جموں و کشمیر
جموں و کشمیر الیکشن: مجموعی طور پر 65.58 فیصد ووٹنگ ریکارڈ :الیکشن کمیشن آف انڈیا
سری نگر،جموں وکشمیر اسمبلی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے کے لئے سات اضلاع پر محیط چالیس سیٹوں پر پولنگ پر امن اور خوشگوار ماحول میں اختتام کو پہنچی ۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق آخری مرحلے پر مجموعی طورپر 65.58 فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولنگ مراکز پر صبح سے ہی ووٹروں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔
اسمبلی انتخابات کے اس آخری مرحلے کے لئے رائے دہندگان کی کل تعداد 39 لاکھ 18 ہزار2 سو22 ہےجن میں سے 20 لاکھ9 سو33 مرد جبکہ19 لاکھ9 ہزار1 سو30 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔
کشمیرصوبے میں منگل کو اسمبلی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں زائد از 61 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔
بارہمولہ ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ میں 16اسمبلی حلقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
حکام کے مطابق بارہ مولہ میں 47.95 فیصدووٹنگ درج ہوئی، اوڑی میں 64.81، رفیع آباد میں 58.39، پٹن میں 60.87، گلمرگ میں 64.19، سوپور میں 41.44اور واگورہ کریری میں 56.43فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔
کپواڑہ میں 59.68 فیصد، کرناہ میں 66.30 فیصد، ترہگام میں 62.27فیصد، ہندواڑہ میں 69.06فیصد، لولاب میں 61.22 فیصد اور لنگیٹ میں 59.81فیصد ووٹ پؑے ۔
بانڈی پورہ ضلع کے سونہ واری میں 65.56، بانڈی پورہ میں 62 فیصد، گریز میں 75.89فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی۔
پٹن، سوپور ، بارہ مولہ کو چھوڑ کر بارہ مولہ کی تیرہ نشستوں پر سال 2024کے پارلیمانی انتخابات کے مقابلے میں ووٹنگ شرح کم ریکارڈ کی گئی۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق کپواڑہ ضلع میں 62.76فیصد ، بانڈی پورہ میں 64.85اور بارہ مولہ میں 55.73فیصد پولنگ ہوئی ہے۔
دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیر میں پہلی مرتبہ اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے ، آج ووٹروں میں جوش و جذبہ دیکھا گیا ، یہاں تک کہ ان علاقوں میں بھی اچھے خاصے ووٹ پڑے جہاں پر بائیکاٹ کی روایت سالہا سال سے چلی آ رہی تھی۔
بارہ مولہ کا اولڈ ٹاون جو کھبی بائیکاٹ کا گڑھ سمجھا جاتا تھا وہاں پر بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
بارہمولہ کے میر صاحب محلہ کے رہائشی اشفاق احمد نے کہا، ”بائیکاٹ کا وقت گزر چکا ہے، جو لوگ کبھی اس کی وکالت کرتے تھے وہ بھی اب چناو میں حصہ لے رہے ہیں۔“
بارہ مولہ کے میر صاحب اور جلال صاحب پولنگ اسٹیشنوں میں پہلے دو گھنٹوں کی ووٹنگ کے دوران 1399میں سے 114ووٹ پڑے ۔
بارہ مولہ میں اس بار ووٹنگ شرح 47.95ریکارڈ کی گئی جبکہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں 52.15ریکارڈ ہوئی تاہم سال 2014کے اسمبلی الیکشن کے مقابلے میں اس بار ووٹنگ کی شرح میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
مرحوم حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی کے آبائی گاو ں سوپور میں بھی اس بار اچھی خاصی ووٹنگ ہوئی ۔ دوپہر ایک بجکر 45منٹ تک گورنمنٹ ڈگر ی کالج سوپور میں قائم پونچ پولنگ اسٹیشنوں پر 4ہزار 199میں سے 1ہزار 73ووٹ پڑے تھے۔
سوپور کے رہائشی طاریق احمد نے اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد کہاکہ آج پر امن ماحول میں لوگوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ہے۔
سوپور میں بھی اس بار پارلیمانی انتخابات کے مقابلے میں کم ہی ووٹنگ درج ہوئی ۔ پارلیمانی انتخابات میں یہاں 44.46فیصد ووٹ پڑے جبکہ اس بار 41.44افراد نے ہی اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
امسال جموں وکشمیر میں پارلیمنٹ اور اسمبلی انتخابات منعقد ہوئے ، شمالی کشمیر کے دیہی علاقوں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے لیکن کئی افراد ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ انتخابات فضول مشق ہیں۔
