میں عوام سے اپیل کی کہ وہ نیشنل کانفرنس کو کامیاب بناکر اپنی اس آبائی جماعت کو اپنی راحت کا موقع فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ایک جامع راحتی پروگرام مرتب دیا ہے اور اسے اپنے منشور کے ذریعے عوام کے سامنے رکھا ہے اور ہماری حد درجہ کوشش رہے گی اگر ہماری حکومت آئی تو تمام وعدوں اور اعلانات پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