بارہمولہ کے ممبر پارلیمنٹ عبدالرشید شیخ کے آبائی حلقہ لنگیٹ سے سہیل احمد نے ان انتخابات پر شک و شبہات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہاکہ ” ماضی میں بھی الیکشن سے لوگوں کے مسائل حل نہیں ہوئے اور مستقبل میں بھی یہی روایت برقرار رہے گی۔‘‘
دریں اثنا صوبہ جموں میں جن 24 سیٹوں کی پولنگ ہو رہی ہے ان میں اودھم پور ویسٹ، اودھم پور ایسٹ، چنی، رام نگر (ایس سی)، بنی، بلاور، بسولی، جسروٹہ، کٹھوعہ (ایس سی)، ہیرا نگر، رام گڑھ (ایس سی)، سانبہ، وجے پور،بشنا (ایس سی)، سچیت گڑھ (ایس سی)، آر ایس پورہ، جموں سوتھ، باہو،جموں ایسٹ، نگروٹہ، جموں ویسٹ،جموں نارتھ،اکھنور (ایس سی) اور چھمب شامل ہیں۔
جموں کے پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سویرے ہی لوگوں کو قطاروں میں دیکھا گیا ۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق اکھنور میں شام سات بجے تک 76.28فیصد ووٹنگ ریکارڈ ہوئی، باہو میں 57.7فیصد، بانی میں 71.24، بسولی میں 67.24، بلاور میں 69.64، بشنا میں 72.75، چنانی میں 73.79، چھمب میں 77.35، ہیرا نگر میں 71.18، جموں ایسٹ میں 60.21، جموں نارتھ میں 60.79، جموں ویسٹ میں 56.31، جسروتہ میں 71.79، کٹھوعہ میں 71.49، مارہ میں 76.10، نگروٹہ میں 72.94، آر ایس پورہ میں 61.65، رام گڑھ میں 73.10فیصد، رام نگر میں 70.38، سانبہمیں 71.16، سچیت گڑھ میں 68.02، ادھم پور ایسٹ میں 74.7، ادھم پور ویسٹ میں 73.20، وجے پور میں 73.5فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی ۔
جموں کے آر ایس پورہ میں والمیکی سماج اور پاکستانی پناہ گزنیوں نے پہلی دفعہ اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔
قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے کی پولنگ یکم اکتوبر کو اختتام کو پہنچی جبکہ پہلے اور دوسرے مرحلے کی پولنگ بالترتیب 18 اور 25 ستمبر کو ہوئی۔ ووٹوں کی گنتی 8 اکتوبر کو ہوگی۔
یہ دفعہ370 کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر میں ہو رہے پہلے اسمبلی انتخابات ہیں۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے 500 گرام گانجا کے ساتھ منشیات کے اسمگلر کو گرفتار کیا
جموں، جموں و کشمیر پولیس نے فوجی کالونی کے علاقے میں منشیات کے 3 اسمگلروں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے تقریباً 500 گرام گانجا برآمد کیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق، معمول کی گشت کے دوران پولیس کی ایک ٹیم نے دشہرہ میدان کے قریب سینک پبلک اسکول کے سامنے 3 افراد کو روکا۔ اس کے بعد ان کی تلاشی لی گئی، جس میں تقریباً 500 گرام گانجا برآمد ہوا۔
ملزمین کی شناخت مغربی بنگال کے رہنے والے ایشَر علی اور مدھیہ پردیش کے چھترپور کے رہنے والے اجے اہروار اور منوج بنسل کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے تینوں کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔ برآمد شدہ منشیات کو مقررہ قانونی کارروائی کے تحت ضبط کرلیا گیا ہے اور ملزمین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
اس سلسلے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے کہ برآمد شدہ منشیات کہاں سے لائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ منشیات کی مبینہ سپلائی کے نیٹ ورک سے وابستہ تمام رابطوں کا بھی پتہ لگایا جا رہا ہے۔ جموں پولیس نے منشیات کی اسمگلنگ پر روک لگانے اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔
پولیس نے عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں مستند معلومات ڈائل 112 یا 9858034100 پر فراہم کریں۔ حکام نے کہا کہ اطلاع دینے والوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔
یو این آئی۔ ایم جے
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر پولیس نے جے کے آئی ایم کے خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، چار خواتین سمیت چھ افراد گرفتار
سری نگر، جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کے روز ممنوعہ تنظیم ‘جموں و کشمیر اتحاد المسلمین’ (جے کے آئی ایم) کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے چار خواتین سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا۔
بانڈی پورہ ضلع پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نیٹ ورک کو پاکستان میں موجود ایک ہینڈلر چلا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ نیٹ ورک علیحدگی پسند نظریات اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو فروغ دے رہا تھا، جس میں خاص طور پر خواتین کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔
پولیس نے گرفتار افراد میں کاچلو قاضی پورہ کے رہنے والے وحید احمد بھٹ کو اس معاملے کا مرکزی ملزم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بانڈی پورہ کے دچی گام کی رہائشی مبینہ بانو، چیک پنجی گام کی خوشبو جان، مہک جان اور عالیہ جان، نیز ہندواڑہ کے انن وان کے رہنے والے عرفان احمد ریشی عرف رئیس کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور نیٹ ورک کی سرگرمیوں، اس سے وابستہ دیگر افراد اور اس کے مبینہ رابطوں کے بارے میں معلومات جمع کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 2025 میں جے کے آئی ایم پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی تھی۔ تنظیم پر ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے، دہشت گردی کی حمایت کرنے اور علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزامات ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی خاموشی کو ہتھیار ڈالنا نہ سمجھا جائے: کے ڈی اے کی مرکز کو تنبیہ
سرینگر، مرکزی وزارت داخلہ اور لداخ کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت میں تعطل کے درمیان کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے ہفتے کے روز مرکز کو خبردار کیا کہ وہ لداخ کے لیے آئینی تحفظات اور جمہوری حقوق کے مطالبات کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنائے۔ الائنس نے کہا کہ عوام غیر معینہ مدت تک خاموش نہیں رہیں گے۔
کرگل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ڈی اے کے رہنماؤں نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو مسترد کردیا۔ ان کا الزام تھا کہ یہ تجویز سابقہ اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس میں درج وعدوں پر پوری نہیں اترتی اور لداخ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام ہے۔
کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) گزشتہ کئی برسوں سے لداخ کے لیے آئینی تحفظات کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں مرکز کے ساتھ بات چیت بھی کرتے رہے ہیں۔
کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کرگلی نے کہا کہ مجوزہ انتظام عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھ کر تیار نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے بقول اسے مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کے مفادات کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات مرکز کے سامنے پیش کردیے ہیں۔
کرگلی نے لداخ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ مسلسل احکامات اور نوٹیفکیشن جاری کرکے جمہوری حقوق کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الائنس آئینی تحفظات اور عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”ہم مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ کی اس آمرانہ روش کی مذمت کرتے ہیں، جس کے تحت ہم پر یکے بعد دیگرے احکامات مسلط کیے جا رہے ہیں۔ یہ لداخ کے عوام کے حقوق پر حملہ ہے۔”
ملک کے دیگر حصوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کرگلی نے کہا کہ لداخ کو ایک ”تجربہ گاہ” بنا دیا گیا ہے اور الزام لگایا کہ خطے کی سیاسی نمائندگی کو کمزور کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”لداخ کو ایک تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تو عوام کی نمائندگی ہی چھین لی گئی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے دیگر حصوں میں ووٹوں کی چوری کے الزامات سامنے آتے ہیں، جبکہ ان کے مطابق لداخ میں عوام کی سیاسی نمائندگی چھیننے کا معاملہ ہے۔
کے ڈی اے کے دوسرے شریک چیئرمین اسگر علی کربلائی نے کہا کہ لداخ میں چھائی خاموشی کو خوف یا ہتھیار ڈالنے سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ”طوفان سے پہلے کی خاموشی” ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”انتظامیہ کو موجودہ خاموشی کو خوف، تابع داری یا ہتھیار ڈالنے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔”
کربلائی نے بتایا کہ کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی گزشتہ چھ برس سے مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ اپنے چار نکاتی ایجنڈے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ریاست کا درجہ اور آئینی تحفظات ان کے دو اہم مطالبات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 مئی کو منعقدہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس میں، جن پر 7 جولائی کو دستخط کیے گئے تھے، لداخ کے لیے خصوصی انتظامی ڈھانچے پر اتفاق درج تھا۔ اس انتظام میں قانون سازی، انتظامی اور مالی اختیارات کے ساتھ آئینی تحفظات فراہم کرنے کی بات شامل تھی۔
تاہم، ان کا الزام تھا کہ 15 اکتوبر کے اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کردہ خاکہ ان وعدوں کے برعکس تھا اور اس میں بامعنی اختیارات یا آئینی ضمانتوں کے بغیر ایک انتظامی ڈھانچہ پیش کیا گیا۔
کربلائی نے کہاکہ ”جن حقوق کو فراہم کرنے پر تحریری طور پر اتفاق کیا گیا تھا اور جن کے لیے اجلاس کی کارروائی کے منٹس پر دستخط کیے گئے تھے، اب وہی حقوق ہمیں دینے سے انکار کیا جا رہا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ مجوزہ کونسل کو بامعنی مالی اختیارات حاصل نہیں ہیں، نہ ہی اسے زمین سے متعلق معاملات پر اختیار دیا گیا ہے اور نہ ہی آزادانہ انتظامی اختیارات فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی نے آئینی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اس تجویز پر اپنا تفصیلی جواب مرکز کو پیش کردیا ہے۔
کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اس معاملے میں مزید تاخیر کرتی ہے تو الائنس اپنی احتجاجی تحریک تیز کردے گا۔
انہوں نے کہاکہ ”اگر کل ہمیں اپنے ایجنڈے اور مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنا پڑا، تحریک چلانی پڑی، احتجاج کرنا پڑا، بند کی اپیل کرنی پڑی، ہڑتال کرنی پڑی یا جیلیں بھرنی پڑیں تو ہم ایسا کریں گے۔”
لداخ کے رکن پارلیمنٹ حاجی محمد حنیفہ جان نے کہا کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے نے ان امیدوں کو ختم کردیا ہے جو سابقہ بات چیت کے دوران پیدا ہوئی تھیں، جب دونوں فریق ایک انتظامی نظام کے بنیادی خدوخال پر متفق ہوگئے تھے۔
انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ ملتوی شدہ اجلاس جلد از جلد طلب کیا جائے اور دستخط شدہ منٹس میں درج وعدوں کے مطابق مسودہ پیش کیا جائے۔
جان نے کہا کہ لداخ کے عوام اپنی پالیسیاں خود طے کرنا اور خطے کی ترقی کی سمت کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الائنس لداخ میں امن برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل تاخیر سے عوام میں، خصوصاً نوجوانوں میں، ایک بار پھر غم و غصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مجوزہ انتظامی ڈھانچے کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کے ڈی اے نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ اپنے ایجنڈے سے دست بردار نہیں ہوگا۔ الائنس نے مرکزی وزارت داخلہ اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان ضوابط کو واپس لیں جنہیں وہ لداخ کے عوام کے مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
-
ہندوستان1 week agoیوپی، اتراکھنڈ اور پنجاب انتخابات سے پہلے بی ایس پی کے خلاف ‘فرضی سروے’ کی تشہیر، کارکنان ہوشیار رہیں: مایاوتی
